ملتان میں کتاب”گوروں کے دیس سے“ کی تقریب رونمائی، رائٹر‘دانشور عارف انیس اور دیگر مقررین کا خطاب

ملتان میں کتاب”گوروں کے دیس سے“ کی تقریب رونمائی، رائٹر‘دانشور عارف انیس ...

  



ملتان (سٹاف رپورٹر)لندن سے آئے کالم نگار، موٹیویشنل سپیکر اور دانشور عارف انیس ملک نے کہا ہے کہ کتاب زندہ رہتی ہے۔ کتاب روح کی غذا ہے۔ گوروں کے مقابلے میں ہم(بقیہ نمبر22صفحہ12پر)

زیادہ باصلاحیت اور زرخیز ذہنوں کے مالک ہیں۔جو کام گورے تین ماہ میں مکمل کرتے ہیں ہمارے لوگ وہ تین دن میں کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی تصنیف "گوروں کے دیس سے" کی تقریب رونمائی و پذیرائی سے کیا۔ تقریب رونمائی کا اہتمام ارتقاء آرگنائزیشن پاکستان، این سی بی اے ای اور بزمِ احباب ملتان نے مشترکہ طور پر کیا۔ صدارت پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کی جبکہ مہمانانِ گرامی میں پروفیسر ڈاکٹر خالد سعید، محمود جاوید بھٹی، پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب، ڈاکٹر امجد بخاری، ایم اے جہانگیر اور صاحبِ شام عارف انیس ملک شامل تھے۔مقررین میں رانا تصویر احمد، عبدالمحسن شاہین،محمد افضل سپرا، انیق حیدر شامل تھے۔ نظامت کے فرائض خواجہ مظہر نواز صدیقی نے سرانجام دیئے۔ پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کہا کہ عارف انیس کی تحریر خود شناسی اور خود اعتمادی کا سبق دیتی ہے۔ ڈاکٹر خالد سعید نے کہا کہ عارف انیس میرا شاگرد ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب نے کہا کہ میں نے کتاب کو پڑھا اور اسے دلچسپ پایا۔ افضل سپرا نے کتاب پر تفصیلی تبصرہ کیا۔ محمود جاوید بھٹی نے کہا کہ ڈیجیٹل ورلڈ کے باوجود کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔گوروں کے دیس سے ایک پینڈو کے روز و شب پڑھ کر خوشی ہوئی۔ عارف انیس کا اندازِ تحریر پختہ کار ادیب کا انداز تحریر ہے۔ عبدالمحسن شاہین نے کہا کہ کتب بینی کا ذوق ابھی ختم نہیں ہوا۔ عارف انیس کی کتاب کتاب دوستوں کے لئے انمول تحفہ ہے۔رانا تصویر احمد نے کہا کہ ہمیں ملتان کے سپوت عارف انیس پر فخر ہے۔ سب سے آخر میں لندن سے آئے عارف انیس نے خطاب کیا اور کہا کہ ملتان میرا پہلا پیار ہے۔ میں نے یہاں تعلیم حاصل کی اور یہیں سے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا۔ ہمیں کوشش، محنت اور امید کا سفر جاری رکھنا چاہیے۔ منزلیں مستقل مزاج لوگوں کو ملتی ہیں۔ مہمانوں اور مقررین میں کتاب تقسیم کی گئی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر