بلی اور چوہے کا کھیل

بلی اور چوہے کا کھیل
بلی اور چوہے کا کھیل

  



شماریات کے سرکاری ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں افراطِ زر کی شرح گزشتہ پانچ برس کے دوران بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔پاکستان میں شماریات کے اس ادارے کے مطابق مارچ 2019ء میں افراطِ زر کی شرح 9.41 فیصد رہی، جبکہ فروری میں یہ شرح 8.21 فیصد تھی۔ گزشتہ حکومت میں افراط زر کی شرح تین سے پانچ فیصد تھی،جو بڑھ کر نو فیصد تک پہنچ گئی ہے۔دراصل حکومت ٹیکس وصولی میں بھی ناکام ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ہمیں نوٹ چھاپنا پڑیں گے۔نوٹ چھاپنے سے بھی افراطِ زر میں اضافہ ہو گا، جبکہ پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی مسائل کو دوچند کرے گا، رہی سہی کسر آٹے نے نکال دی ہے،اس پر چینی میں پانچ روپے کلو اضافے نے دو آتشے کا کام کیا ہے۔شیخ رشید نے آٹے کے بحران کی نئی منطق پیش کر دی ہے،ان کا کہنا ہے کہ لوگ نومبر دسمبر میں زیادہ روٹی کھاتے ہیں، جبکہ صدر مملکت نے آٹے کے بحران سے ہی لاعلمی کا اظہار کر دیا ہے۔

کچھ وزیر کہہ رہے ہیں گندم کا کوئی بحران نہیں۔ کچھ اسے بھی پچھلی حکومت کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں ……آخر ہمارے حکمران پچھلی حکومتوں کا رونا کب تک روتے رہیں گے؟ عمران خان تو عوام کے غم کو اپنا غم کہتے تھے۔وہ جب یہ کہتے ہیں کہ ڈالر اوپر نیچے ہونے سے روپیہ متاثر ہوتا ہے تو چیزوں کی قیمتیں بڑھتی ہیں …… تو عالیجاہ ایساہی معاملہ پچھلی حکومتوں کے ساتھ بھی تھا،آپ نے نیا کیا کیا ہے؟ ملک اور زیادہ مقروض ہوچکا ہے، بلکہ آپ ریکارڈ قرضہ لے چکے ہیں۔آپ اپنی جس ٹیم کا ذکر کرتے تھے، وہ ٹیم کیا ہوئی؟ پی ٹی آئی حکومت تو انہی لوگوں سے بھری پڑی ہے جو پچھلے ادوار میں تھے۔

پنجاب سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والا صوبہ ہے، یہ تو دوسرے صوبوں کو بھی گندم اور آٹا فراہم کرتا ہے، یہاں آٹے کا گھاٹا سمجھ سے بالا ہے۔ ہماری معیشت کے مشیر تو پہلی حکومت میں بھی رہ چکے ہیں، یہ اب کون سا معاشی انقلاب لائیں گے؟کسی کو کچھ پتہ نہیں، البتہ یار لوگ جانتے ہیں کہ ملک میں کون سی فلم چل رہی ہے، جسے بڑے مزے سے دیکھا جا رہا ہے اور عوام کے بلبلانے کا لطف لیاجا رہا ہے۔ ہماری خراب معاشی صورت حال کے ذمہ دار یہی مشیر ہیں۔ستم تو یہ ہے کہ گندم کی برآمد پر پابندی کے باوجود پہلے چھ لاکھ ٹن گندم کم قیمت پر پاکستان سے باہر بھیجی گئی،اب تین لاکھ ٹن مہنگی گندم باہر سے واپس منگوائی جارہی ہے۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے گندم آٹا بحران پر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کر تے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی پابندی کے باوجود 25 جولائی سے اکتوبر 2019ء تک 48000 میٹرک ٹن گندم کیسے برآمد کی گئی؟

ایک ارب 83 کروڑ روپے کس کی جیب میں گئے؟ …… عمران خان مسلم لیگ(ن) کی حکومت پر ہمیشہ یہ الزام لگاتے رہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض لے کر یہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہے ہیں، لہٰذا جب ہم اقتدار میں آئیں گے، خود کشی کر لیں گے، مگر کچھ بھی ہو جائے ملک کو قرضوں کی دلدل میں نہیں دھکیلیں گے۔ عمران خان جب تک کنٹینر پر رہے وہ یہی فرماتے رہے کہ ان کے پاس دو سو لوگوں کی ٹیم ہے، جن کی معاونت سے اقتدار کے پہلے دن سے ملک کو خوشحالی کی سمت لے چلیں گے، امیر طبقے پر بھاری ٹیکس لگا کر خزانے کی کمی کو پورا اور غریب عوام کے لئے آسانیاں پیدا کر دیں گے۔

اقتدار میں آنے کے بعد بھی انہوں نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، پھرسعودی عرب، ترکی، چین،متحدہ عرب ممالک سے امداد لے لی۔ کن شرائط پر لی؟کہاں خرچ ہوئی؟ کچھ پتہ نہیں۔یہ سب کرنے کے بعد وزیراعظم خود آئی ایم ایف کی سربراہ کے سامنے جا بیٹھے تھے،یہاں بھی جن شرائط پر بیل آوٹ پیکیج لیا، اس کی شرائط خفیہ رکھنے کی پابندی کرنے کا عہد بھی کر لیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے دوبئی میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات بھی کر لی تھی، جس میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تعاون پر اتفاق بھی ہوگیا، تب اپوزیشن نے اس معاہدے پرتنقید کی اور کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سربراہ حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کئے ہیں،اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ پاکستان کا کوئی سربراہ خود چل کر آئی ایم ایف کی ٹیم کے پاس گیا ہو۔ عمران خان عوام سے کئے اپنے تمام وعدوں سے مکر کر اپنے لئے ہر یوٹرن کو درست قرار دے چکے ہیں۔ ہسپتالوں سے فری ٹیسٹ ختم ہوچکے ہیں، تعلیمی اداروں میں داخلے بڑھائے جا چکے ہیں، ادویات کی بڑھی قیمتوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، مہنگائی کی آگ ہے کہ پھیلتی جارہی ہے، ٹماٹر مہنگا ہوا تو حکمران دہی کے استعمال کا مشورہ دینے لگے، گویا عوامی دکھ درد کا مداوا ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ عوامی امنگوں کی جیپ حکومتی تغافل کی گہری کھائی میں گر چکی ہے اور زخمی عوام دہائیاں دے رہے ہیں، لیکن سننے والا کوئی نہیں۔ اس وقت حکومت اور عوام کے مابین بلی اور چوہے کا کھیل جاری ہے اور اس کھیل کو دیکھنے والے بڑے مزے سے اسے دیکھ رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم