دریائے چناب پر متنازع منصوبے، پاکستانی وفد معائنے کیلئے بھارت روانہ ہو گیا

دریائے چناب پر متنازع منصوبے، پاکستانی وفد معائنے کیلئے بھارت روانہ ہو گیا
دریائے چناب پر متنازع منصوبے، پاکستانی وفد معائنے کیلئے بھارت روانہ ہو گیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) دریائے چناب پر زیر تعمیر آبی منصوبوں کے معائنے کیلئے انڈس انڈس واٹر کمشنر کی سربراہی میں پاکستانی وفد بھارت روانہ ہو گیا جہاں آبی تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات کئے جائیں گے۔

تین رکنی پاکستانی وفد کی قیادت انڈس واٹرکمشنرمہرعلی شاہ کررہے ہیں، وفد دریائے چناب پر بنائے گئے بھارتی منصوبوں کامعائنہ کرے گا، پاکستان نے بھارت کے آبی منصوبوں لوئرکلنائی اور پکل ڈل پراعتراضات اٹھائے ہیں۔ بھارت اب تک سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی ڈیم بنا چکا ہے، بھارتی آبی ماہرین کا وفد گزشتہ برس پاکستان کا دورہ کر چکا ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرکے پاکستان کا پانی روکنے کا موجب بن رہا ہے جو کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجو د ’سندھ طاس معاہدے‘ کی خلاف ورزی ہے۔ آبی تنازعات پر 2013 سے اب تک پاک بھارت مذاکرات کے 7 دور ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے مشترکہ انڈس واٹر کمیشن کا 114 واں اجلاس گزشتہ برس مارچ میں نئی دہلی میں منعقد ہوا تھا جس میں پاکل دل، لوئر کلنائی اور ریٹل ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر بات ہوئی تھی۔

پانی کے مسائل کے حل کیلئے 1960 میں دونوں ممالک کے مابین سندھ طاس معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے۔ جس کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان جب کہ راوی، ستلج اور بیاس پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا تھا تاہم بھارت اس معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور