میرے پاس تم ہو: دانش کی موت سے شائقین افسردہ، گھروں، سوشل میدیا پر تبصرے

میرے پاس تم ہو: دانش کی موت سے شائقین افسردہ، گھروں، سوشل میدیا پر تبصرے

  



ملتان (اے پی پی)ٹی وی سیریل ”میرے پاس تم ہو“ ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی ناظرین کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ہفتے کی شب لوگوں کی بڑی تعدادنے ٹی وی پر یہ ڈرامہ دیکھا اوراس کے بعد سے ملتان میں بھی یہ ڈرامہ گفتگو کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے معروف ماہر تعلیم،مقتدرہ قومی زبان کے(بقیہ نمبر34صفحہ12پر)

سابق سربراہ اور ڈرامہ نگار ڈاکٹر انواراحمد نے کہاکہ میں نے یہ ڈرامہ تونہیں دیکھا لیکن خوش آ ئندبات یہ ہے کہ اداکاروں کی بجائے اس مرتبہ ڈرامے کامصنف خلیل الرحمن قمر زیربحث آیا ہے۔وگرنہ ایک طویل عرصے سے ڈراموں کے لکھاری غیرمتعلق ہوچکے تھے۔معروف ماہرتعلیم اور دانشورڈاکٹرفرزانہ کوکب نے کہاکہ ڈرامے میں ایک مرد عورت کی ایک بار کی بے وفائی برداشت نہ کرسکا اور مرگیاانسان جو تھا۔ایک عورت کو باربار مرد کی بے وفائی برداشت کرناپڑتی ہے اور ڈھیٹ بن کر جینا پڑتا ہے وہ انسان جو نہیں۔معروف سفرنامہ نگار قیصر عباس صابر نے کہا کہ یہ معمول کا ڈرامہ تھا اورکہانی بھی غیرمعمولی نہیں تھی۔ لیکن مارکیٹنگ کے دور میں مصنف اورپروڈیوسر نے اسے مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اب یہی آرٹ ہے۔گھریلو خاتون شمائلہ لودھی نے کہا کہ یہ ڈرامہ موضوع کے حوالے سے منفردتھا۔دوسری جانب اس نے عورت مرد کے رشتے کے ان پہلو?ں کواجاگر کیا جن پر کبھی کسی نے قلم نہیں اٹھایا تھا۔احمدبلا ل نے کہاکہ ایک گٹھن زدہ ماحول اورتفریح سے محروم معاشرے میں ایسی چھوٹی چھوٹی خوشیاں لوگوں کو میسر آنی چاہیں۔اس ڈرامے نے رجحان تبدیل کیا ہے اور زندگی کے ان پہلو?ں پر گفتگو کا موقع دیا جن پر اس سے پہلے بات بھی نہیں کی جاتی تھی۔جبکہ آخری قسط میں دانش کی موت پر شائقین افسردہ ہوگئے اس کے علاوہ ڈرامہ ختم ہوتے ہی گھروں، سوشل میڈیا پر تبصرے، بحث شروع ہوگئی علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر بضد لوگوں نے دانش، مہوش اور ٹیچر کے حوالے سے پوسٹیں بھیجنے کاطوفان برپا کردیا ہے۔

ڈرامہ

مزید : ملتان صفحہ آخر