وزیراعظم کا احترام کیوں نہیں ہوتا؟

وزیراعظم کا احترام کیوں نہیں ہوتا؟

قومی اسمبلی کا اجلاس وزیر خزانہ کی طرف سے پیش کردہ ’’اصلاحاتی پیکیج‘‘ کی منظوری کے بغیر ہی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو گیا،اجلاس میں وہ ہنگامہ اب تک جاری تھا جو وزیراعظم عمران خان کے ایک معاونِ خصوصی نعیم الحق کے ٹویٹ سے شروع ہوا تھا اِس ٹویٹ میں انہوں نے قائدِ حزبِ اختلاف سے کہا تھا کہ ’’شہباز شریف ایوان میں وزیراعظم کے ساتھ تمیزسے پیش آئیں یا وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے پروڈکشن آرڈرواپس لے کر اُنہیں جیل بھیجا جائے‘‘۔ مسلم لیگ (ن) اور دوسری اپوزیشن جماعتیں اس ٹویٹ پر زبردست ردعمل کا اظہار کر رہی ہیں، ایوان کے اندر بھی اور باہر بھی باہمی لفظی گولہ باری اِس حد تک بڑھی کہ ’’منی بجٹ‘‘ پر بحث شروع کرائے بغیر ہی اجلاس ملتوی کرنا پڑا، تاہم پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر گولہ باری کا یہ مقابلہ جاری رہا، مسلم لیگی رہنماؤں نے کہا کہ اگر قائدِ حزبِ اختلاف اسمبلی میں نہ آیا تو قائدِ ایوان (وزیراعظم) بھی نہیں آ سکے گا۔ معاونِ خصوصی کی کوئی حیثیت نہیں، گالی دے کر نمبر بنانا اُن کی پرانی عادت ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہنگامہ آرائی کی ذمہ دار کنٹینر سیاست ہے، نیازی صاحب کی دکان میں بیچنے کی کوئی چیز نہیں یہ فسادی ذہنیت کے مالک ہیں، جس کے جواب میں تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا کہ شہباز شریف کو اسمبلی نہیں جیل میں ہونا چاہئے۔ ان کے خلاف نیب انکوائری مذاق بن گئی، ان کو وزیراعظم کا احترام کرنا چاہئے۔

جہاں تک وزیراعظم کے احترام کا تعلق ہے ایسا لازماً ہونا چاہئے،کیونکہ اس منصب کا تقاضا یہی ہے،لیکن یہاں سوال صرف اتنا ہے کہ کیا اب کی بار کوئی ایسا وزیراعظم آ گیا ہے، جو اِس سے پہلے اس مُلک کے لوگوں نے کبھی دیکھا نہ سُنا ملک کے پہلے جلیل القدر وزیراعظم لیاقت علی خان کو تو بھرے جلسے میں شہیدکردیا گیا۔ بعدازاں بھی بہت سے وزرائے اعظم جو یہ منصب سنبھالتے رہے اتفاق کی بات ہے کہ کِسی نہ کِسی وجہ کی بنا پر اس عہدے سے ذِلّت کے ساتھ رخصت ہوتے رہے، نواز شریف اس قافلے کے تاحال آخری راہی ہیں، جنہیں اقامے کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا، ان کے عہد میں موجودہ وزیراعظم نے اسلام آباد میں پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر ایک مشہور عالم دھرنا دیا تھا۔ اس دھرنے میں وزیراعظم کو کیا کچھ نہیں کہا گیا، اُنہیں کن کن القابات سے نہیں نوازا گیا اور آج تک اُن کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا جا رہا، اس سب کو بھول کر شہباز شریف پر گرفت کر لی گئی جو ’’منی بجٹ‘‘ سے پہلے نکتہ وضاحت پر یہ کہہ رہے تھے کہ اُن کے دور میں جب ماڈل ٹاؤن کا سانحہ ہوا تو انہوں نے فوراً ایکشن لیا تھا، لیکن اس کے باوجود عمران خان نہ صرف شہباز شریف، بلکہ نواز شریف کا استعفا بھی مانگ رہے تھے، جب یہ بات کہی جا رہی تھی ایوان میں ’’گو نیازی گو‘‘ کے نعرے بھی لگ گئے۔

