امریکہ میں شٹ داؤن جزوی طور پر 15فروری تک کیلئے ختم ، معیشت کو 6ارب ڈالر کا نقصان پہنچا

امریکہ میں شٹ داؤن جزوی طور پر 15فروری تک کیلئے ختم ، معیشت کو 6ارب ڈالر کا ...

واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف) امریکی کانگریس میں رواں سال کیلئے چند محکموں کے بجٹ پر ریپبلکن اور ڈیموکرئیک پارٹیوں کے در میا ن مستقل سمجھوتہ نہ ہونے کے سبب یہ مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہوسکا تاہم عبوری اور عارضی طریقے سے اسے ٹال ضرور دیا گیاہے، اسکی وجہ سے 21دسمبر سے جاری 35 روز ریکارڈ جزوی شٹ ڈاؤن کو دونوں جماعتوں نے ایک نئی مفاہمت کے تحت تین ہفتوں کیلئے 15فروری تک ختم کردیا ہے حکومت کے شٹ ڈاؤن سے صدر ٹرمپ پر شدید دباؤ تھا اسلئے انہوں نے پانچ ارب ستر کروڑ ڈالر کے جنوبی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کیلئے فنڈ فراہم کرنے کے مطالبے کو وقتی طور پر واپس لے کر اس فنڈ کے بغیر اخراجاتی بل کو منظور کرنے کا عندیہ دیا تھا اور اب اس پر دستخط بھی کردیئے ہیں ۔ نئے مفاہمتی بل کے ذریعے وفاقی حکومت کے ان باقی ماندہ محکموں کو 15فروری تک فنڈ فراہم ہوجائیگا جن کا سا ل رواں کا مستقل بجٹ منظور کرنے پر سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔ اس عبوری بل کی وجہ سے ان محکموں کے جن میں ہوم لینڈ سکیورٹی کا حساس محکمہ بھی شامل ہے کے آٹھ لاکھ ملازمین کام پر واپس آسکیں گے اور انہیں پندرہ فروری تک کی تنخواہ ملنے کی ضمانت مل گئی ہے تاہم اگر 15فروری سے قبل مزید مدت تک باقی ماندہ پورے مالی سال کیلئے فنڈ فراہم کرنے کا سمجھوتہ نہ ہوسکا تو شٹ ڈاؤن دوبارہ شروع ہوسکتا ہے گزشتہ روز ر و ز نامہ پاکستان نے اطلاع دی تھی کانگریس کی دونوں جماعتوں کے درمیان عبوری طور پر مفاہمت ہوچکی ہے جسے صدر ٹرمپ کی تائید حا صل ہے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس سے اپنے براہ راست خطاب میں صدر ٹرمپ نے عبوری سمجھوتہ طے پانے کی باقاعدہ تصدیق کردی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے یہ تاثر دیاکہ وہ میکسیکو کیساتھ جنوبی سرحد پر دیوار کی تعمیر کیلئے فنڈ کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہو ئے تا ہم شٹ ڈاؤن کے خاتمے کیلئے عبوری مفاہمتی بل میں اس فنڈ کو شامل نہ کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔

شٹ ڈاؤن

واشنگٹن( بیوروچیف) امریکی حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کے باعث معیشت کو کم از کم چھ ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے ،شٹ ڈاؤن کے35 روز تک جاری رہنے کے بعد اس کے عارضی خاتمے کا اعلان سامنے آنے پر یہ تخمینہ عالمی معیشت کا جائزہ لینے والی معروف کمپنی ایس اینڈ گلوبل ریٹنگنیز نے پیش کیا ،شٹ ڈاؤن کی وجہ سے وفاقی حکومت کے آٹھ لاکھ ملازمین بغیر تنخواہ کے کام کرتے رہے اور اس بحرانی کیفیت کے باعت کاروبار میں کمی واقع ہوگئی۔ یہ سارا بحران صدر ٹرمپ کے مطالبے کی وجہ سے ہوا جو بل میں میکسیکو سے ملحق جنوبی سرحد پر دیوار کی تعمیر کیلئے پانچ ارب سترکروڑ ڈالر کا فنڈ بجٹ میں شامل کرانا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے وفاقی ملازمین کے دباؤ کی وجہ سے وہ عبوری طور پر عارضی فنڈ فراہم کرنیوالے ایک بل کو منظور کرنے پر رضا مند ہوگئے ، تاہم صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے تین ہفتے کی عبوری مد ت ختم ہونے تک اگر ڈیمو کریٹس کیساتھ سمجھوتہ نہ طے پاسکا تو کانگریس سے بالا بالا قومی ایمرجنسی نافذ کرکے یہ فنڈ حاصل کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ تاہم ایک چوٹی کے اقتصادی ماہرلیری کڈلو نے حوصلہ افزاء جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے ان کے خیال میں اس شٹ ڈاؤن کے امریکی معیشت پر اثرات دیریا نہیں ہونگے۔

مزید : صفحہ اول