’زہریلے سانپ نے چمگادڑ کو کھایا اور پھر۔۔۔‘ خطرناک ترین کرونا وائرس دراصل انسانوں میں کیسے منتقل ہوا؟ سائنسدانوں نے حیرت انگیز انکشاف کردیا

’زہریلے سانپ نے چمگادڑ کو کھایا اور پھر۔۔۔‘ خطرناک ترین کرونا وائرس دراصل ...
’زہریلے سانپ نے چمگادڑ کو کھایا اور پھر۔۔۔‘ خطرناک ترین کرونا وائرس دراصل انسانوں میں کیسے منتقل ہوا؟ سائنسدانوں نے حیرت انگیز انکشاف کردیا

  



بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین سے پھیلنے والے نئے کورونا وائرس نے دنیا بھر کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ یہ جان لیوا وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوا اور محض چند ہفتوں میں ہزاروں چینی باشندوں کو ہسپتال پہنچا کر یہ وائرس امریکہ، کینیڈا، جاپان، تھائی لینڈ اور تائیوان سمیت 13ممالک تک پھیل چکا ہے۔میل آن لائن کے مطابق چین میں اب تک اس وائرس سے 80سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ سائنسدان اس نئے وائرس کی ہئیت اور اس کے پھیلاﺅ پر انگشت بدنداں ہیں اور اب ان کی طرف سے ایک تھیوری پیش کی گئی ہے کہ آیا یہ وائرس کہاں سے آیا اور انسانوں میںکیسے پھیلا۔

یہ تھیوری 2011ءکی ایک سائنس فکشن فلم ’کنٹیجن‘ (Contagion)کی کہانی سے حیران کن حد تک مشابہہ ہے اور یوں لگتا ہے کہ اس فلم کے مصنف نے گویا چین سے پھیلنے والی اس آفت کی پیش گوئی کی تھی۔ فلم میں ایک گھنے جنگل میں بلڈوزر ایک جگہ کام کے لیے پہنچتا ہے۔ وہاں کیلے کے ایک درخت پر ایک چمگادڑ موجود ہوتی ہے اور کیلے کھا رہی ہوتی ہے۔ بلڈوزر کی وجہ سے چمگادڑ ڈر کر اڑجاتی ہے۔ اس کے پاس کیلے کا ایک ٹکڑا بھی ہوتا ہے جو کچھ فاصلے پر نیچے گر جاتا ہے۔ نیچے سو¿وروں کا ایک جھنڈ ہوتا ہے اور ان میں سے ایک سو¿ر کیلے کا وہ ٹکڑا اٹھا کر کھا لیتا ہے۔

پھر شکاری اس سو¿ر کو پکڑ کرمیکاﺅ کے ایک ہوٹل پہنچا دیتے ہیں جہاں اس کا گوشت بنا کر کچن پہنچا دیا جاتا ہے۔ شیف اس گوشت کو پکا رہا ہوتا ہے کہ اسی دوران اسے کال آتی ہے اور ایک گاہک سے ملنے کو کہا جاتا ہے۔ وہ ہاتھ دھوئے بغیر اس گاہک کے پاس چلا جاتا ہے اور اس سے مصافحہ کرتا ہے۔ وہ بدقسمت گاہک خاتون اس جان لیوا وائرس میں مبتلا ہو جاتی ہے جو چمگادڑ اور سو¿ر میں پائے جانے والے وائرس کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس خاتون سے یہ وائرس تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے اور ہفتوں میں اڑھائی کروڑ لوگ اس کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔

یہ تو اس فلم کی کہانی تھی۔ اب سائنسدانوں نے چین میں پھیلنے والے کورونا وائرس کی جو تھیوری بیان کی ہے ، ذرا وہ سن لیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ وائرس ایک چمگادڑ اور سانپ کے ذریعے انسانوں میں پھیلا ہے۔ چینی صوبے ہیوبی کے جنگلات میں کسی سانپ نے چمگادڑ کو کھا لیا ہو گا اور وہ سانپ کسی شکاری کے ہتھے چڑھ کر چین کے شہر ووہان کی گوشت کی مارکیٹ پہنچ گیااور اس کا گوشت کسی نے خرید کر کھا لیا ہو گا۔ چنانچہ اسے یہ کورونا وائرس لاحق ہو گیا اور اس سے آگے اب تک ہزاروں لوگوں میں پھیل چکا ہے اور دنیا کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔

سائنسدانوں کی یہ تھیوری بے جا نہیں ہے۔ تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ اس وائرس پر پائے جانے والے ’سٹینز‘ (Stains)سانپ اور چمگادڑ میں پائے جانے والے وائرس سے مشابہہ ہیں۔ چنانچہ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سانپ نے چمگادڑ کھائی جس سے چمگادڑ میں پایا جائے والا اسی قسم کا وائرس سانپ میں منتقل ہوا۔ اسی وائرس کی ایک قسم سانپ میں بھی پائی جاتی ہے چنانچہ چمگادڑ کے وائرس اور سانپ کے وائرس کے ملنے سے یہ نیا کورونا وائرس تخلیق ہوا اورا س سانپ کا گوشت کھانے سے انسانوں میں منتقل ہو گیا۔ اس وائرس کی حقیقت جاننے کے لیے سائنسدان مزید تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف اس وائرس کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے امریکہ اور دیگر ممالک میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی