’’سفارشی ‘‘19باریوں میں ہزار رنز کیسے بناگیا ؟

’’سفارشی ‘‘19باریوں میں ہزار رنز کیسے بناگیا ؟

حافظ عمر سعید

12دسمبر 1995ء کو پیدا ہونے والے امام الحق جو بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے ہیں نے اپنے ون ڈے کیرئیرکاآغاز 18اکتوبر 2017ء کو سری لنکا کے خلاف کیااور محض چند میچز میں ہی بڑے بڑے ناقدین کو ہلاکر رکھ دیا،مگر اس بندہ خدانے کسی بھی ناعاقبت اندیش کی باتوں کو دل پر نہ لیا اور اپنی محنت سے آگے بڑھتارہا اور آج اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نوجوان نے ایک روزہ میچزمیں محض 19باریاں کھیل کر ہی تیزترین ایک ہزار رنز بنانے کا تغمہ اپنے سینے پر سجالیا۔اس سے قبل فخرزمان نے 18اننگز میں یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا، مگر ان پر کوئی تنقید نہیں کی گئی۔امام کے ساتھ معاملہ بالکل اس کے برعکس تھا۔امام کے اوپر ہرطرح کے نشتر وں کی بارش کی گئی،کبھی اس کو فضول کہاگیا تو کبھی صحیح تکنیک نہ ہونے کا طعنہ دیا گیا۔سب سے بڑاظلم جواس پر کیا جاتا رہااور کیا جاتارہے گا وہ اسے انضمام الحق کا بھتیجا ہونے کاطعنہ ہے۔یہ طعنہ وہ لوگ بھی دیتے نظر آتے ہیں جن کو خود کو یہ بھی نہیں پتہ ہوگا ’’پچ‘‘کی لمبائی کتنی ہوتی ہے؟اسی طرح ’’چچا، بھتیجا‘‘پراپنے طنزوں کو تیرکی طرح برسانے والے عظیم تجزیہ کاریہ بھی نہیں علم رکھتے ہونگے کہ ’’باؤنسر اور یارکر‘‘کیا بلا ہیں۔بہرحال کسی کی فطرت کو کبھی بھی تبدیل نہیں کیاجاسکتا۔بات ہورہی تھی امام الحق کی تو سب سے پہلے تو میں عرض کرناچاہتاہوں کہ انضمام الحق نے بالفرض محال اپنے عہدے کے بل بوتے پر اپنے بھتیجے کو ٹیم میں شامل کیاہے تو سوچنے والی بات ہے کہ یہ ہونہار’’سفارشی ‘‘ہزار رنز کیسے بناگیا ؟19میچوں میں 4ففٹیاں اور 5سنچریوں کی مددسے ایک ہزار گیارہ رنزوہ بھی63کی اوسط سے؟یہ سب چیزیں سمجھ سے بالاترہیں۔یہ وہی سفارشی ہے جس نے ایک روزہ کرکٹ کی 47سالہ تاریخ میں پہلے بلے باز ہیں جنہوں نے اپنے پہلے نو میچز میں 4سنچریاں بنائیں۔چاچے کے لاڈلے بھتیجے نے جولائی 2018ء میں زمبابوے کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں تین سنچریاں بھی بنائیں۔ انضمام الحق کرکٹ کی تاریخ کاایک معتبر نام ہے جس کی تعریف تمام مخالفین بھی کرتے ہیں۔یہ اسی انضمام الحق کابھتیجا ہے جس نے 1992ء کاورلڈکپ جیتنے میں سب سے اہم کردار اداکیا،جس نے افغانستان جیسی ٹیم کو اس وقت ایک بہترین ٹیم کادرجہ دلایا۔میں سمجھتاہوں اس کے باوجود جتنی تنقید امام الحق پر کی اور وہ پھر بھی اپنے بلے سے رنزکی بلندیوں کی منازل طے کرتا گیااگراس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ کب کا ہمت ہارکر گھربیٹھ گیا ہوتا۔ایک عرصہ بعد پاکستان کو اتنا اچھا بائیں ہاتھ سے کھیلنے والا اوپنر ملاہے تو اسے یوں فضول کی تنقید سے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ تیسرے میچ میں جب امام سے ان کی سنچری کے بعد گفتگو کی گئی تو ان کے لہجے سے ایسا اعتماد جھلک رہا تھا،جو ان کے ثابت قدم ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔میری ناقص رائے یہ ہے کہ جس طرح ساؤتھ افریقہ نے 22سالہ گریم سمتھ پر اعتماد کرتے ہوئے شان پولاک،جیک کیلس اور مارک باؤچر جیسے سینئر ز کے ہوتے ہوئے بھی ان کو ترجیح دی اور سمتھ نے اپنی ٹیم کو اونچائی پر پہنچادیا۔اسی طرح بھارتی ٹیم میں سچن ٹنڈولکر ،سارو گنگولی اور راہول ڈریوڈ جیسے عظیم کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے مہندراسنگھ دھونی جس نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ جن کھلاڑیوں کو دیکھنے کے لئے ترستا ہے انہی کا قائد بنادیا جائے گا۔ٹی ٹونٹی کا ورلڈ کپ جتوانے والے دھونی نے 2011ء کا ورلڈ کپ بھی بھارت کی جھولی میں ڈالااور قائد ہونے کا حق ادا کیا اور فائنل معرکے میں مردمیدان بھی قرار پائے۔ دھونی نے مزید بڑا پن یہ دکھایا کہ اس نے مستقبل کے لئے بھارت کو ویرات کوہلی کی شکل میں ہیرے جیسا کپتان اور بلے باز دیا۔اس سب بات کا مقصد ہے کہ پی سی بی امام الحق کو کپتان بنانے کی عقلمندی کا مظاہرہ کرے۔مجھے امید ہے امام کبھی بھی قوم کو مایوس نہیں کرے گا۔ آخری بات یہ عرض کرناچاہوں گا کو پی سی بی کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں،ورلڈ کپ بالکل سرپر ہے اور ابھی تک اس کے لئے کوئی خاص تیاری نظر نہیں آ رہی، یہ نہ ہوکہ ابھی حال ہی میں جوحال ہمارے قومی کھیل (ہاکی)کاہواہے وہ ہی سانحہ کرکٹ کے ساتھ بھی پیش آجائے۔

مزید : رائے /کالم