سندھ میں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم آمنے سامنے

سندھ میں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم آمنے سامنے

  

حکومت کی اتحادی جماعت،ایم کیو ایم (پاکستان) سندھ اسمبلی کی ایک نشست کے انتخاب میں تحریک انصاف کے مدمقابل ہو گی، کراچی کے حلقہ پی ایس88میں دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کر دیئے ہیں اور انتخابی مہم بھی شروع کر دی ہے۔ایم کیو ایم  نے اپنا امیدوار دستبردار کرنے سے انکار کر دیا ہے اس کا موقف ہے کہ وہ صرف وفاق میں حکومت کی اتحادی ہے، سندھ میں اس کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں اور وہ یہ انتخاب اپنی پارٹی کے بینر تلے ہی لڑے گی۔ ایم کیو ایم  کے دو وزراء وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں۔سندھ اسمبلی کے جو ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں ان میں کوئی بھی جماعت کامیاب ہو، پیپلزپارٹی کی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ سندھ اسمبلی میں حکومت کو واضح اکثریت حاصل ہے اور تحریک انصاف،ایم کیو ایم سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر بھی صوبائی حکومت کا کچھ بگاڑنے کی ”صلاحیت“ نہیں رکھتیں،البتہ ان نشستوں کی ہار جیت پر لفظی پروپیگنڈہ ضرور شروع ہو جائے گا۔ اگر پیپلزپارٹی کوئی نشست ہار جائے گی تو کہا جائے گا عوام نے پارٹی کو مسترد کر دیا۔ تحریک انصاف، سندھ حکومت گرانے کے لئے دو اڑھائی برسوں میں کئی سنجیدہ کوششیں کر چکی ہے، کئی پُرجوش وفاقی وزراء تو پیش گوئیاں کرتے نہیں تھکتے تھے کہ حکومت گئی کہ  گئی، لیکن تمام تر پیش گوئیوں، خواہشات اور کوششوں کے علی الرغم سندھ کی حکومت اب تک قائم ہے نہ صرف قائم ہے،بلکہ آج ہی سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم سمیت کسی وفاقی وزیر کے سامنے نہیں، صرف صوبائی اسمبلی کو جوابدہ ہیں۔ انہوں نے یہ بیان وفاقی وزیر علی زیدی کے ساتھ حالیہ ایک جھڑپ کے پس منظر میں دیا ہے۔دونوں کی ایک اجلاس کے دوران تلخی ہو گئی تھی اور وفاقی وزیر اجلاس سے چلے گئے تھے اور جا کر حسب ِ روایت سندھ حکومت کے خلاف ایک بیان داغ دیا تھا۔

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے امیدواروں کے ایک دوسرے کے مدمقابل الیکشن لڑنے سے یہ حقیقت الم نشرح ہو گئی ہے کہ سیاسی اتحاد وقتی مصلحتوں کے پیش ِ نظر بنتے ہیں اور انہی کی وجہ سے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کے اندرونی اختلافات کو جس طرح اچھالا جا رہا ہے اور سرکاری ترجمان جس طرح لُڈیاں ڈال رہے ہیں اُن کے لئے یہ صورتِ حال لمحہ فکریہ ہونی چاہئے۔حکومت کے عہدیدار تسلسل کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کا بیانیہ ایک نہیں ہے۔ یہ بات ہے تو بالکل درست، لیکن اس میں شادمانی کے ڈنکے بجانے کا کوئی سامان نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے منشور اور اپنا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے، ان کے اپنے اپنے طویل المدت اور قلیل المدت(اغراض اور) مقاصد ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے جس طرح 2018ء کا الیکشن اپنے اپنے منشور کے مطابق لڑا تھا اسی طرح وہ یہ ضمنی الیکشن بھی اپنی اپنی آزاد اور الگ تھلگ حیثیت میں لڑ رہی ہیں، بلاشبہ دونوں جماعتیں اس وقت اتحادی ہیں اور ایم کیو ایم شریک حکومت بھی ہے،لیکن ماضی کا تجربہ شاہد ہے کہ موخر الذکر کبھی کسی کی مستقل اتحادی نہیں رہی۔ یہ پیپلز پارٹی کی حکومت کا حصہ تھی، پھر کچھ عرصے تک مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں بھی شامل رہی، سب سے زیادہ عرصہ اس نے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کا لطف اٹھایا،اس کے گورنر نے طویل ترین مدت تک منصب پر فائز رہنے کے ریکارڈ قائم کئے،اب اگرچہ اس جماعت کے حصے بخرے ہو گئے ہیں اور ماضی کا وہ بانکپن اور طنطنہ رخصت ہو چکا، جس کی بنیاد پر وہ کراچی کی واحد نمائندہ جماعت ہونے کا دعویٰ کیا کرتی تھی، اب تحریک انصاف بھی کراچی کی نمائندگی  کے دعوے میں شریک ہے تاہم ایم کیو ایم کی اپنی حیثیت ہے۔

