کیا فوج صحافیوں پر تشدد کرتی ہے؟

کیا فوج صحافیوں پر تشدد کرتی ہے؟
کیا فوج صحافیوں پر تشدد کرتی ہے؟

  



دو روز قبل (24جنوری 2020ء) ”دی نیویارک ٹائمز“ کے ادارتی صفحہ (صفحہ نمبر10) پر ایک کالم شائع ہوا ہے جو کسی عاقل شاہ کی تحریر ہے۔بتایا گیا ہے کہ موصوف اوکلاہومایونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین پالیٹکس ڈیپارٹمنٹ میں ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور ایک کتاب بھی ان کی تصنیف ہے جس کا عنوان ہے:

The Army and Democracy: Military Politics in Pakistan

اس اخبار کے جس سائز میں یہ کالم شائع ہوا ہے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی باوردی تصویر بھی اسی سائز میں کالم کے اوپر کے حصے میں شائع کی گئی ہے۔ اس کالم کا اردو ترجمہ میں نے سطور ذیل میں کر دیا ہے۔ اسے پڑھ کر قارئین کو معلوم ہو گا کہ کالم نگار شاہ صاحب کا قبلہ کس طرف ہے اور انہوں نے آخر میں پاکستان کے مستقبل کے متعلق جو پیشگوئی فرمائی ہے اس سے بھی آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ امریکی پرنٹ میڈیا پاکستان کا کتنا خیر خواہ یا بدخواہ ہے۔ اگر مصنف کے ”خبثِ باطن“ کا مزید اندازہ کرنا ہو تو اس کی درجِ بالا تصنیف کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ عاقل شاہوں کی طرح کے میرے پیٹی بھائیوں کی کمی نہیں لیکن وہ پھر بھی اس طرح کھل کر پرنٹ میڈیا میں زبان نہیں کھولتے…… یہ شرف بیرون ملک بیٹھ کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور بات کہ جس کی طرف قارئین کی توجہ کی درخواست ہے وہ یہ ہے کہ ”دی نیویارک ٹائمز“ کا یہ ایڈیشن اس کا انٹرنیشنل ایڈیشن ہے جو ہمارے پاکستان میں شائع ہونے والے اخبار ”دی ایکسپریس ٹریبون“ کے ہمراہ شائع ہوتا اور پاکستان بھر میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

روزنامہ ایکسپریس کا معمول ہے کہ اگر کوئی کالم یا تصویر وغیرہ ایسی قابلِ اعتراض ہو جو پاکستان کے اساسی اور عوامی مفادات کے منافی ہو تو وہ دی نیویاریک ٹائمز کے اس ایڈیشن میں شائع نہیں کی جاتی۔ اس کی Space بلینک چھوڑ دی جاتی ہے اور اس میں لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ تحریر / تصویر چونکہ پاکستان میں شائع کرنا مناسب نہیں تھی اس لئے طبع نہیں کی گئی اور اس کی Space خالی چھوڑ دی گئی ہے…… اگر اخبار کے مالکان یا اس کے چیف ایڈیٹر اس کالم اور اس تصویر کو بھی پاکستان کے اساسی اور عوامی مفادات کے خلاف سمجھتے تو حسبِ معمول اسے شائع نہ کرکے پاکستان سے اپنی دوستی اور جمہوری اقدار سے وابستگی کا دم بھر سکتے تھے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اور اگر ایسا نہیں کیا گیا اور اس کی اشاعت بالخصوص ہمارے آج کے داخلی سیاسی ماحول میں ضروری سمجھی گئی تو اس کے مقاصد کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہو گا…… اب عاقل شاہ کے کالم کا ترجمہ ملاحظہ کیجئے:

……………………

”1947ء میں اپنے قیام سے لے کر اب تک پاکستان، تین عشروں سے زیادہ عرصہ تک فوج (Military)کے زیرِ حکمرانی رہا ہے۔ جب فوج براہِ راست اقتدار میں نہیں ہوتی تو تب بھی وہ قومی سلامتی اور سیاست پر پسِ پردہ اپنی مضبوط گرفت برقرار رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری اداروں کا قیام اور فوج کو زیرِ کنٹرول رکھنے کی پراسس، پاکستان میں ایک نہائت مشکل پراسس رہی، ایک غیر یقینی کیفیت سے فضا معمور رہی اور مارشل لاء کی طرف مراجعت کا خطرہ اردگرد منڈلاتا رہا …… فوج کو اپنے ڈھب پر لانے کے لئے کئی سویلین سیاستدان بھی دستیاب ہوتے رہے ہیں۔ یہ سویلین سیاست دان ہر بار قانون کو توڑنے مڑوڑنے اور باوردی آمروں کو اکاموڈیٹ کرنے کے لئے عوام کے اعتماد سے کھیلتے رہے، جمہوریت کے دیرینہ قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے رہے اور فوجی اقتدار کو مزید طول دیتے رہے ہیں۔

