منی بجٹ میں کراچی کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا گیا،فاروق ستار

منی بجٹ میں کراچی کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا گیا،فاروق ستار

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایم کیو ایم پاکستان کے سابق کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ بنی گالا ریگولرائز ہو سکتا ہے تو کراچی کی عمارتیں کیوں نہیں ہو سکتیں، میئر کراچی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کراچی کی ترقی چاہتے ہیں کہ نہیں ؟ کیونکہ میئر کراچی توڑ پھوڑ کرنے میں لگے ہوئے ہیں،منی بجٹ میں کراچی کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ ہمیں پیکیج کی بھیک نہیں سالانہ ریونیو میں حق ملنا چاہیے،حکومت کے پاس کوئی معاشی پالیسی نہیں ہے اگر آئی ایم ایف کے پاس جانا تھا تو اگست میں ہی چلے جاتے۔ہفتہ کوکراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہمیں پیکج کی بھیک نہیں سالانہ ریونیو میں حق چاہیے، منی بجٹ کے کاغذات میں کراچی پیکیج کہاں ہے، کراچی کو پیکیج نہیں بلکہ اس کا حق چاہیے، کراچی 1500 سے 2000 ارب ٹیکس دیتا ہے، اسے 200 ارب سالانہ ملنے چاہئیں، سکھر اور حیدرآباد کو بھی ان کے ٹیکس سے مناسب حصہ ملنا چاہئے، ہماری آبادی کو صحیح گنا جائے، سیمپل مردم شماری فورا کروائی جائے۔ وزیراعظم اور اسد عمر کو دعوت دیتا ہوں کہ میرے ساتھ شہر کا دورہ کریں۔۔ انہوں نے کہا کہ میئر کراچی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کراچی کی ترقی چاہتے ہیں کہ نہیں ؟ کیونکہ میئر کراچی توڑ پھوڑ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اب تک 10 ہزار دکانیں اور 1500 مکانات ٹوٹ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کا ایک اور فیصلہ آیا ہے کہ جو بھی غیر قانونی عمارتِیں ہیں انہیں مسمار کیا جائے، چاہے گولیاں چلیں یا چھریاں، ہر حال میں آپریشن ہوگا، اس سلسلے میں وزیر بلدیات سعید غنی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ یہ کام ان سے کروایا گیا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے، ہم منتظر ہیں کہ یہی بات خالد مقبول صدیقی اور وسیم اختر بھی کریں۔فاروق ستار نے کہا کہ شہر میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی مخدوش وتشویش ناک ہے، صوبائی و فاقی وزرا نے سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی لیکن سیکیورٹی بڑھانے کے بجائے کم کردی گئی۔ حکومت تمام معروف لوگوں اور سیاسی رہنماؤں کو سیکیورٹی فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک علی رضا عابدی کے قتل کا سراغ تاحال نہیں لگایا جاسکا، کل علی رضا عابدی کا چہلم ہے لیکن اب تک ان کے قتل کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تحقیقاتی ادارے اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے۔ایم کیو ایم کے ذیلی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے دفاتر کے حوالے سے فاروق ستار نے کہاکہ بہادرآباد والے کے کے ایف کے دفاتر کو بیچ رہے ہیں، اگر کچھ دفاتر کے کے ایف کے نام پر ہیں تو وہ نہ ہی ملیں تو بہتر ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر /کراچی صفحہ اول