پاک جنوبی افریقہ ون ڈے سیریز، فیصلہ کن موڑ آن پہنچا

پاک جنوبی افریقہ ون ڈے سیریز، فیصلہ کن موڑ آن پہنچا

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پانچ ون میچوں کی سیریز دلچسپ مرحلہ میں داخل ہوگئی جس سے شائقین کی میچز میں دلچسپی بڑھ گئی پاکستان کی ٹیم نے پہلے ون ڈے میں کامیابی اپنے نام کی جبکہ دوسرے میں شکست ہوئی اب تک پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سیریز میں تسلی بخش رہی اور کھلاڑیوں نے جی جان سے کھیل پیش کیا ہے جو خوش آئند بات ہے ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد امید کی جارہی تھی کہ کھلاڑی جنوبی افریقہ کے خلاف پریشر میں کھیلے گئے مگر اچھی بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں نے اس کے برعکس بہت اچھی پرفارمنس دی بات باؤلنگ کی ہو یا بیٹنگ کی بہت اچھی پرفارمنس رہی آج پاکستانی ٹیم چوتھے ون ڈے میں جنوبی افریقہ کے خلاف میدان میں اترے گی امید ہے کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی عمدہ کھیل سے جیت کی کوشش کریں گے سرفراز احمد کی جانب سے افریقن بیٹسمین کے لئے دل کھادینے والے الفاظ کے بعد باوجود قومی ٹیم کے کھلاڑی کھیل کی طرف توجہ دئیے ہوئے ہیں سرفراز احمد کے اس عمل نے شائقین کرکٹ اور ان کے پرستاروں کو بہت مایوس کیا تھا اور ان کو سرفراز احمد جیسے منجھے اور تجربہ کار کھلاڑی سے ہرگز ایسی امید نہ تھی کہ وہ ایسے الفاظ کا استعمال کریں گے جس سے کسی کھلاڑی کی دل آزاری ہو اور انہوں نے غصہ میں کہے گئے اپنے ان الفاظ پر کھلاڑی اور جنوبی افریقہ کے کپتان فاف سے معافی بھی مانگ لی ہے۔جنوبی افریقا کی ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی نے کہا ہے کہ سرفراز احمد کے مخلصانہ جذبے کو قبول کرتے ہیں ہم سب نے انہیں معاف کردیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کپتان فاف ڈوپلیسی کا کہنا تھا کہ جب ہم اسٹیڈیم میں کھیلنے جاتے ہیں تو سب کی نظریں ہماری ہی طرف ہوتی ہیں اس لیے بہت محتاط انداز سے بات کرنا پڑتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسٹیڈیم میں کھیلنے والی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں میں کوئی دشمنی نہیں ہوتی البتہ کبھی کبھی ایسے جملے نکل جاتے ہیں جو ناگوار گزرتے ہیں تاہم میچ ختم ہونے کے بعد سب ایک دوسرے سے گلے شکوے دور کرلیتے ہیں۔فاف ڈوپلیسی کا کہنا تھا کہ سرفراز نے معذرت کی، ہم سب ان کے مخلصانہ جذبے کو قبول کرتے ہیں، پھلوکوایو سمیت تمام کھلاڑیوں نے پاکستانی کپتان کو معاف کردیا۔جنوبی افریقا کی ٹیم کے کپتان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے سرفراز نے پھلو کے لیے جن خیالات کا اظہار کیا وہ مذاق ہی تھا کیونکہ انہوں نے میچ ختم ہونے کے فوری بعد ہی بلے باز سے معذرت کرلی تھی۔ایک سوال کا مزاحیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے ڈوپلیسی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنوبی افریقا کا دورہ کرنے والے کھلاڑی اسٹیڈیم میں آنے کے بعد کوشش کر کے منہ کو بند ہی رکھیں۔واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے دوسرے میچ میں جنوبی افریقا کھلاڑی پر نسل پرستانہ جملے کسے تھے جس کے بعد سوشل میڈیا پر تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔سرفراز احمد نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صارفین سے بھی معافی مانگتے ہوئے وضاحت پیش کی تھی۔جبکہ دوسری جانب پاکستانی ٹیم کے کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد نے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میچز کی سنچری مکمل کر لی، وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے 31ویں پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں، انہوں نے منگل کو جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں شرکت کے ساتھ کیریئر کے 100 میچز مکمل کئے لیکن وہ اس میچ کو یادگار بنانے میں ناکام رہے اور 41 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ سرفراز احمد نے 2007ء میں ایک روزہ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور انہوں نے 100 میچز میں 1936 رنز بنا رکھے ہیں جس میں ان کی دو شاندار سنچریاں بھی شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے زیادہ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلنے کا اعزاز شاہد خان آفریدی کو حاصل ہے جنہوں نے 393 میچز کھیل رکھے ہیں۔