چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو تعاون کی ہدایت

چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو تعاون کی ہدایت
چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو تعاون کی ہدایت

  



وزیر اعظم پاکستان نے دوماہ قبل پنجاب میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس نئے تعینات کر کے انھیں فری ہینڈ دیتے ہوئے ایوان وزیر اعلیٰ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو روک دیا تھا کہ وہ چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان اور آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیر کے انتظامی اور آپریشن معاملات میں مداخلت نہ کریں۔وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو تین ماہ کی مہلت دیتے ہوئے ان سے کے پی کے پولیس کے طرز پر نتائج مانگے تھے، چیف سیکرٹری نے بااختیار ہونے کے بعد ڈی ایم جی افسران اور پولیس افسران کی ایوان وزیر اعلیٰ کو سائیڈ لائن کرتے ہوئے تقرریاں شروع کر رکھی تھیں اکثر سمریاں چیف سیکرٹری آفس سے ہی واپس محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی چلی جاتیں۔وہاں سے دھڑا دھڑ نوٹیفکیشن جاری ہو رہے تھے۔نئے چیف سیکرٹری پنجاب کی تعیناتی سے قبل پنجاب میں اے سی، تحصیلدار، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی تعیناتی اراکان اسمبلی کی سفارش پر ہو اکرتی تھی لیکن اس بار پنجاب کے تمام اے سی نئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری شوکت علی نے بغیر کسی سفارش کے تعینات کر دیئے اور تمام کے تمام اے سی کو ادھر ادھر کر دیا گیا۔ پنجاب میں نئے آر پی اوز، ڈی پی اوز اور نئے کمشنرز تعینات کر دیئے گئے،لاہور شہر میں سی سی پی او اور ڈی آئی جی آپریشن بھی نئے لگائے گئے۔

اسی طرح ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کے بھی تبادلے کیے گئے۔پنجاب میں اراکان اسمبلی کی ساری سیاست ہی تھانہ کچہری کے گرد گھومتی ہے،پٹواری اور تھانیداروں کے تبادلے کرانے میں یہ اراکان اسمبلی مصروف رہتے ہیں اور دفاتر کے جب چکر لگاتے ہیں تو ان کے ساتھ ان تبادلے کرانے والوں کا ایک رش ہوتا ہے۔ ایوان وزیر اعلیٰ سے ایک وقت میں تمام ٹیلی فون کالز ان تبادلوں کے بارے میں آیا کرتی تھیں۔ ایک دم وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو سائیڈ لائن ہونے حتیٰ کہ ان کے انتہائی قریبی رشتہ داروں کو بھی کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری کیپٹن (ر) اعجاز احمد جعفر جو کہ وزیر اعلی پنجاب کے فرسٹ کزن ہیں ان کی خدمات پنجاب سے سرنڈر کر کے انہیں بھی وفاق بھجوادیا گیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے پھوپھا سابق ڈی پی او رحیم یار خان امیر تیمور کو بھی تبدیل کر کے کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ اس طرح عملی طور پر ایوان وزیر اعلیٰ اور وزیر اعلیٰ پنجاب بیوروکریسی کے تقرر و تبادلوں کے حوالے سے غیر فعال کر دیے گئے، بیورو کریسی کے عدم تعاون اور منہ زور ہونے پر آخر کار وزیر اعلی پنجاب اور گورنر کے روبرو ان کے اراکین اسمبلی نے احتجاج کیاجس کا خود وزیر اعلی پنجاب اور گورنر کو بھی رنج تھا۔