19اگست (2019ء) کو وزیراعظم عمران خان نے ملک کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدتِ ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کر دی۔ جنرل باجوہ نومبر (2019ء) میں ریٹائرڈ ہونے والے تھے لیکن ان کی توسیع کا فیصلہ ”علاقائی سلامتی کے ماحول“ کے پیشِ نظر کیا گیا…… لیکن صرف دو روز بعد کہ جب جنرل باجوہ کی توسیع کا آغاز ہونا تھا، پاکستان کی سپریم کورٹ میں ایک درخواست زیرِ غور لائی گئی جس میں اس توسیع کو چیلنج کیا گیا۔ اس کا فیصلہ یہ ہوا کہ عدالتِ عظمیٰ نے اس توسیع کو ملتوی کر دیا اور حکومت کو حکم دیا کہ وہ اس طرح کی توسیع اور اس کے دورانیئے کے تعین کے لئے باقاعدہ پاکستانی پارلیمنٹ سے منظوری لے۔ وزیراعظم خان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی نے پارلیمنٹ میں یہ قانون سازی (بطور ایک بل) اس مقصد کے لئے متعارف کروائی جو مسٹر خان یا مستقبل کے کسی بھی پاکستانی وزیراعظم کو یہ اختیار دے دے گی کہ وہ آرمی، نیوی اور ائر فورس کے چیفس آف سٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کر سکے گا اور نیز چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کہ جو ایک طرح کا محض تقریباتی منصب ہے، اس کو بھی توسیع دی جا سکے گی۔

7جنوری (2020ء) کو ملک کی پارلیمنٹ نے بڑی عجلت میں اس قانون کے حق میں منظوری دے دی۔ اس قانون کو پاکستان کی دو مین سٹریم اپوزیشن پارٹیوں نے سپورٹ کیا جن میں سابق وزیراعظم (نواز) کی مسلم لیگ اور پاکستان پیپلزپارٹی شامل تھی جو مقتول وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو کی قیادت میں ہے اور جس نے قبل ازیں یہ الزام لگایا تھا کہ 2018ء کے الیکشنوں میں جنرل باجوہ کی کمانڈ میں پاک فوج نے دھاندلی کے ذریعے مسٹر خان کو اقتدار دلایا تھا …… تاہم مسٹر شریف کی پاکستان مسلم لیگ(نون) اور مسٹر بھٹو کی پی پی پی کے بیشتر اراکین نے اور نیز ملک کی زیرِ محاصرہ سول سوسائٹی کے عقابوں نے اس قانون کو سیاسی جمہوری عمل کو فریب دینے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے مسٹر شریف کو بطور خاص ہدفِ تنقید بنایا کہ جنہوں نے ”ووٹ کو عزت دو“ کا مقبول نعرہ متعارف کروایا تھا اور جس میں فوج کی اس دیرینہ عادت پر ملفوف طعن زنی کی تھی کہ جس نے سیاست میں دخل اندازی کرکے یہ کام کروایا۔ مسٹر شریف 2017ء میں اس وقت اقتدار سے الگ کر دیئے گئے تھے جب سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز میں کرپشن کی ایک انکوائری کے سلسلے میں ان کو ڈس کوالی فائی کر دیا تھا۔ مسٹر شریف کو پانامہ لیکس میں تو نامزد نہیں کیا گیا تھا اور ایسی کوئی شہادت بھی موجود نہ تھی کہ انہوں نے عوامی عہدے کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا ہے لیکن جج صاحبان نے ان کو اس لئے نااہل قرار دیا کہ انہوں نے اپنے اثاثے چھپائے اور بدیں وجہ ”صادق اور امین“ (Honest) نہیں رہے کہ جو پارلیمان کا رکن ہونے کی ایک آئینی ضرورت ہے۔

اس کے بعد مسٹر شریف نے پاور فل فوج کے خلاف مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا اور پنجاب میں کہ جو ملک کی کثیر آبادی والا صوبہ ہے اپنی سیاسی بنیاد کو مضبوط بنا کر 2018ء کے الیکشنوں میں فوج کے سیاسی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ باوجود اس کے کہ فوج نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، سیاستدانوں کو پارٹی چھوڑنے کی ترغیب دی اور پارٹی لیڈروں کے خلاف کرپشن کے جھوٹے کیس بنائے تاکہ مسٹر شریف کی پارٹی کو شکست دی جا سکے۔ لیکن اس کے باوجود اس پارٹی نے صوبہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں اور قومی اسمبلی میں بھی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی دوسری بڑی پارٹی بن گئی …… تاہم مسٹر شریف کوئی ایسے بااصول جمہوریت پسند سیاستدان بھی نہیں …… جب جنرل پرویز مشرف نے 1999ء کے کُو (Coup) میں ان کو اقتدار سے الگ کیا تو انہوں نے بھیگی بلی بن کر 2000ء میں سعودی عرب کی جلاوطنی قبول کرلی۔ تب سے لے کر اب تک انہوں نے فوجی جرنیلوں پر سویلین برتری قائم کرنے کی لگاتار کوشش کی اور اس کے لئے بڑی سیاسی قیمت بھی ادا کی۔ انہوں نے فوج سے کوئی ڈیل کرنا بھی گوارانہ کیا اور یہ سب کچھ اس کے باوجود کیا کہ جب وہ کرپشن کے الزام میں جیل میں تھے تو ان کو کئی جان لیوا بیماریوں نے آن گھیرا تھا۔ لیکن جب نومبر (2019ء) میں ان کوبغرضِ علاج ہنگامی طور پر بیرونِ ملک سفر کی اجازت دے دی گئی تو یوں معلوم ہوا کہ فوج کے بارے میں ان کا رویہ نرم ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ شائد یہ بھی ہو کہ ان کے چھوٹے بھائی شہبازشریف جو اب پی ایم ایل (ن) کے صدر ہیں، انہوں نے بڑے بھائی کو قائل کر لیا کہ جرنیلوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں کوئی برائی نہیں اور پارٹی کے مقدر کو از سر نو تشکیل و تعمیر کرنا بھی ضروری ہے۔

