رنگ کا تماشا! بہادری کی اکڑ؟

رنگ کا تماشا! بہادری کی اکڑ؟
رنگ کا تماشا! بہادری کی اکڑ؟

  

کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ پاسبان عقل والے فلسفے کو بھول ہی جائیں اور دل و دماغ کو تنہا چھوڑ دیں پھر سوچتا ہوں کہ اس سے کیا ہو گا کیا راہ فرار مل جائے گی؟ ممکن ہی نہیں،حالات کا جبر ہی تو ہے جو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

یہ بات ایک سے زیادہ بار لکھی کہ 50ء اور 60ء کی دہائی میں روپے کی قدر زیادہ اور اشیاء سستی تھیں۔ حتیٰ کہ چار آنے (چوتھائی روپیہ) میں پانچ کلچے ملتے تھے، جو آج کے دس روپے والے سے کہیں بہتر ہوتا تھا، ذرا آگے بڑھیں 70ء میں آ جائیں تب بھی حالات اتنے دگرگوں نہیں تھے۔ میری تنخواہ 525روپے ماہانہ تھی اور میں رکشا پر سفرکرکے رپورٹنگ اور گزر بسر بہت اچھی کر لیتا تھا۔

ذرا لڑکپن اور سکول (ہائی) کے وقت کو آواز دیں تو بات ہی کچھ اور تھی، بہت بے فکری کا زمانہ تھا، فسادات نہیں تھے۔ لڑائی جھگڑے بھی مقامی تھے اور ہم دوست بھی منڈلی بنا کر گھومتے پھرتے تھے اس دوران شرارتیں بھی ہوتی تھیں، اس سلسلے میں دو واقعات بتا کر بات آگے بڑھاتا ہوں، ہم محلے دار اور سکول والے پانچ دوستوں کی ایک ٹولی تھی، ان میں ہمارے دوست محمد اشرف چاچا بھی تھے، اشرف چونکہ اپنے سات بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اس لئے ان کے بھائیوں کے بچے چاچا ہی کہتے حالانکہ کئی ان کے ہم عمر بھی تھے، اس طرح چاچا ان کی عرفیت ہو گئی تھی اور ہم دوست بھی عام طور پر چاچا یا چاچا اشرف کہتے تھے۔

ہم سب کا معمول تھا کہ اکثر شام یا پھر نماز صبح کے بعد (چھٹی کے روز) اندرون شہر(اکبری دروازہ) سے باغ جناح تک براستہ دل محمد روڈ، فلیمنگ روڈ جاتے اور واپس آتے تھے۔ خصوصاً گرمیوں کے دن ہوتے تو راستے بھر بہت سے لوگ سڑک یا گلی کنارے چارپائیوں پر سوئے ملتے، ہم ہنستے کھیلتے جاتے تو کبھی کبھار کسی بابا جی کی چار پائی سے ٹکرا جاتے اور گالیاں سنتے۔

ایک روز ہمارے ایک ساتھی نے نوٹ کیا کہ سونے والے اکثر حضرات دھوتی باندھ کر سوتے اور بے خبری میں بے پردہ بھی ہو جاتے ہیں۔ چاچا اشرف کے بھائی رنگ (کلرز) کا کاروبار کرتے اور ان کی پرچون کی بھی دکان تھی۔ ایک بار شرارت سوجھی تو وہ اپنی دکان سے دو تین قسم کے رنگ لے آیا، صبح کے وقت ہم جب لارنس گئے تو جو بھی بے پردہ سویا نظر آیا چٹکی چٹکی رنگ (مختلف) ڈالتے چلے گئے۔

لارنس سے سیرسپاٹے کے بعد واپس آئے تو دلچسپ صورت حال تھی۔ متعدد بابے اور ادھیڑ عمر حضرات گالیاں دے رہے اور ایک دوسرے پر الزام لگا رہے تھے یوں بھی رنگ پکے تھے اور کئی روزکی محنت کے بعد ہی صاف ہوتا تھا۔ اس روز کے بعد دھوتی والے کلچر میں بہت کمی آ گئی تھی(آج کل پارلیمنٹ میں رنگ ڈالے جا رہے ہیں)۔