پریشر گروپ کی صورت میں میڈیا پر بھی واویلہ مچایا گیا،وزیر اعلی کو تبدیل کرنے کی بھی باتیں کی گئیں،جس پروزیر اعظم کو بالآخرلا ہور آنا پڑا، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے،انہیں نہیں ہٹایا جائے گا۔ارکان پنجاب اسمبلی کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ عثمان بزدار کو ہٹایا تو نیا وزیراعلیٰ پنجاب 20 روز بھی نہیں چل سکے گا۔انہوں نے کہاکہ وہ جانتے ہیں کہ عثمان بزدار کے خلاف سازش کون کررہا ہے اور اس کے پیچھے کون ہے۔عمران خان نے مزید کہاکہ عثمان بزدار کو ہٹانے کی سازشیں کرنے والے خود وزیراعلیٰ پنجاب بننا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کوبھی تنبیہ کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ وزیر اعلی پنجاب کے ساتھ تعاون کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے تین وزرا ء کو فارغ کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ ”سلیکٹیڈ“لوگوں کے خلاف جو سازش کرے گا سید ھا گھر جائے گا۔ اب یہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈی سی، کمشنرز، آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو بھی فری ہینڈ دیں۔چیف سیکرٹری کو فیلڈ میں تجربہ رکھنے والے اچھے پولیس آفیسرز غلام محمود ڈوگر، عمران محمود، اشفاق احمد خان رانا شہزاد اکبر،اظہر اکرم،ڈاکٹر معین مسعود،رانا ایازسلیم اور عبادت نثار سمیت دیگرافسران کی قربانیوں کا اعتراف کر نا ہو گا جبکہ بی اے ناصر جیسے محنتی،پیشہ ورانہ امور کے ماہر اور بیرون ملک فورس کا وسیع تجربہ رکھنے والے آفیسرز سے ہمیں پولیس فورس کے مورال اور ویلفیئر کے معاملات میں مشاورت لینی چاہیے تا کہ اس ملک کی تقدیر بدلے۔

پاکستان کے تنظیمی ڈھانچوں میں پولیس ہی ایک ایسا ادارہ ہے جس پر بھرپور توجہ نہیں دی گئی، اسے پوری طرح مسلح نہیں کیا گیا، سیاسی عمل دخل میں الجھایا گیا ہے۔پنجاب پولیس کا اصل ایشو فورس ہے‘ آپ کسی دن پنجاب میں فوج کی کل کورز اور جوانوں کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں‘ پنجاب کی ہر کور کا سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہوگا جب کہ ہم نے پنجاب پولیس کی اڑھائی لاکھ جوانوں کی نفری ایک آئی جی کی ماتحتی میں دے رکھی ہے۔ یہ آئی جی اگر سپرمین‘ اگر روبوٹ بھی ہو تو بھی یہ پورے صوبے کا لاء اینڈ آرڈر نہیں سنبھال سکے گا چناں چہ آپ حالات دیکھ لیجیے‘ حکومت کو چاہیے یہ پنجاب پولیس کو تین حصوں میں تقسیم کر دے یا پھر ڈی آئی جیز کو ڈویژن کا آئی جی بنا دے اور یہ لوگ سسٹم چلائیں‘ آپ پولیس پر نگرانی کا آزاد نظام بھی بنا دیں‘ وزیر اعلی، ارکان اسمبلی اور شہریوں کی کمیٹیاں بنائیں‘یہ کمیٹیاں پولیس کے خلاف شکایات سنیں اور آپ اس کے ساتھ ساتھ پولیس کو موٹروے پولیس جیسی سہولتیں اور آزادیاں بھی دے دیں۔ ملک کے حالات ٹھیک ہوجائیں گے ورنہ دوسری صورت میں حکومت ایک بار پھر کیلے کے چھلکے سے پھسلے گی اور کولہے کی ہڈی تڑوا بیٹھے گی‘ یہ مزید بحران پیدا کرلے گی‘ وقت دریا کی طرح ہوتا ہے‘ دریاؤں کا پانی واپس نہیں آیا کرتا اور جو شخص پانیوں کو واپس لانے کی کوشش کرتا ہے وہ دریاؤں میں ڈوب کر مر جاتا ہے۔

مزید : رائے /کالم