تعلیمی میدان میں ترقی‘ بجٹ کا چالیس فیصد ایجوکیشن سیکٹر کیلئے مختص

تعلیمی میدان میں ترقی‘ بجٹ کا چالیس فیصد ایجوکیشن سیکٹر کیلئے مختص

  



جام پور(نامہ نگار) کسی بھی قوم اور ملک کی ترقی کا اندازہ تعلیم سے لگایا جاتا ہے۔ پنجاب حکومت نے سترہ سال تاریخ کو بدل کرکے پہلی مرتبہ اردو میں تعلیمی نظام نافذ کرتے ہوئے میرٹ پر ان چار لاکھ اساتذہ کے تبادلے کیے ہیں۔ بنیادی ٹیچرز کی استعداد کار کو بڑھانے کے لیے پانچ ار ب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں۔مسلم لیگ ن کے دور میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی آج بھی لاکھوں طلباء تعلیم سے محروم ہیں ان خیالات کا اظہار ۔ تعلیم سب کے لیے۔کے عنوان پر مختلف سیاسی وسماجی اور تعلیمی شخصیات نے سروے(بقیہ نمبر12صفحہ12پر)

کے دوران کیا۔ ممبر قومی اسمبلی سردار محمد جعفرخان لغاری نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بجٹ کا چالیس فی صد تعلیم کے لیے مختص کیا ہے۔ تاریخ پاکستان میں پہلی مرتبہ چار لاکھ اساتذہ کے تبادلے ان لائن ہو ئے اور سیاسی مداخلت سے تعلیم کے شعبہ کو پاک کر دیا گیا۔ سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مینا جعفرخان لغاری نے کہا کہ حکومت تعلیم کے زیادہ سے زیادہ وسائل عوام کو فراہم کرئے۔ سابق وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ موجودہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ بیس لاکھ سے زاہد بچے سکولوں سے اووٹ ہیں۔ پنجاب بھر میں ہزاروں اسامیاں سربرہان اداروں کی خالی پڑی ہوئی ہیں۔ چھتیس اضلاع کے سی ای او ز اورڈی ای اوز کی تقریاں نہ ہو نے سے معاملات الجھ کرکے رہ گئے ہیں۔ تعلیم اور ہیلتھ کے شعبہ زبوں حالی کا شکار ہیں۔ سابق ناظم مرزا شفقت اللہ نے کہا کہ تعلیم ہی واحد ترقی کا ذریعہ ہے۔ پنجاب ٹیچرز یونین ضلع صدر سید قیصر حسین بخاری نے کہا کہ اساتذہ کو حقوق دیے بغیر تعلیم کے اہداف پورے نہیں کیے جاسکتے۔ ممتاز قانون دان راو صغیر احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ تعلیم کی بدولت ملک میں جرائم کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ انتہا ء پسندی اور دہشت گردی کے لیے تعلیم کے ساتھ ہنرمندی کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ ڈی ای او تعلیم زنانہ راجن پور میڈیم طائرہ شاہین نے کہا کہ آج کے دور میں خواتین کے لیے تعلیم ضروری ہے۔ ممتاز مائر تعلیم راو ثناء اللہ خان نے کہا کہ تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے جوکہ حکومت کو فراہم کرنا ہے۔ سابق مائر تعلیم وقانون دان حاجی عقیل احمد خوجہ نے کہا کہ حکومت ہر ایک کے لیے یکساں نصاب کے ساتھ ساتھ یکساں مواقع فراہم کرئے۔ صدر اے ای او راجن پور عبدالصمدشبیر خان نے کہا کہ اساتذہ کو معاشی پریشانی سے نجات دیے بغیر حکومت کو خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ہیڈماسٹر حاجی حیات خان نے کہا کہ پرانے اساتذہ کو جدید تقاضوں سے ہم اہنگ کرنے کے لیے ریفریشر کورسز کرائے۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کے داخلہ کے لیے قانون سازی کرئے۔ سنیئر معلم ذوالفقار علی خان نے کہا کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائے۔ کیونکہ بچے کی ذہنی کیفیت مکمل نہیں ہو تی۔ موجودہ حکومت کا اردو میں ذریعہ تعلیم کے مشبت اثرات مرتب ہو نگے۔

مختص

مزید : ملتان صفحہ آخر