ایک زمانے میں جب ایم کیو ایم  کی بڑی دہشت تھی، تحریک انصاف کی ایک نامور خاتون کو قتل کر دیا گیا تھا۔پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ یہ قتل ایم کیو ایم  کے بانی کی ہدایت پر ہوا ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین یہ مقدمہ لڑنے کے لئے ثبوتوں کے اٹیچی کیس لے کر لندن تک گئے،لیکن بات نہ بنی۔ اب حالات بدلے ہیں تو قتل کا الزام لگانے والے اور الزام علیہ جماعت کے لوگ حکومت میں اکٹھے بیٹھے ہیں۔ سیاست ِ دوراں کی نیرنگیوں نے کوئی کرشمہ دکھایا تو دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ بھی ہو سکتے ہیں۔اِس لئے دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ وزیر مشیر پی ڈی ایم کے اختلافات پر ضرورت سے زیادہ خوش نہ ہوں اس اتحاد میں اختلافات بھی ہوتے ہیں اور بحث مباحثے کے بعد کسی متفقہ نتیجے پر بھی پہنچ جاتے ہیں، پی ڈی ایم کی بڑی جماعت مسلم لیگ(ن) اسمبلیوں سے استعفوں کی بڑی حامی ہے تاہم اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ سینیٹ کا الیکشن لڑے  گی، حکومتی ترجمان اسے ”لطیفہ“ کہہ رہے ہیں،لیکن اسی لطیفہ کے باعث حکومت کا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کا خواب شرمندہئ تعبیر نہیں ہو گا۔ وہ سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت تو ضرور بن جائے گی،لیکن سادہ اکثریت اس کے پاس پھر بھی نہیں ہو گی اور ایوانِ بالا میں قانون سازی کے لئے اسے دوسری جماعتوں کا تعاون درکار ہو گا،اِس لئے حکمت ِ عملی کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت اور اس کے اتحادی مخالفین کو دیوار کے ساتھ لگانے کی پالیسی ترک کر دیں۔پی ڈی ایم اگر اب اسمبلیوں میں واپس جانا چاہتی ہے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے،لیکن منفی تبصروں ہی کا نتیجہ ہے کہ  پیر کے روز پارلیمینٹ ہاؤس میں حکومت اور پوزیشن کا جو اجلاس ہونے والا تھا وہ نہیں ہو سکا۔ اس اجلاس کا مقصد پارلیمینٹ میں بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنا تھا، لیکن مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی نے گزشتہ روز فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اگرچہ یہ پالیسی انتہا پسندانہ ہے اور پارلیمانی جمہوریت کی روح کے مخالف بھی،تاہم جس انداز میں ترجمانوں کے تبصرے ہو رہے تھے ایسے حالات میں عجب نہیں کہ مسلم لیگ(ن) نے بھی اپنے موقف میں کسی قسم کی نرمی سے انکار کر دیا ہو۔اسی کا نتیجہ تھا کہ پیر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے لئے کورم بھی پورا نہ ہو سکا، اور اِس ضمن میں محترم وزیروں کی بھاگ دوڑ بھی کسی کام نہ آئی۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ حکومت اور اپوزیشن پارلیمینٹ کی کارروائی مل کر آگے بڑھاتیں لیکن یہ خواہش بھی پوری نہیں ہو رہی،پی ڈی ایم میں اگر سب اچھا نہیں ہے تو ایم کیو ایم کے فیصلے سے لگتا ہے کہ حکومتی اتحاد کے بارے میں بھی راوی چین ہی چین نہیں لکھتا،اِس لئے بہترین پالیسی یہ ہے کہ اپوزیشن کو ہدفِ ملامت بناتے وقت اپنی محدودات پر بھی غور کر لیا جائے، کیا دلچسپ صورتِ حال ہے کہ حکومت کے مزے لینے والی ایک جماعت کراچی میں اس کے مد ِمقابل ہے اور دونوں ایک دوسرے کو ہرانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -