سٹیٹ بنک ڈسکاؤنٹ ریٹ کی شرح سود میں واضح کمی کرے: پیاف

  سٹیٹ بنک ڈسکاؤنٹ ریٹ کی شرح سود میں واضح کمی کرے: پیاف

  



لاہو ر(یواین پی) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسو سی ایشن فرنٹ(پیاف)کے چئیرمین میاں نعمان کبیر نے سیئنر وائس چیئرمین ناصرحمید خان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ اتوار کے روز بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کل جاری ہونیوالی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں واضح طور پر کمی لائے صنعت کاری اور معیشت کو فروغ کے لئے از حد ضروری ہے کہ شرح سود میں واضح کمی کی جائے زائد شرح سود سے نجی شعبہ قرض نہیں لے رہا جس سے معا شی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

پیداواری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے ا سٹیٹ بینک آف پاکستان آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں کم از کم ۴۰۰ بیسز پوانٹس کمی ا اعلان کرے۔ ٹائٹ مانیٹری پالیسی کی بدولت انڈسٹریل سیکٹر اور معیشت کے لیے حقیقی معنوں میں فائدہ مند نہیں ہو پا رہی۔ 13.25%شرح سود کا اثر صنعتوں کی پیداواری لاگت پر پڑ رہا ہے۔ مارک اپ سنگل ڈیجٹ پر لانے سے صنعتوں کو فائدہ ہو گاا س سے حکومت کو صنعتی ترقی کے اہداف حاصل کرنے، پیداواری لاگت میں کمی کرنے اور بینکوں کے سرمائے کو گردش میں رکھنے میں مدد ملے گی۔ایک بیان جاری کرتے ہوئے پیاف کے عہدیداروں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کاروباری برادری کو سستے قرضوں کی اشد ضرورت ہے۔مارک اپ کی شرح میں کمی سے معاشی مسائل کم ہونگے اور نہ صرف مقامی سرمایہ کاری بڑھے گی۔بلکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔اور نئے مضوبوں میں سرمایہ کاری ہوگی۔چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیرنے کہا مارک اپ ریٹ میں کمی کا صحیح فائدہ حاصل کرنے کے لیے توانائی سیکٹر زکے ریٹس اور دیگر مسائل حل کرنا ہو نگے۔چیئرمین نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ معیشت سے متلقتہ بینکنگ پالیسوں پر نظرثانی کریں اور نجی شعبے کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں۔عرفان اقبال شیخ نے کہا مارک اپ ریٹ میں کمی کا صحیح فائدہ حاصل کرنے کے لیے توانائی کا بحران اور دیگر مسائل کے حل پر توجہ نہ دی گئی تو مارک اپ ریٹ میں کمی سے معیشت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ معاشی مشکلات بڑھتی رئیں گی۔ وائس چیئرمین خواجہ شاہ زیب اکرم نے کہااسٹیٹ بنک آف پاکستان کی پچھلی جاری کردہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو کم سے کم سطح پر لانا خوش آنیدہ بات تھی۔ مگر اس میں مزید کمی کی اشد ضرورت ہے۔تاکہ معاشی سرگرمیاں میں اضافہ ہو سکے۔ صنعتی شعبے جو بحران کا شکار ہیں شرح سود میں کمی اس کی بحالی میں مددگاد ثابت ہو۔انہوں نے کہا کے شرح سود صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے بنیادی حثییت رکھتا ہے۔اور اس سے پیداواری لاگت پر براہ راست اثر پڑھتاہے۔

مزید : کامرس