اوپننگ بیٹسمین امام الحق کو چیف سلیکٹر انضمام الحق کا بھتیجا ہونے کی وجہ سے سابق ٹیسٹ کرکٹرز سفارشی کھلاڑی قرار دے کر ان پر تنقید کررہے ہیں۔ میڈیا پر بیٹھ کر تنقید کے نشتر چلانے والے یہ نہیں جانتے کہ امام الحق ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین ایک ہزار رنز بنانے کے عالمی ریکارڈ سے اب دوری پر ہیں۔ پاکستان کے ایک اور اوپنر فخر زمان نے گذشتہ سال18 اننگز میں ایک ہزار رنز ایک سال اور 45 دن میں بنائے تھے۔ امام الحق یہ عالمی ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔ 23سالہ امام الحق نے17 ون ڈے میں64.64 کی اوسط سے چار سنچریوں اور چار نصف سنچریوں کی مدد سے905 رنز بنائے ہیں۔ وہ دس ٹیسٹ میچوں میں483 رنز چار نصف سنچریوں کی مدد سے بناچکے ہیں۔ پورٹ الزبتھ ون ڈے میں انہوں نے86رنز کی اننگز کھیلی تھی۔جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان اپنی ذمے داریاں چھ فروری کو سنبھالیں گے۔ پی سی بی نے وسیم خان کو کرکٹ امور کا نگراں مقرر کیا ہے جبکہ انتظامی معاملات چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کے پاس چلے جائیں گے۔ پی سی بی نے پہلی بارایم ڈی کا عہدہ متعارف کراتے ہوئیان کی تنخواہ بیس لاکھ روپے مقرر کی ہے اور انہیں پرکشش مراعات بھی دی جائیں گی جبکہ پی سی بی نے کلچر کو تبدیل کرتے ہوئے جنوبی افریقا دورے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر وطن واپس آنے پر پریس کانفرنس کریں گے۔جبکہ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹ کمیٹی کو ڈومیسٹک کرکٹ میں ہونے والی تبدیلیوں سے دور رکھا ہوا ہے۔ محسن حسن خان کی سربراہی میں کرکٹ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے لئے پہلے ہی ٹاسک فورس کام کررہی ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور عالمی شہرت یافتہ کرکٹر وسیم اکرم نے رکن پی سی بی کرکٹ کمیٹی کی حیثیت سے بورڈ سے کوئی معاوضہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وسیم اکرم کو محسن حسن خان ، مصباح الحق اور عروج ممتاز کے ساتھ پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا تھا۔ پی سی بی نے کرکٹ کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ کمیٹی تین سال کے لئے تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی کو ہر میٹنگ کے لئے پچاس ہزار روپے اور پانچ ہزار روپے ڈیلی الاؤنس کے علاوہ جہاز کا ٹکٹ اور فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وسیم اکرم نے پی سی بی کو بتایا ہے کہ وہ بلا معاوضہ کام کریں گے۔ حیران کن طور پر ایک مشہور کرکٹر بلا معاوضہ کام کررہے ہیں ایسے میں پی سی بی نے2018کے آخری چھ ماہ کے دوران بورڈ آف گورنرز کے اراکین پرمجموعی طور پر 16لاکھ 81ہزار810روپے کے اخراجات کئے۔ ان میں سے ڈیلی الاونس کی مد میں چار لاکھ 80ہزار روپے کی ادائیگی کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بڑے ناموں پرمشتمل کرکٹ کمیٹی تو بنادی لیکن کرکٹ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ پر کوئی مشورہ نہیں دے سکتے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے لئے واپڈا کے چیئرمین لیفٹنینٹ جنرل تجمل حسین پر مشتمل ٹاسک فورس قائم ہے۔ اس لئے ڈومیسٹک کرکٹ سے کرکٹ کمیٹی کو دور رکھا گیا ہے۔ کرکٹ کمیٹی کی سفارش پر حال ہی میں پاکستان انڈر16کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ محمد اشرف کو بنا یا گیا ہے۔ ان کی کوچنگ میں فیصل آباد نے انڈر19ٹورنامنٹ جیتا تھا جس کے بعد کرکٹ کمیٹی نے محمد اشرف کو کوچ بنانے کی تجویز دی تھی۔

ویمن انٹرنیشنل کرکٹ، پندرہ سال بعدویسٹ انڈیز کی خواتین کرکٹ ٹیم 15سال بعد پاکستان کا دورہ کریگی

مزید : ایڈیشن 1 /پشاورصفحہ آخر