جن لوگوں کو اِس نعرے پر حیرت ہو رہی ہے، یا جو اِس پر سیخ پا ہیں اور شہباز شریف کو وزیراعظم کا احترام کرنے یا جیل کی دھمکیاں دے رہے ہیں اُنہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ اِس ایوان کے درو دیوار نے اِس طرح کا نعرہ کوئی پہلی دفعہ نہیں سُنا، پارلیمینٹ ہاؤس کی یہ عمارت جب سے تعمیر ہوئی ہے اِس طرح کے نعرے سنتی آئی ہے، اللہ مغفرت کرے صدر غلام اسحاق خان جب اسمبلی میں خطاب کے لئے آئے تو اُن کا ’’گو بابا گو‘‘ کے نعروں سے استقبال کیا گیا اور ان کی پوری تقریر کے دوران نعرے کے ساتھ ساتھ ڈیسک بھی بجائے گئے۔ غلام اسحاق خان نے90ء میں پہلی مرتبہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو برطرف کر کے اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کرائے تھے، جن کے نتیجے میں نواز شریف کی حکومت بنی تو وہ پارلیمانی سال کے شروع میں روایت پر عمل کرتے ہوئے خطاب کرنے آئے تھے،اُن کے بعد فاروق لغاری نے بطور صدر خطاب کیا تو اُنہیں بھی ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا،یہاں تک کہ باوردی صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی مختلف سلوک نہیں کیا گیا وہ اس پر اتنے ناراض ہوئے کہ پوری اسمبلی کو ہی بدتمیز قرار دے ڈالا۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ جو کچھ ماضی میں ہوتا رہا وہ اب ضرور دہرایا جانا چاہئے، قطعاً نہیں،لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایوان کے اندر شور شرابے ،ایجنڈے اور بجٹ کی کاپیاں پھاڑنے، نعروں اور سپیکر ڈائس کا گھیراؤ، نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کرنے کی روایت اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ اب آسانی سے ختم کرنا ممکن نہیں رہا۔ شہباز شریف نے اگر یہ کہہ دیا کہ عمران خان کے اپنے انصاف کے پیمانے کے مطابق اب اُنہیں استعفا دینا چاہئے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی، جس پر جنر بز ہو کر ٹویٹ کرنے کی ضرورت پیش آتی، یہ تو مکافاتِ عمل ہے اگر کل کے وزیراعظم کا احترام کیا گیا ہوتا تو آج کے قائدِ ایوان کو بھی احترام ملتا، اب تو کچھ بھی غیر معمولی نہیں ہو رہا، محض ایکشن ری پلے ہو رہا ہے، جو کیسٹ کل چل رہی تھی آج اس کا ریکارڈ صرف نام بدل کر چلایا جا رہا ہے تو اس پر اتنا غصہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، آج صبرو تحمل کے ساتھ نہ صرف یہ کیسٹ سنی جائے،بلکہ اگر اللہ رب العزت توفیق دے تو بنی گالہ کے کِسی کُنج تنہائی میں بیٹھ کر نعیم الحق یہ بھی غور کر لیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا آغاز کب اور کہاں ہوا تھا، اور اِس میں اُن کی جماعت، ان کے لیڈروں اور خود ان کا اپنا کتنا حصہ ہے؟ ویسے بھی ابھی ’’ابتدائے عشق‘‘ ہے آگے آگے ایسا بہت کچھ ہوگا جو ناپسندیدہ ہونے کے باوجود جاگتی آنکھوں سے دیکھنا پڑے گا۔

جو لوگ آج حکومت میں ہیں انہوں نے بھی ہمیشہ نہیں رہنا، انہیں بھی مدت پوری کر کے(یا پوری کئے بغیر) حکومت کے ایوان خالی کر جانے ہیں اِس لئے بہتر ہے کہ وہ کسی جعلی یا اصلی زعم میں غصے سے بھرے ہوئے ٹویٹ کرنے کی بجائے اپنی ذات کا محاسبہ بھی کریں۔ یہ تو بہت ہی سادہ سا سوال ہے کہ کل جو زبان اور جو نعرے جائز تھے وہ آج ناجائز اور ناروا کیسے ہو گئے؟ کیا آج جو لوگ یہ نعرے لگا رہے ہیں وہ اسی طرح کے گوشت پوست کے انسان نہیں ہیں جیسے آپ ہیں۔ اگر کل آپ ایسے نعرے لگاتے ہوئے اس وقت کے وزیراعظم کے کِسی احترام کے قائل نہیں تھے اور جو مُنہ میں آتا تھا، بیان فرماتے چلے جا رہے تھے تو آج لوگوں سے یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ آپ کی قائم کی ہوئی درخشاں روایات کو آگے نہیں بڑھائیں گے اور آپ کے محض ایک ٹویٹ سے گھبرا کر اپنا طرزِ عمل شائستہ بنا لیں گے، جب دو متحارب فریق آمنے سامنے ہوں تو شائستگی کا مظاہرہ دو طرفہ ہوتا ہے۔ اگر ایک فریق ایسا نہیں کرتا تو دوسرا بھی نہیں کر سکتا، ایسے مظاہر ماضی میں بھی بہت دیکھے گئے، آج بھی دیکھے جا رہے ہیں اور آئندہ بھی دیکھے جاتے رہیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