لنڈیکوتل‘ چھوٹا گوشت فروخت کرنیوالے قصائیوں کی دکانیں بند

  لنڈیکوتل‘ چھوٹا گوشت فروخت کرنیوالے قصائیوں کی دکانیں بند

  



خیبر (بیورورپورٹ)لنڈیکوتل اور طورخم میں چھوٹے گوشت فروخت کرنے والے قصائیوں کی دوکانیں بند ہو گئے طورخم بارڈرپر افغانستان سے دنبے لانے پر پابندی کی وجہ مقامی قصائی شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں،دنبوں پر ٹیکس دینے کیلئے تیار ہیں بارڈر پر اجازت دی جا ئے،بیوپاریوں کا موقف،اگر افغانستان سے دنبے لانے شروع ہو گئے تو گوشت کی قیمتیں کم ہو جائیگی لنڈیکوتل بازار اور طورخم میں چھوٹے گوشت فروخت کرنے والے قصائیوں کی دودرجن سے زیا دہ دوکانیں بند ہو گئے ہیں ذرائع کے مطابق کہ لنڈیکوتل اور طورخم میں مقامی قصائی افغانستان سے دنبے لاتے تھے جسکی وجہ سے مقامی لوگوں سمیت خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں سے لوگ لنڈیکوتل آکر مشہور سیخ تکہ یعنی (وریتہ)اور کڑاہی کھا تے تھے لنڈیوکتل اور طورخم میں پہلے سیخ تکہ فی کلو نوسو پچاس روپے فروخت کیا جاتا تھا لیکن افغانستا ن سے دنبے بند ہو نے کے بعد بارہ سو روپے فی کلو فروخت کیا جاتا تھا اس سلسلے میں مقامی قصائیوں نے موقف اختیار کیا کہ بارڈر پر دنبے لانے پر پابندی کے باعث پہاڑی راستوں پر دنبے لانا شروع ہو گئے جہاں پر دو تین راستوں پر ان سے پیسے لئے جا تے تھے بلکہ پہاڑی راستوں کی وجہ سے راستے میں کئی دنبے بھی مر جا تے تھے جس سے بیو پاری کو بہت نقصان ہو تا تھااس لئے پھر بیوپاریوں نے بھی فی دنبے کی قیمت تین سے چار ہزار تک زیا دہ کر دیتے قصائیوں نے بتا یا کہ چمن کے راستے پشاور تک دنبے پہنچ جا تے تھے اس لئے پھر انہوں نوشہرہ اور پشاور میں دنبے خرید لنڈیوتل اور طورخم لاتے تھے لیکن اب زیا دہ بر فباری کی وجہ سے چمن کے راستے بھی دبنے لانا بند ہو گئے ہیں اس لئے اب دنبے نہیں مل رہے ہیں جسکی وجہ سے دوکانیں بند کر دئی گئی ہیں جبکہ بیوپاریوں نے بتا یا کہ وہ ٹیکس دینے کیلئے تیار ہیں اس لئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بارڈر پر دنبے لانے پر پابندی ختم کریں کیونکہ اس قومی خزانے کو فائدہ پہنچے اور چھوٹے گوشت کی قیمتیں بھی کم ہو جا ئیگی

مزید : پشاورصفحہ آخر