چاہواں ہُندیاں سن ساڈے زمانے وچ

چاہواں ہُندیاں سن ساڈے زمانے وچ
چاہواں ہُندیاں سن ساڈے زمانے وچ

  

چائے یا کافی ہمارے یہاں باقاعدہ غذا شمار نہیں ہوتی ، لیکن فائدے گنوانا چاہیں تو دھیان اِن مشروبات کی مجلسی افادیت کی طرف ضرور جائے گا۔ کم از کم شعبہء ابلاغیات کے کیفے ٹیریا میں جمعہ کی سہ پہر میرے ساتھ یہی ہوا ۔ اپنے لئے ایک پیالی کافی کا آرڈر دیا تھا ، لیکن پچاس پچپن منٹ گزرنے پر پے منٹ کا مرحلہ آیا تو بِل پانچ کافیوں اور تین کپ چائے کا تھا۔

اطمینان کا پہلو یہ کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں چائے اور کھانوں کی قیمتیں ابھی تک ایم ایم عالم روڈ اور وائی بلاک کے ہوش ربا نرخوں کا مقابلہ نہیں کرتیں ۔

پر زیادہ خوشی یہ تھی کہ چائے کافی کے بہانے میری میزبانی میں مِل بیٹھنے والے نوجوانوں کا حلقہ دیکھتے ہی دیکھتے پُررونق ہو گیا۔بالکل ویسے جس طرح نئی صدی سے بہت پہلے ہم بھی اپنے اُستادوں کے ساتھ نیم دائرے میں بیٹھا کرتے تھے ، جسے یاد کر کے اب بلاتکلف کہہ سکتے ہیں کہ ’’چاہواں ہُندیاں سن ساڈے زمانے وچ ، ہُن تے اوہ چاہواں ای نئیں رھیاں‘‘۔

اِس بزرگانہ رعونت کی شانِ نزول یہ ہے کہ ہمدمِ دیرینہ طاہر بخاری سے ملاقات پہلے ہی طے تھی۔وہی بخاری صاحب جنہوں نے ماضئ قریب میں بطور پرنسپل ایم اے او کالج کو ایک بار پھر فیض احمد فیض اور ایم ڈی تاثیر کا کالج بنانے کی کوشش کی ۔ اُنہی کی موجودگی کیفے ٹیریا میں عثمان ابراہیم کو کھینچ لائی ، جو ایک کالج میں ماس کمیونیکیشن کے صدر شعبہ رہ کر اب لاٹ صاحب کے دفتر میں گلشن کا کاروبار چلا رہے ہیں ۔ مجید نظامی مرحوم نے روزنامہ ’نوائے وقت‘ کی اشاعت کے ستر برس ہونے پر جو خصوصی ایڈیشن شائع کیا اُس کے لئے عثمان کی جانفشانی کا مَیں خود چشم دید گواہ ہوں ۔ محفل میں شریک عماد نامی نوجوان بھی ، جو تدریس ہی سے وابستہ ہیں ، ’وقت نیوز‘ میں ہمارے ڈیسک پہ کام کرتے رہے ۔ میری میزبانی کا ہدف بننے والے دو شاگرد البتہ ایسے تھے جو اِن دونوں کے برعکس ابھی پی ایچ ڈی کی منزل تک نہیں پہنچے۔

ناصر کاظمی ایسے موقعوں پر کہا کرتے کہ ’’پرانی صحبتیں یاد آرہی ہیں ‘‘ اور پھر اِس منفرد غزل گو سے چراغوں کا دھواں نہ دیکھا جاتا ۔ شدید سردی میں کیفے کی نیم منجمد چھپر کھٹ کے نیچے مجھے چراغوں کا دھواں تو نظر نہ آیا ، لیکن اُن محفلوں کی جھلک ضرور دکھائی دے گئی ،جہاں گرم مشروب کی سُرکیوں نے ہماری چائے نوشی کو آہستہ آہستہ ایک روحانی عقیدے میں تبدیل کر دیا تھا ۔ اِس کا سہرا جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ کی بی اے کلاس میں ہمارے انگریزی کے استاد اور پنجابی کے صاحبِ طرز شاعر زمرد ملک کے سر ہے ۔ ہاں ، اِس کی شروعات واہ کی دسویں جماعت میں اُس وقت ہو گئی تھی جب گرمیوں کی چھٹیوں میں اردو کے ٹیچر اور سکول میگزین کے مدیراعلیٰ مولانا بشیر احمد صمصام نے ساری مجلسِ ادارت کو ایک ماہ میں پروف ریڈنگ سکھانے کا تہیہ کر لیا ۔ دن میں دو مرتبہ چائے ہمیں سکول کی طرف سے ملا کرتی۔

