عظیم لیڈ ر کی نشانی یوٹرن نہیں ، آزمائش کی گھڑی میں ثابت قدمی ہے :حیدر ہوتی

عظیم لیڈ ر کی نشانی یوٹرن نہیں ، آزمائش کی گھڑی میں ثابت قدمی ہے :حیدر ہوتی

صوابی(بیورورپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر اور سابق صوبائی وزیر اعلی ایم این اے امیر حید ر خان ہو تی نے کہا ہے کہ آج پی ٹی آئی کے وزیر اعظم کی کابینہ میں خود چور ڈاکوں اور دہشت گرد اور چپڑاسی جیسے لوگ موجود ہیں عمران خان نے اقتدار سے قبل شیخ رشید کو چپڑاسی ، پرویز الٰہی کو پنجاب کا بڑا ڈاکو اور ایم کیو ایم کو قاتل اور دہشت گردقرار دے رہا تھا یہ ہم نہیں کہہ رہے تھے بلکہ عمران خان مسلسل خود کہتے چلے آرہے تھے لیکن آج یہی لوگ اس کی حکومت میں شامل ہیں ہفتہ کو ضلعی سیکرٹری جنرل حاجی محمد اسلام خان کے حجرہ موضع یوسفی میں باچا خان بابا اور خان عبدالولی خان کی برسی کے موقع پر منعقدہ بڑے جلسہ عام سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کا واحد وزیر اعظم ہے جو بیرونی ممالک سے تین ارب ڈالر قرضہ لے کر وطن آنے پر قوم سے خطاب کرنے میں قرضہ لینے پرقوم کو مبارک باد دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ قرضہ نہیں بلکہ ایک پیکیج ہے حالانکہ عمران اقتدار سے قبل یہ کہتے تھے کہ وہ قرضہ لینے کی صورت میں خود کشی کرینگے اور ہالینڈ جیسا وزیر اعظم پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں جو سائیکل پر اپنے دفتر جاتے تھے لیکن عمران خان آج خود ائی ایم ایف سے منتیں کر کے قرضہ لینے جاتے ہیں بلکہ بنی گالہ سے وزیر اعظم ہاؤس تک ہیلی کاپٹر میں جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ڈیڑھ گھنٹہ جاری اجلاس میں آصف زرداری، شہباز شریف اور میاں نواز شریف کے کیسز کا کسی نے ذکر تک نہیں کیا تھا اور میں حلفاً کہتا ہوں کہ ہم نے صرف پاکستان کی قومی سطح پر مشکلات اور معاملات پر تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں لیکن اس میں افغان حکومت اور وہاں کی قیادت کو شامل نہیں کر رہے ہیں اور افغانستان میں ایک کٹھ پتلی بنا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کے بغیر مذاکرات کامیاب نہیں ہونگے اور اس حوالے سے ایران ، چین ، روس، سعودی عرب ، پاکستان اور دیگر ممالک اپنا کر دار ادا کریں۔ورنہ افغانستان سے روس نکلنے پر جو خانہ جنگی شروع ہوئی تھی وہ امریکہ کے نکلنے کے بعد بھی شروع ہو جائیگا انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے اپنی مرضی مسلط کی تو افغانستان میں استحکام آئیگا اور نہ ہی امن انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں میں امن و استحکام لازم و ملزوم ہے انہوں نے کہا کہ مضبوط پاکستان کے لئے مضبوط صوبے لازم اور ضروری ہے لیکن پی ٹی آئی حکومت آٹھارویں ترمیم کے بعد چھوٹے صوبوں کو ان کے وسائل اور حقوق نہیں دے رہی ہے اور آج ایک بار پھر چھوٹے صوبوں کے خلاف سازش شروع کی ہے۔انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کی تحریک کا مقصد پختون قوم کو غلامی اور ظلم و جبر سے نجات دلانا اور اس مقصد کے لئے باچا خان بابا کی قیادت میں خدائی خدمتگاروں نے ہر قسم کی قر بانی پیش کی تھی اگر باچا خان بابا کے عدم تشدد کے فلسفے پر عمل ہو تا تو افغانستان اور پاکستان میں بے گناہ مسلمانوں کا خون نہیں بہہ رہا ہوتا انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کراچی کے ریٹائرڈ ایس پی راؤ انوار کو قتلوں پر پھانسی دیتی تو آج ساہیوال جیسا ظالمانہ واقعہ پیش نہ آتا۔ پاکستان میں جہاں بھی ظلم و نا انصافی ہو تو ہم ظالموں کے خلاف اور مظلوموں کے حق میں آواز اُٹھائیں گے بچوں کے سامنے والدین کو قتل کرنا انتہائی ظلم و زیادتی ہے جب کہ آفسوس اس پر ہے کہ وفاقی وزیر بیان جاری کر تا ہے کہ مقتول خاندان بے قصور و بے گناہ ہے جب کہ سی ٹی ڈی کارروائی درست ہے تو ہم کونسی بات مانیں انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں جب اپوزیشن احتجاج کرتے ہیں تو وزیر اعظم عمران خان ناراض ہو کر اسمبلی سے چلے جاتے ہیں ہم نے گذشتہ روز تین ماہ بعد اسمبلی میں ان کا دیدار کیا لیکن اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج پر وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آج پارلیمنٹ میں جو حالات ہے حکومتی وزراء اس کی عزت احترام پامال کر رہے ہیں بعض ارکان نازیبا الفاظ استعمال کر تے ہیں اور وہ اپنے آپ کو وزراء سمجھنے کی بجائے کنٹینر پر کھڑے جیسا سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ عظیم لیڈر کی نشانی یو ٹرن نہیں عظیم لیڈر وہ سیاست دان ہے جو آزمائش پر ثابت قدم رہے اور یہ اعزاز اے این پی کے باچا خان بابا اور ولی خان بابا کو حاصل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے آٹھارویں تر میم ختم کرنے کی کوشش کی تو اے این پی اس کے خلاف بھر پو رتحریک چلائے گی جلسے سے ضلع ناظم حاجی محمد زاہد خان کے علاوہ اے این پی کی ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی محمد اسلام خان، سینیٹر ستارہ آیاز اور ضلعی سینئر نائب صدر محمد اشفاق خان نے بھی خطاب کیا#

جندول (نمائندہ پاکستان)جندول سابق وزیراعلی خیبر پختونخواہ وصوبائی صدر عوامی نیشنل پارٹی امیر حیدرخان ہوتی نے کہا ہے کہ 2013 اور اس کے بعد 2018 الیکشن میں ہم ناکام نہیں ہوئے بلکہ ہمیں ناکام کیاگیا ہے ۔ہمارے امیدوار نہیں بلکہ ہمارے عام کارکنان کیلئے الیکشن کمپین میں سیاسی سرگرمیاں ناممکن بنایا گیاتھا۔انہوں نے یہ گفتگو ایم پی اے حلقہ پی کے16 حاجی بہادرخان کے بڑے بھائی ملک شیر بہادر خان کے وفات کی تعزیتی موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنان اور عہدیدارو ں کو دھمکیاں دی جارہی تھیں اور 2013 کے الیکشن میں ہمیں دیوار سے لگایاگیا۔یہ حالات پاکستان کی پوری قوم سمیت ساری دنیا نے دیکھے ہیں کہ ہمارے ورکروں ساتھ کیا سلوک کیا جارہاتھا ۔انہوں نے کہا 2018 کے انتخابات میں الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد ہم نے بھر پور مہم چلائیں اور پورے صوبے میں تقریباٌہر علاقے کے صوبائی حلقے تک ہم گئی ۔سینکڑوں کے تعداد میں نہیں بلکہ ہزارو ں کے تعداد میں ہمار موبلائزیشن ہوئے اور اس کے بعد سب سے پہلے ہمارے کامیاب کمپائن پر حملہ کیاگیا وہ شہید ہارون بلور کے شہادت کی واقعہ کی صورت میں ہمارے سامنے آیا۔اور اس کی بعد بھرپور کوشش کی گئی کہ ہمیں مجبور کیاجائے کہ الیکشن کمپین میں حصہ نہ لیں تا اہم پارٹی کی ورکرز اور کارکنان کو سلام پیش کرتاہو کہ وہ نہ ڈریں ،نہ جھکیں اور نہ ہمت ہاریں ۔صرف اگرووٹ کے بنیاد پر فیصلہ ہوتا یا گنتی ہوتی جو شام چھ بجے کے بعد جو کھیل کھیلاگیااس کھیل میں پولنگ ایجنٹس کے غیر موجودگی میں گنتی کی گئیں۔پولنگ ایجنٹس کو پولنگ سٹیشن سے باہر نکالا گیا ۔فارم 45 کو کیو نہیں دیا گیا۔افرا تفری کا عالم تھا اور میرے خیال سے جو ہمارے کنڈیڈیٹس جیتے بھی ہیں وہ صرف اس وج ہ سے جیتے ہیں کہ شاید سازش کرنے والوں نے اس کا اندازہ غلط لگایا اور اگر انکو وہ پتہ ہوتا کہ ہمارے جیتنے والے کنڈیڈیٹس اتنے ووٹ لیں گے تو شاید ان کا بھی بندوبست کرلیتا ۔تو اسلئے میں یہ کہتاہو کہ ہم ہاریں نہیں ہم ہرایاگیا ہیں اور آج ہم تحقیقات کے بات کرتے ہیں جس کے لئے پارلیمنٹ کا کمیٹی بھی بن چکے ہیں لیکن حکومت اس میں مخلص نہیں ہیاور اتنا عرصہ گزرنے کے باؤجود ابھی تک اس کمیٹی کی ٹی او آرز پر اتفاق حکومت کے رویے سے نہیں ہوسکا ۔اس بنیاد پر ہم یہ کہتے ہیں کہ الیکشن میں ہم ہارے نہیں بلکہ ہم ہرایاگیاہیں

Back to Con

مزید : پشاورصفحہ آخر /کراچی صفحہ اول