بلاول بھٹو جو پی پی پی کے لیڈر ہیں انہوں نے بھی اس قانون کی جانچ پڑتال کی ضرورت پر زور دیا تھا لیکن پھر وہ بھی یہ دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے کہ ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں کوئی زیادہ سیٹیں حاصل نہیں۔لیکن ان کی والد آصف علی زرداری جو ملک کے سابق صدر ہیں اور ایک مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں دسمبر 2019ء سے ضمانت پر رہا ہیں، انہوں نے چپکے سے فوج کے ساتھ اکاموڈیشن کی تجویز دے دی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے بہت سے اراکین نے اس قانون کی مخالفت کی لیکن ان کی تجویز کو اوپر بیٹھے ٹاپ لیڈروں نے کہ جن کے ہاتھوں میں فیصلہ کی آخری قوت ہے، رد کر دیا …… اس قانون کو سپورٹ کرنے کے عمل نے ہی پاکستان کے جمہوریت پسندوں کو مایوس نہیں کیا بلکہ اس میں پی ایم ایل (نون) اور پی پی پی کی وہ غیر مشروط اور عاجل تائید بھی تھی کہ جس نے معمول کا پارلیمانی بحث مباحثہ بھی نہ ہونے دیا اور فوراً ہی یہ بل منظور کر لیا گیا۔ بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے جمہوری لیڈروں کا سا نہیں بلکہ ان تابعدار سولجرز کا سا رویہ اپنایا جو اپنے فوجی سینئرز کے احکامات پر عمل کرنے میں ذرہ بھر دیر نہیں لگاتے۔

جنرل باجوہ کی زیر کمان ملٹری نے بڑے ڈرامائی انداز میں نیوز میڈیا کو دبانے، جارحانہ انداز میں اس کو مرعوب کرنے، صحافیوں پر تشدد کرنے، ان کو اغوا کرنے، عوامی حقوق کی بات کرنے والوں کا گلا گھونٹنے، منحرفین کو خاموش کرنے اور عدلیہ سے ساز باز کرنے کے فرائض انجام دیئے۔فوج پر یہ الزامات بھی عام تھے کہ اس نے 2018ء کے انتخابات میں مسٹر خان اور ان کی پارٹی کے حق میں میدان ہموار کیا۔ پاکستان آرمی ایک طویل عرصے سے اس ملک کی سیاسیات میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی آئی ہے اور سیاستدانوں کے خلاف سیاسی فضا ہموار کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی رہی ہے جس سے جمہوریت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ دوسری طرف سیاستدان بھی حصولِ اقتدار کی خاطر بطور شارٹ کٹ، فوج ہی کا رخ کرتے رہے ہیں اور سیاسی مفادات کے حصول کے لئے فوجی بیرکوں کے دروازوں پر دستک دیتے آئے ہیں۔ اسی پریکٹس نے جرنیلوں کو ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی اجازت دی۔

مسٹر شریف کی بظاہر فولادی مزاحمت نے یہ امید دلائی تھی کہ چلو پاکستان کے مقبول ترین جمہوری لیڈر نے کچھ سبق تو حاصل کیا ہے۔ جمہوری طرزِ حکمرانی کے لئے بااصول سیاستدانوں کی نہیں، بلکہ ایسے سیاسی رہنماؤں اور قائدین کی ضرورت ہوتی ہے جو وقت کی پکار پر لبیک کہیں اور اٹھ کھڑے ہوں! اگرچہ جمہوریت میں ایسے اکاموڈیشنوں اور سمجھوتوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے جو ہمہ مقتدر آمروں اور جمہور کے مابین عمل و تعامل کا کام دیں لیکن پھر بھی ہر قسم اور ہر قبیل کے سیاستدانوں پر لازم آتا ہے کہ وہ ایسے ہر کھیل میں سویلین برتری کو تسلیم کروائیں …… پاکستان کے سیاستدانوں نے فوج کو نوازنے کی خاطر ووٹ کے تقدس کو انتہائی غلط اور شدید پامالی کا شکار کیا ہے اور ایک ایسے اصول کی خلاف ورزی کی ہے جس پر ہر حال میں قائم رہنے کی انہوں نے قسم کھائی تھی۔ ان کی یہ خود فریبی پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے لئے کوئی نیک شگون نہیں!“

مزید : رائے /کالم