پھر آیا اِسی شہر کے انٹر میڈیٹ کالج کا مرحلہ ۔ یہی وہ دور ہے جب اسٹوڈنٹس یونین کا بلا مقابلہ سیکرٹری بنائے جانے کا جھانسہ ملتے ہی مَیں نے پنجاب کی سیاسی روایت کے عین مطابق ، اپنے ہی انتخابی پینل سے دغا بازی کا فیصلہ کر لیا۔یہاں ریکارڈ کی درستی کے لئے بتاتا چلوں کہ اینٹی ایوب خاں تحریک سے کچھ ہی دن پہلے اپنے مخالف گروپ سے وٹہ سٹہ کا رشتہ جوڑنے کا ہمارا خفیہ سمجھوتہ بھی یارِ عزیز راجہ حسن اختر کی دکان پر چائے کی پیالی پہ ہوا تھا۔ اِس سے یہ تاثر نہ لیجئے کہ پاک بھارت بالواسطہ مذاکرات کی طرز پر مذکورہ بیک چینل ڈپلومیسی کے پیچھے ہمارے اساتذہ کی وضع کردہ کسی حکمتِ عملی کو دخل ہو گا ۔

معاذ اللہ ، ثم معاذ اللہ۔ یہ لیڈری کے چکر میں میری اور حسن اختر کی سازش تھی۔ وگرنہ ہماری یونین کے نگران پروفیسر محمد اجمل صدیقی نے تو ہمیں یونین چلانے کے لئے ایک باضابطہ دستور بنا کر دیا تھا ، ہر چند کہ ہم نے اِس دستور کے ساتھ وہی کچھ کیا جو تیسری دنیا میں ملکی آئین سے کیا جاتا ہے۔

ایک برس بعد سیالکوٹ میں چائے کے عشق میں ’ہمہ اوست‘ کی اولین منزل امام علی الحق یا پیر مرادیہ کا مزار نہیں ، جناح اسلامیہ کالج کی کینٹین ہے ، جسے ہمارے پیر و مرشد ، پروفیسر زمرد نے ہمیشہ ٹک شاپ ہی کہا ۔ پہلے دن زمرد ملک سبز رنگ کی کرسیوں اور میز والے ایک کونے میں یوں بیٹھے دکھائی دئے کہ عقب میں دیوار اور سامنے کی طرف کینٹین کا بڑا دروازہ تھا، لیکن دھوپ کو روکنے کے لئے دونوں پٹ بند ۔ میز پر چائے کے خالی برتن اور کیونڈر سگریٹ کا پیکٹ۔ہمیں دیکھتے ہی مسکرائے اور چاچا جی امین سے بہت تپاک کے ساتھ بازو کو لمبا کر کے مصافحہ کیا ، جو یہ کہہ کر مجھے مرے کالج کی بجائے جناح اسلامیہ لے گئے تھے کہ میرا یہ پروفیسر دوست انگلش کا پرفیکٹ استاد ہے ۔ زمرد صاحب نے مجھ سے بھی ہاتھ ملایا اور کینٹین کے مینجرکو آواز دی کہ سب کے لئے چائے۔ یہ ملاقاتوں کی ابتدا ہے۔

ایڈمشن فارم ہم پہلے ہی جمع کرا چکے تھے اور انٹر میڈیٹ میں فرسٹ ڈویژن کی بدولت داخلے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ اِس کے باوجود ، پروفیسر نے اچانک یہ کہہ کر جان نکال دی کہ اُن کے دل میں فرسٹ کلاس لینے والوں کے خلاف تعصب ہے ، اِس لئے ایک چھوٹا سا ٹیسٹ لیا جائے گا ۔ ’’چلو ، اِن تین جملوں کا زبانی ترجمہ سنا دو۔۔۔ تم اُسے کس حد تک جانتے ہو؟۔۔۔اپنی قمیض کے بٹن بند کرو۔۔۔وہ اپنا کام ختم کر چکا ہو گا‘‘ ۔ مَیں نے ترجمہ کر دیا ، جو درست تھا ۔ شکر ہے میرا امتحان لینے کے لئے انہوں نے مختلف سبزیوں کے انگریزی نام نہ پوچھے ، جو انگلستان میں سالہا سال رہنے اور کام کرنے کے باوجود مَیں آج بھی روانی سے نہیں بتا سکتا ۔ زمرد ملک نے کہا تھا ’’یار مائینڈ نہ کرنا ۔ آج کل کے پروفیسروں کو بھی یہ فقرے نہیں آتے ۔‘‘ پچاس سال پہلے کی بات ہے ، سو ہو سکتا ہے اِس رائے میں حقیقت پسندی سے زیادہ پروفیسر زمرد کی حسِ مزاح کو دخل ہو ۔

ہر روز کا اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر یہ بنا کہ انگریزی کی کلاس ختم ہوتے ہی ہم دونوں خوشگوار موڈ میں کینٹین کے اُس کمرے میں پہنچتے جو استادوں کے لئے تھا ۔ جاتے ہی آرڈر ’’سب کے لئے چائے‘‘ ۔ یہ کبھی نہ کہا کہ اتنے آدمیوں کے لئے لے آؤ ۔ سب کی مرضی کا موضوع ہوتا تو سبھی لوگ کوئی نہ کوئی بات ضرور کرتے۔

