بھارتی میڈیا کی پاکستان پر الزام تراشیاں

بھارتی میڈیا کی پاکستان پر الزام تراشیاں
بھارتی میڈیا کی پاکستان پر الزام تراشیاں

  

بھارتی حکمرانوں کی طرح بھارتی میڈیا کی آنکھوں پر بھی تعصب کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ پاکستان کے متعلق کوئی جھوٹی خبر بنانا اور اس کا اتنا ڈھنڈورا پیٹنا کہ وہ سچ لگنے لگے ، یہ تو بھارتی میڈیا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

بھارتی چینلز پر بیٹھے ہوئے بڑے پڑھے لکھے دانشور جب پاکستان کے متعلق بات کرتے ہیں تو ان میں اور ان پڑھ چپڑاسی میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ گویا جھوٹ بولنا اور اس پر قائم رہنا ہر بھارتی میڈیا مین کی جبلت ہے۔

بھارتی میڈ یا پاکستان کے خلاف مسلسل جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ اس پروپیگنڈے میں بھارتی اخبارات بھی اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں۔ ابھی تین روز پہلے کی بات ہے کہ بھارتی اخبار ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعلق جھوٹی خبر شائع کی کہ پاکستان کے سپہ سالار نے ان سے رابطہ کر کے بھارتی حکومت اور بھارتی آرمی چیف سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

اور یہ بھی کہا کہ ان میں اس وقت کی دوستی ہے جب کانگو امن مشن میں دونوں چیفس اکٹھے تھے،جبکہ اس بات کی پاک فوج نے یکسر تردید کردی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور باجوہ نے بھارتی جھوٹ کے جواب میں کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی ہم منصب سے رابطے کی کبھی کوشش نہیں کی ۔دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا اختیار صر ف حکومتوں کو ہے۔ دونوں ملکوں کے آرمی چیفس نے کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے لئے بھی اکٹھی نوکری نہیں کی۔

نفرت اور تعصب کی پٹی آنکھوں پر بندھی ہو تو سورج کی طرح ظاہر حقیقت بھی نظر نہیں آتی۔یہی چال بھارت نے کشمیر کے حریت پسند جنگجوؤں کے متعلق چلی اور کہا کہ پاکستان جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ کے دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے۔ یہ آئی ایس آئی ہی تھی جس نے بتایا کشمیر میں لڑنے والے بھارت کی بربریت کی وجہ سے کھڑے ہوئے ہیں آئی ایس آئی کی وجہ سے نہیں۔

یہاں پھر عالمی طاقتوں کو منہ کی کھانی پڑی۔

پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے متعلق عالمی سطح پر بھارتی میڈیا نے اتنا شور مچایا کہ گماں ہونے لگا کہ دُنیا ایک چلتے ہوئے ٹائم بم کے اوپر رکھی ہے جو کسی بھی وقت پھٹے گا اور دُنیا تباہ ہو جائے گی۔

کہا گیا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار عنقریب دہشت گردوں کے قبضے میں چلے جائیں گے اور یورپی اقوام صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی، حالانکہ بھارت میں یہ حال ہے کہ وہاں یورینیم کباڑیے کے ہاں فروخت ہو رہا ہے اور بھارتی ایٹمی ہتھیار برائے فروخت ہیں۔

یہ آج کی بات نہیں شروع دن ہی سے بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف اول فول بکتا رہا ہے۔ گورداس پور تھانے پر حملہ ہو یا ممبئی دھماکے،بھارت اپنے ملک میں ہونے والے کسی بھی سانحے کا الزام پاکستان پر لگانے کا عادی ہے، حتیٰ کہ بھارتی پولیس پاکستان کی طرف سے جانے والا کوئی کبوتر بھی پکڑ لے تو اسے جاسوس قرار دے دیتی ہے۔الزام تراشی کی اس خصلت میں بھارتی میڈیا ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے اور اپنے سیاست دانوں کے رہنما کے طور پر کام کرتا ہے۔

بھارتی میڈیا اور ٹی وی چینلز کا تو یہ حال ہے کہ بھارت کے ممتاز ٹی وی چینل نے حافظ سعید کے بیٹے سے متعلق جھوٹی خبر چلائی۔ خبر کی تصدیق کیے بغیر بریک کرتے رہے۔ چھ مہینے پرانی ویڈیو کو تازہ ویڈیو قرار دے کر پاکستان پر بے بنیاد الزامات کی بھرمار کردی۔بھارتی میڈیا نے الزام لگایا کہ حافظ سعید کے بیٹے طلحہ سعید نے 5 فروری 2017ء کو ایک جلسے میں کشمیری عوام کو اکسایا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق طلحہٰ سعید نے کہا کہ کشمیری عوام داؤد ابراہیم اور برہان وانی کی طرح بھارت کے خلاف جہاد کریں۔

ساتھ ہی بھارتی میڈیا نے زہریلا پروپیگنڈا کیا کہ یہ ویڈیو پاکستان میں ہونے والے جلسے کی ہے۔ تعصب کی آگ میں اندھا ہونے والا بھارتی میڈیا اگر تحقیق کی زحمت کرتا تو اسے معلوم ہوجاتا کہ یہ ویڈیو پاکستان کی نہیں،بلکہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کلگام کی تھی۔ صحافت کی اخلاقیات سے عاری بھارتی میڈیا کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ ویڈیو 5 فروری 2017ء کی نہیں، بلکہ یکم ستمبر 2016ء کی تھی جو یو ٹیوب پر 16 ستمبر 2016ء کو اپ لوڈ کی گئی تھی۔

اسی طرح نعرے لگانے والا شخص بھی طلحہ سعید نہیں تھا، مگر ریٹنگ کی دوڑ میں اپنی ساکھ کھونے والے بھارتی میڈیا کو یہ سامنے کی چیزیں نظر نہیں آئیں اور سنی سنائی بات پر گلا پھاڑ پھاڑ کر پاکستان کے خلاف چلانا شروع کر دیا۔

بھارتی میڈیا کا ایک اور کارنامہ سن لیجئے۔ اودھم پور سے گرفتار نوجوان کو پاکستانی ظاہر کرنے کے لئے بھارتی میڈیا اور حکام کئی دن تک واویلا کرتے رہے۔

بھارتی میڈیا نے اسے اجمل قصاب ٹو کا نام دے دیا اور پھر حد کر دی گئی کہ جب گرفتار نوجوان کو فیصل آباد کا رہائشی ظاہر کیا جانے لگا، لیکن بھارتی میڈیا کو ایک بار پھر اس وقت منہ کی کھانا پڑی جب ادھم پور سے گرفتار نوجوان مقبوضہ کشمیر کا ہی رہائشی نکلا۔ گرفتار نوجوان کا نام نوید تھا جو ذہنی معذور اور ضلع کولگام کا رہنے والا تھا۔

حقائق سامنے آنے پر بھارتی خفیہ ایجنسی این آئی اے نے گرفتار نوجوان کو سری نگر منتقل کر دیا ۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتا آ رہا ہے۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کسی بھی واقعے کا الزام فوری طور پر پاکستان پر لگانا درست نہیں۔آئی ایس پی آر کی وضاحت کے بعد پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارتی میڈیا کی ایک اور بھونڈی کوشش کا پردہ چاک ہوگیا اور سچائی کی روشنی نے بھارتی میڈیا کا سیاہ چہرہ بے نقاب کر دیا۔

مزید : رائے /کالم