روس کے جوہری میزائلوں پر بات چیت میں پیش رفت نہیں ہوئی ،نیٹو

روس کے جوہری میزائلوں پر بات چیت میں پیش رفت نہیں ہوئی ،نیٹو

برسلز(اے این این)شمالی اوقیانوس کے ممالک کے فوجی اتحاد’’نیٹو‘‘کے سیکرٹری جنرل ینس اسٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ روس کے جوہری میزائلوں کے حوالے سے ماسکو کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں کوئی پیش رفت ہوسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ’’متوسط جوہری طاقت‘‘کے معاہدے کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ یورپی ملکوں میں اسلحہ کے حصول کی دوڑ شروع نہ ہوسکے۔خبر رساں اداروں کے مطابق نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ روس کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں جوہری میزائلوں کے معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ روس کی طرف سے اپنے موقف میں تبدیلی کا عندیہ نہیں دیا۔مغربی دارالحکومتوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ روس کی جانب سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے نئے میزائل 'آئی این ایف' معاہدے کی خلاف ورزی اور یورپی ممالک کے دارالحکومتوں کے لیے خطرہ ہیں۔امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس اپنے زمینی میزائل سسٹم "9 ایم 729" سے دست بردار نہیں ہوتا تو امریکا 2 فروری سے اس معاہدے سے نکل سکتا ہے۔دوسری جانب ماسکو کا دعویٰ ہے کہ اس کے نئے میزائل یورپی ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ نئے میزائلوں کی رینج ممنوعہ کروز میزائل کی رینج سے کم ہے۔گذشتہ روز برسلز میں ہونے والے اجلاس میں روسی نائب وزیر خارجہ سیرگی ریابکوف نے شرکت کی مگر اجلاس میں نیٹو کے سربراہ کے بہ قول کوئی پیشر رفت نہیں ہوسکی۔

مزید : علاقائی