وگرنہ زمرد صاحب کے بقول ہماری اپنی ’کانفرنس‘ شروع ہو جاتی ، جس میں اُن کے اونچا بولنے کی نوبت کبھی نہ آئی۔یہ بھی ہوا کہ اساتذہ کے کمرے میں کھپ زیادہ ہے ، اس لئے دوسرے ہال میں طالب علموں والی میز کرسیوں پہ بیٹھ گئے ۔ ’’پتا نہیں لوگوں کو کیا کامپلیکس ہے ، مجھے تو اسٹوڈنٹس والے کمرے میں کبھی اپنی عصمت خطرے میں محسوس نہیں ہوئی‘ ‘ ۔ ہماری جو کانفرنسیں ہوتیں ، اُن میں آلڈس ہکسلے ، سگمنڈ فرائڈ ، جیمز فریزر اور وِل ڈیوراں کا آنا جانا لگا رہتا ۔ اسی طرح امرتا پریتم ، احمد راہی ، دلیپ کور ٹوانہ ، بلونت گارگی ، جسونت سنگھ کنول اور ہر بجن سنگھ کومل بھی اکثر شریکِ محفل ہوتے۔

’چائے خوانی‘ کے اِسی تسلسل نے میرے لئے جناح اسلامیہ کو گورڈن کالج راولپنڈی سے جوڑ دیا، جہاں پروفیسر نصراللہ ملک کو اُن کی اقامت گاہ سے پچھلے گیٹ کے راستے کیمپس میں داخل ہوتے دیکھنا ایک خوشگوار صبح کا آغاز ہوتا ۔ گہرے رنگ کا سوٹ ، پُرکشش، مگر بارعب مسکراہٹ ، بازو کمر کے پیچھے، لیکن ایسے زاویے پر کہ دائیں بازو کی کہنی پر بائیں ہاتھ کی انگلیاں ٹِکی ہوتیں ۔ ’سلام علیکم ، سر‘ ’سلام علیکم ، بیٹا‘ ۔ ’سلام علیکم ، سر‘ ’سلام علیکم ، بیٹا‘ ۔ ہمارے صدر شعبہ ڈاکٹر فرانسس زیویئر کی ’گڈ مارننگ‘ کی طرح ، ملک صاحب کی علیک سلیک میں بھی جوابی تپاک ہمارے سلام سے بڑھ کر ہوتا ۔

کلاسیں ختم ہوتے ہی بعض طلبہ چونی والی مکس چائے میں اضافی ملائی کی خاطر شبنم ہوٹل کا رخ کرتے اور کئی ایک گراموفون ریکارڈ سننے کے لئے کیفے زم زم پہنچ جاتے۔ ایک دن قیصر ہوٹل میں چائے پیتے پیتے پروفیسر نصراللہ اٹھ کر ہماری میز پہ آگئے ۔’بیٹا ، آپ کی باتیں بہت دلچسپ ہیں ، اجازت ہو تو آپ کے پاس بیٹھ جاؤں‘ ۔ مجھے اُس دن پتا چلا کہ تدریسی جادو گری کہتے کسے ہیں۔ اُس کے بعد اللہ دے اور بندہ لے۔

نصر اللہ ملک تھے تو تاریخ کے استاد ، لیکن عالمی تہذیبوں اور مذاہب کا تقابلی جائزہ اُن کی توجہ کا مرکز ہمیشہ رہا ۔ ساتھ ہی انگریزی ، فرانسیسی ، روسی ، جرمن اور دنیا جہان کا افسانوی ادب اور ڈرامے ، جن میں سے بعض جوبلی ہال میں اُن کی زیر ہدایت پیش کئے گئے ۔ کئی مریکی ناول نگاروں کے علاوہ سال بیلو اور گُنتر گراس کے نام ہم نے اُنہی سے سنے تھے۔

ایک مرتبہ کہنے لگے کہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں شہرہ آفاق برطانوی تاریخ داں آرنلڈ ٹائن بی گورڈن کالج آئے تو کسی نے تعارف یہ کہہ کر کرایا ’’اِن سے ملیے ، یہ ہمارے ٹائن بی ہیں ‘‘ ۔

’’وہ کیسے؟‘‘ ٹائن بی نے پوچھا ’’اِنہوں نے ا سٹدی آف ہسٹری کی بارہ کی بارہ جلدیں پڑھ رکھی ہیں‘‘۔۔۔ ust be crazy m ۔۔۔ٹائن بی کے منہ سے نکلا ۔ قصہ سناتے ہوئے نصراللہ ملک نے ’کریزی‘ کا ترجمہ کیا تھا ’جھلا‘ ۔ لیکن اُن کے جیتے جی مجھے یہ پوچھنے کا خیال کبھی نہ آیا کہ ’’سر ، آپ نے اُس دن ٹائن بی کے ساتھ چائے پی تھی یا نہیں؟‘‘

مزید : رائے /کالم