کیا وزیراعظم کالی بھیڑوں کا محاسبہ کر پائیں گے؟

کیا وزیراعظم کالی بھیڑوں کا محاسبہ کر پائیں گے؟
کیا وزیراعظم کالی بھیڑوں کا محاسبہ کر پائیں گے؟

  

وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب نے بیان دیا کہ ہم کچھ نہیں چھپائیں گے براڈشیٹ میں فائدہ اٹھانے والے ہر کردار کو سامنے لائیں گے۔ میں نے سوچا کیوں نہ پاکستانی عوام سے اس حوالے سے اپنا دکھ بانٹوں۔براڈ شیٹ نے پاکستانی سیاست میں بڑی ہلچل مچادی ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ براڈ شیٹ کو غریب پاکستانی عوام کے اربوں روپے جرمانے کے ساتھ ادا کرنے پڑے۔ جس فوجی حکمران کے دور میں یہ معاہدہ کیا گیا تھا اسی نے اپنے دور میں اسے منسوخ بھی کیا۔ اب ہم حقائق کو جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ معاہدہ کیوں کیا اور کیوں اسے منسوخ کیا گیا؟۔

یہ بات سال  2000 ء کی ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری سمیت 200سے زائد پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں کی چھان بین کے لئے معاہدہ کیا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت برآمد ہونے والی رقم کا 20 فیصد براڈ شیٹ فرم کو دیا جاتا تھا۔ براڈ شیٹ کے ساتھ 2000ء میں معاہدہ کیا گیا،لیکن اچانک سال 2003 ء میں نیب کی جانب سے یہ معاہدہ ختم کر دیا گیا۔ معاہدہ یکطرفہ ختم کرنے پر براڈ شیٹ نے اپنے ملک  برطانیہ کی ثالثی عدالت میں دعوی دائر کر دیا تھا اور 2017 ء میں براڈ شیٹ  کے حق میں فیصلہ آ گیا  اور ثالثی عدالت نے پاکستانی حکومت اور نیب کو حکم دیا کہ وہ ساڑھے4 ارب سے زائد کا جرمانہ فوری طور پر ادا کرے، حکومت پاکستان نے فیصلے کے خلاف برطانوی عدالت میں اپیل دائر کی جسے 2019ء میں مسترد کرتے ہوئے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔

دسمبر 2020ء میں نیب نے براڈ شیٹ کمپنی کو برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے ساڑھے 4ارب سے زائد جرمانے کی رقم ادا کر دی  اس کے علاوہ غیر ملکی وکلا کو فیس کی مد میں کروڑوں روپے کی ادائیگی بھی کی گئی۔ جب عوام میں غم وغصہ پایا گیا تو آخرکار حکومت نے دباؤ میں آکر اس متنازعہ معاہدے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کا سربراہ سپریم کورٹ کے سابق جج عظمت سعید شیخ کو بنایا گیا۔ اپوزیشن نے اس پر بھی اعتراضات لگائے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ شیخ عظمت سعید  2003 ء میں نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل رہے ہیں، لہٰذا معاہدے سے متعلق ان سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے ناکہ انہیں کمیٹی کا سربراہ بنا دیا جائے۔ بات تو اپوزیشن کی صحیح ہے کہ محترم وزیراعظم کسی غیر متنازعہ شخصیت کو کمیٹی کا سربراہ بنائیں۔ براڈ شیٹ کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے تو ہمیں کچھ حاصل نہ ہوا البتہ قومی خزانے سے اربوں روپے کی ادائیگی کی گئی اور ملک کی جگ ہنسائی بھی ہوئی، حکمران اب تک ملک کے وقار کو آگے نہیں لے جا سکے۔ اگر ہم ایک نظر دوڑائیں تو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر نے بغیر سوچے سمجھے پی آئی اے کے پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کا بیان دے کر پوری دنیا میں ملک کی نہ صرف ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ طیاروں کی لیز کے معاملے کو دیکھیں تو ملائیشیا کے کوالالمپور کے ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے طیارے کو روک لیا گیا۔

جس سے قومی وقار مجروح ہوا۔آخر میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ اصل قصور وار کون ہے؟بات براڈ شیٹ کے معاہدے کی ہورہی تھی کہ مشرف نے یہ معاہدہ کیوں ختم کیا، اصل میں مشرف اپنی کرسی بچانا چاہتا تھا اور اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتا تھا۔ جس نے نواز شریف کو این آر او دیا اور مسلم لیگ (ق) کو حکومت سازی کے عمل میں لاکر خود ایک لمبے عرصے تک پاکستان پر حکومت کرنے کا سوچ لیا۔پاکستانیوں کے بیرون ملک میں اثاثوں کی مد میں جو نام سامنے آئے تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد مشرف کا ساتھ بھی دے رہی تھی، پرویز مشرف نے یہی بہتر سمجھا کہ سب کو این آر او دے کر اپنے اقتدار کو طول دیا جائے۔اس کے نقصانات کیا ہونے تھے؟ اسے پرویزمشرف نے یکسر نظر انداز کر دیا۔ مشرف کے دور اقتدار کا جائزہ لیں تو ہمیں نقصانات کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ کہیں وہ امریکہ سے ڈراتا  تھا اور کہتا تھا پاکستانی عوام پتھر کے دور میں چلے جائیں گے، کہیں امریکہ کو افغانستان میں فتح دلانے کے لئے پاکستان کی سرزمین اور فضائی راستے دیتا تھا۔ امریکی اڈے قائم کئے گئے اور لاتعداد پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کی جنگ میں سیکورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں کے ساتھ ساتھ معصوم پاکستانیوں کو بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا اورپاکستانی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

جس کے بدلے امریکہ سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا،جب مشرف کے خلاف عدالتی فیصلہ آیا تو اس پر غم وغصہ کے اظہار بھی ہوا جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آئین توڑنے والے کو نشان عبرت بنا دیا جاتا۔ مشرف سے پاکستانی عوام نے بہت سی امیدیں باندھ رکھی تھیں لیکن مشرف نے ایسے اقدامات اٹھائے کہ اسے اب تک تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اب ہمیں سوچنا یہ ہو گا کہ اس ملک کو ترقی کی راہ پر کیسے ڈالا جائے۔ اس کے لئے ہر پاکستانی کو اپنی جگہ کردار ادا کرنا ہوگا۔کالی بھیڑیں ہر جگہ موجود ہوتی ہیں وہ نچلے لیول پر ہوں یا اعلیٰ سطح پر، ان کالی بھیڑوں کا محاسبہ کرکے نشان عبرت بنایا جائے۔وزیراعظم کا بیان ہے کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے ہر کردار کو سامنے لائیں گے،اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کالی بھیڑوں کا محاسبہ کرپائیں گے یانہیں؟

مزید :

رائے -کالم -