سرائیکی صوبے پر اعتراض کیوں؟

سرائیکی صوبے پر اعتراض کیوں؟

  

پاکستان تحریک انصاف نے سرائیکی خطے سے اس بنیاد پر وووٹ لیا کہ اس بیلٹ کو صوبے کا درجہ دیا جائے گا، جس سے یہاں کے لوگوں میں موجود احساس محرومی ختم ہو گا۔ اس پراہلِ سرائیکی خاصے پُرامید اور خوش نظر آرہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو سرائیکیوں نے سب سے زیادہ خوش آمدید کہا۔

اب اس حوالے سے تاخیر اور عمران حکومت کی بَہانے بازی لوگوں کو، مگر افسردہ کر رہی ہے۔ کبھی یہ کہا جا رہا ہے کہ اس مقصد کے لئے ملتان میں ایک طرح سے سیکرٹریٹ یا سب سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ کبھی یہ شنید ہے کہ لودھراں میں جہانگیر ترین کو سیاسی و معاشی مفاد پہنچانے کے لئے اُن سے 70 مربع اراضی سیکریٹریٹ کے قیام کے لئے خریدی جا چکی ہے۔

نتیجے میں جہانگیر ترین کی زمین کی ویلیو بڑھ جائے گی۔ لودھراں میں نئے صوبے یا سیکرٹریٹ سطح کے انفراسٹرکچر کے قیام سے کیا اہلِ سرائیکی مجموعی طور پر فائدہ اُٹھا سکیں گے؟

پاکستان میں اس وقت جتنے صوبے بھی قائم ہیں وہ سب لِسان/زبان کو مدِ نظر رکھ کر بنائے گئے تھے۔’’ بلوچستان‘‘بلوچی زبان کی مناسبت سے، ’’سندھ‘‘ سندھی زبان کو مدِنظر رکھ کر، ’’پنجاب‘‘ پنجابی زبان کی بنیاد پر، گلگت بَلتستان’’ بلتی زبان کی بَدولت، خیبر پختونخوا‘‘ پشتو زبان کو اہمیت و احترام دیتے ہوئے، جبکہ ’’کشمیر‘‘ کشمیری زبان کے باعث بنا۔ جب ’’سرائیکستان‘‘کا مطالبہ ہوتا ہے تو جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ لِسانی تعصب پر مبنی صوبہ ، ریاست اور ریاستی اداروں کے استحکام کے لئے خطرہ ہے۔

اگر اس خطے کو منفرد زبان اور ثقافت جس کی اپنی ایک الگ اور مسلمہ تاریخی حیثیت ہے کی بنیاد پر ’’سرائیکستان‘‘ کا نام دینے سے تعصب کی بو آتی ہے۔ تو کیا دیگر صوبے ریاست کی فضاء کو معطر کر رہے ہیں؟ اگر سرائیکیوں کو خالصتا زبان اور ثقافت کے نام پر مشتمل صوبہ ’’سرائیکستان‘‘ نہیں دیا جاسکتا تو دیگر صوبوں کے نام بھی آئینی ترامیم کے ذریعے تبدیل کر دیئے جائیں ۔

سہولت کے لئے تمام صوبوں کے غیر لِسانی نام مَیں ہی تجویز کر دیتا ہوں۔ پنجاب کاغیر لسانی نام صوبہ لاہور رکھ دیاجائے۔ بلوچستان کو غیر لسانی نام صوبہ زیارت دے دیا جائے۔ صوبہ سندھ کو صوبہ مہران میں تبدیل کر دیا جائے۔

خیبر پختونخوا کو صوبہ خیبر کے نام سے لکھا اور پُکارا جائے۔ گلگت بلتستان سے لفظ بلتستان ہٹا دیا جائے۔ کشمیر کو صوبہ مظفر آباد کا نام دے کر ملک سے تعصب کی بدبو کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے اور متوقع صوبہ سَرائیکستان کو غیر لسانی نام صوبہ ملتان یا صوبہ خواجہ فرید دے دیا جائے۔

حال ہی میں سابق وززیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اضلاع کو بلوچستان کا حصہ کہہ کر بلوچستان میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سردار اختر مینگل کے نزدیک یہ دونوں اضلاع بلوچستان کا حصہ ہیں۔ کنٹینرز پر چڑھ کر تقریر کرنے والے ہمارے عمران خان کے لئے ملک اور ملکی معامالات چلانا کس قدر مشکل ہو گیا ہے بہ نسبت اس کے کہ احتجاج کے دوران کس طرح نعرے بازی کی جاتی تھی؟ ادھر بہاولپور والے بھی صوبہ بہاولپور کے سیاسی نعرے لگانے لگے ہیں۔

اِن حالات میں عوام کی فلاح کے نام پر کئے جانے والے وعدے شاید ہی مکمل ہوں۔ اب تو حلقہ پی پی 292 کے ایم پی اے اور سابق وزیر توانائی اویس لغاری نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ صوبہ بہاولپور اور صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے لئے خود قدم بڑھائیں گے۔

متعدد بار سیاسی وفارداریاں بدلنے والا لغاری خاندان اس قسم کی تحاریک قطعا نہیں چلا سکتا اور نہ ہی اس حوالے سے یہ خاندان کوئی خاص پس منظر رکھتا ہے۔ کیونکہ موصوف سرائیکی زبان، ثقافت اور اس خطے کی تاریخی حیثیت سے ناواقف ہیں اور اس فلسفے سے بھی عاری کہ صوبوں کا قیام کن بنیادوں پر ہوتا ہے اور پاکستان اور دنیا بھر میں وہ کون سے پیمانے ہیں جن کی بنیاد پر صوبے وجود میں آتے ہیں؟

مزید :

رائے -کالم -