تخت بھائی، چارسدہ شوگر ملز کے بعد مردان شوگر ملزبھی بند ہونے کا خدشہ

تخت بھائی، چارسدہ شوگر ملز کے بعد مردان شوگر ملزبھی بند ہونے کا خدشہ

  



شیرگڑھ (نامہ نگار) خیبر پختونخوا میں حکومت کی غلط اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے تخت بھائی شوگر ملز اور چارسدہ شوگر ملز کی بند ہونے کے بعد مردان شوگر ملز بھی بند ہو نے کا خدشہ ہے خیبر پختو نخوا صنعتی قبرستان میں تبدیل ہو چکا ہے سینکڑوں کارخانوں کی بندش سے ہزاروں ملازمین فاقوں کی زندگی گزرانے پر مجبور ہیں کارخانوں کی ائے روز بندش سے حکومت کو بھی کروڑوں روپے کا رونیوسے بھی محروم ہو گیا بے روزگاری کی بدولت نوجوان طبقہ منفی سرگرمیوں میں سرگرم عمل ہو گئے خیبر پختو نخوا کے 2850چھوٹے بڑے صنعتی یونٹوں میں سے 450سے زائدکارحانے بند پڑے ہیں مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت صوبے کو معاشی طور پر کمزور کر رہے ہیں اور زیادہ تر صنعت کاروں نے اپنا سرمایہ یہاں سے نکال کر پنجاب منتقل کر رہے ہیں صوبہ خیبر پختو نخوا کے مدر شوگر انڈسٹری مفلوج ہو کر رہ گئی ہے گنے کے سیزن کے باوجود بھی خیبر پختونخوا میں ایشیاء کا سب سے بڑا مردان شوگر ملز گنے نہ ملنے کی وجہ سے دو مہینوں سے بند پڑا ہیں اگر مردان شوگر ملز ایسی طرح بند رہا تو خدشہ ہے کہ دو ہزار کے لگ بھگ ملازمین بے روزگار ہو جاہیں گے مردان شوگر ملز کے انتظامیہ کے مطابق کاشتکار شوگر ملز کو گنا نہیں دیتے جس کی وجہ ملز بند پڑا ہے شوگر ملز ہر سال کروڑوں روپے کا ٹیکس دیتے ہیں لیکن اس برعکس حکومت ملز مالکان کو کچھ مراعات بھی نہیں دیتے صوبہ خیبر پختونخوا میں گڑ گانیوں کی تعداد 7000سے لیکر 8500تک ہیں لیکن حکومت کو ایک پیسہ ٹیکس نہیں دیتے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ملز مالکان جس ریٹ پر گنا خرید رہے ہیں وہ نہ ہونے کی برابر ہیں جس پت کوئی شلغم بھی نہیں لیتے مردان شوگر ملز کے صدر محمد نبی کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی سے خیبر پختونخوا کا شوگر انڈسٹری تباہی ہو چکی ہے تخت بھائی شوگر ملز چارسدہ شوگر ملز کی بندش کے بعد اب مردان شوگر ملز بھی بند ہونے کا قریب پہنچ گیا اگر حکومت نے فوری طور پر شوگر انڈسٹری پر توجہ نہ دی گئی تو خزانہ شوگر ملز پشاور اور مردان شوگر ملز بھی اسال بند ہو جائے گا مردان شوگر ملز کے محنت کش 28جنوری کو مردان پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے ملک بھر میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ایک طرف عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے تو دوسری طرف خیبر پختونخوا کے شوگر انڈسٹری تباہی کے دہانے پہنچ چکی ہے 15نومبرسے گنے کا سیزن شروع ہوتاہے اور مارچ تک گنے کا سیزن ہوتا ہے لیکن گذشتہ کئی سالوں سے خیبرپختونخوا کے شوگرملز چار مہینوں کی بجائے ایک مہینہ بھی نہیں چلتا کیونکہ مقامی شوگر ملوں کو کاشتکار گنا نہیں دیتے اور زیادہ تر کاشتکار گنے سے گڑ بنا لیتے ہیں تخت بھائی اور چارسدہ کی شوگرملوں کی بندش سے پہلے ہزاروں ملازمین بے روز گار ہو چکے ہیں جبکہ مردان شوگر ملز کی بند ہونے بے روزگار مزدوروں میں 2000کا مزید اضافہ ہو جائے گا مردان شوگر ملز کے کین منیجر مسعود خان سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے شوگر ملز مالکان پنجاب کے ملوں کی بجائے زیادہ نرخ پر گنا خریدتے ہیں اور ساتھ ہی ہر سال حکومت کو مختلف ٹیکسوں کی مد میں کروڑوں روپے کا ٹیکس دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی کاشتکار ملوں کو گنا نہیں دیتے جب شوگر ملوں کو گنا نہیں ملتا تو پھر ہم مزدوروں پر کیا کریں گے مجبوراََ ملز کو بند کرنا پڑے گا گنے نہ ملنے کی وجہ جب مقامی کاشتکاروں قمر زمان ایڈوکیٹ جاوید خان اور اختر علی خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ شوگر ملز مالکان جس ریٹ پر گنا خریدتے ہیں اس پر تو کوئی شلغم بھی فروخت نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ شوگر ملز کاشکاروں سے 275روپے 50کلو گرام فی من لیتے ہیں اس پر کاشتکار کیا کریں گے کیونکہ کھاد زرعی ادویات مزدور اور دیگر اخراجات کہیں گنا زیادہ آٹا ہے تو اسی نرخ پر کاشتکار ملز کو گنا نہیں دیتے اور شوگر ملز کی بجائے گڑ بنا نا ہزار درجہا بہتر ہو تا ہے انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ کاشتکاروں گڑ افغانستان بییچنے کی اجازت دی جائے مردان شوگر ملز کے صدر محمد نبی اور جنرل سیکرٹری امجد خان نے کہا کہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ خیبر پختونخوا ایک صنعتی قبرستان بن چکا ہے اور ائے روز خیبر پختونخوا میں کارخانے بند ہوتے ہیں اور ملازمین بے روزگار ہو جاتے ہیں لیکن حکومت کوئی قدم نہیں اٹھاتا انہوں نے کہا کہ حکومت شوگر انڈسٹری کو تباہی سے بچانے کے لئے فوری طور پر گڑ گانیوں پر پابندی لگایں اور خیبر پختونخوا کے شوگر ملوں کو سیلز ٹیکس میں چھوٹ دیں تاکہ ملز مالکاں کاشتکاروں سے مہنگے داموں گنا خرید سکے جس سے شوگر انڈسٹری چل سکے گا اگر صوبائی حکومت نے فوری طور پر خیبر پختونخوا کے شوگر انڈسٹری کی چالو ہونے پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو مردان شوگر ملز کے ہزاروں ملازمین صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے سے دریغ نہیں کریں اور 28جنوری کو مردان شوگر ملز ملازمین مردان پر یس کلب کے سامنے احتجاج کریں گے

مزید : صفحہ اول