اسی طرح ایک اور واقع یوں پیش آیا کہ ہم سب میکلوڈ روڈ (لاہور ہوٹل کے قریب) ایک ریسٹورنٹ (سٹوڈنٹس اون چوائس) پر شام کو گیت سننے کے لئے جاتے اور چائے پیتے تھے۔ چاچا اشرف کو بلیئرڈ کا شوق چراتا اور وہ لاہور ہوٹل کے بلیئرڈ روم میں جا کر کھیل لیتا، ایسے ہی ایک روز کھیل ہی کھیل میں اس کا جھگڑا ایک اور نوجوان سے ہو گیا۔ اشرف (ماشاء اللہ) ورزشی بھی تھا، اس نے اس شخص کی پٹائی کر دی اور خوب درگت بنائی۔

ہم دوستوں تک ریسٹورنٹ میں اطلاع پہنچی تو ہم بھی چلے گئے، اس وقت تک بیچ بچاؤ ہو چکا تھا، تاہم بعض لوگ موجود تھے جنہوں نے ہمیں وہاں سے فوراً چلے جانے کو کہا اور بتایا کہ جس کی پٹائی کی گئی ہے وہ اچھا پہلوان (قلعہ گوجر سنگھ والا) کا بندہ ہے اور ابھی اڈے سے لوگ آ گئے تو آپ لوگوں کی خیر نہیں۔ چاچا اشرف اور ہم اب سہم گئے اور فوراً وہاں سے چلے آئے۔

پھر دوچار روز تک ادھر نہ گئے کہ جھگڑا ہو گا اور واسطہ اڈے والوں سے پڑ گیا۔ ہمارے ملنے والے اور دوست (حلوائی) تھے، نوجوان کی عرفیت ’’چھوارا‘‘ تھی اور وہ بہت لڑاکا تھا جبکہ اس کے بڑے بھائی بھی زور دار لوگ تھے ، جب ہم کئی روز تک ادھر نہ گئے تو ایک روز بڑے بھائی اور ’’چھوارا‘‘ کے والد نے بلا کر وجہ پوچھی، ہم نے ڈرتے ڈرتے بتا دیا وہ ناراض ہوئے کہ ہمیں جھگڑے سے منع کیا کرتے کہ ’’تم بابو لوگ ہو، پڑھا کرو‘‘ ہم سے بات سن کر وہ بولے! آؤ کوئی مسئلہ نہیں، پھر ہمیں لے کر قلعہ گوجر سنگھ چلے گئے۔

اس وقت اچھا پہلوان موجود تھے۔ انہوں نے خوب آؤ بھگت سے استقبال کیا اور جب ان سے کہا گیا کہ بچوں کا جھگڑا ہوا، بات ختم ہو گئی۔ اب آپ کے بندے پابندی لگا رہے ہیں، اور ہمارے بچوں کو روکتے ہیں تو پہلوان نے فوراً سب کو بلایا اور خصوصی طورپر جھگڑا کرنے والے کو چاچا اشرف سے گلے ملوا کر بات ختم کردی۔

یہ اس لئے یاد آیا کہ آج کل سیاست میں بھی کچھ ایسا ہی منظر ہے کہ یا تو بھڑک بازی چل رہی ہے اور دور دور سے زبانی نشانے لگائے جا رہے ہیں، اور یا پھر ہماری طرح بات ہو جائے تو جوابی حملے کا خوف ستانے لگتا ہے اور تاویلیں شروع کر دی جاتی ہیں، آج کل تو قومی اسمبلی میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے کہ جوش میں بہت کچھ کہہ دیا جاتا اور بعد میں خیال آتا ہے تو بجائے پارلیمانی آداب اختیار کرکے معذرت کرنے اور آئندہ راہ احتیاط کا یقین دلانے کے راہ فرار اختیار کی جاتی اور تاویلیں گھڑی جاتی ہیں کہ یوں نہیں یوں تھا، میرے خیال میں تو یہ ہمارے بچپن یا سکول والے دنوں والا ہی نقشہ بن چکا ہے۔

حالانکہ یہ سب حضرات بالغ، پڑھے لکھے اور وکیل بھی ہیں، اللہ ہم پر رحم کرے، یہ بھی ہماری طرح پہلے نہیں سوچتے بعد میں غور کرتے اور خائف ہوتے ہیں۔ حالانکہ اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ بات نہ کی جائے۔ تازہ ترین یہ کہ برادرم چودھری فواد نے مراد علی شاہ کے حوالے سے وضاحت کی، مطلب پھر بھی وہی رہا۔

مزید : رائے /کالم