احتساب کے نام پر نت نئے ڈرامے

احتساب کے نام پر نت نئے ڈرامے
احتساب کے نام پر نت نئے ڈرامے

  

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں ایک خاتون کی آواز آ رہی ہے اور نوازشریف کے لندن والے گھرمیں داخل ہوتے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر بد دعائیہ جملے کس رہی ہے کہ جنہوں نے ملک کو لوٹا ہے اللہ انہیں دنیا و آخرت دونوں میں رسوا کرے، اس پر اسحاق ڈار کہتے ہیں جھوٹوں پر خدا کی لعنت، نوازشریف یا میں نے کچھ نہیں لوٹا، تم جھوٹ بول رہی ہو۔ اتنے میں کچھ اور لوگ بھی آجاتے ہیں جو اس خاتون کو ڈانٹتے ہیں کہ وہ بلا وجہ الزام لگا رہی ہے، اگر حکومت کے پاس ثبوت ہیں تو نوازشریف کی جائیدادیں ضبط کرنے کی کارروائی کرے، عدالتوں میں جائے مگر وہ خاتون بولے جاتی ہے اور بار بار یہی کہتی ہے کہ پاکستان کو لوٹنے والے اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے۔

اس ویڈیو نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سب سے بڑی الجھن تو ذہن میں یہ پیدا ہو گئی ہے کہ لوٹ مار کا  اتنا زیادہ شور شرابہ ہے تو عملی طور پر پاکستان کو کچھ حاصل کیوں نہیں ہوا۔ اگر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ نوازشریف نے لندن کے فلیٹس لوٹ مار کے پیسے سے لئے ہیں تو کارروائی کر کے انہیں واپس لانے کی تدبیر کیوں نہیں کی جاتی؟ صرف قصے کہانیوں سے آخر کب تک کام چلایا جائے گا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ نوازشریف کے اثاثوں میں تین دہائیوں کے درمیان ہو شربا اضافہ ہوا، دنیا بھر میں ان کی ایک ایمپائر کھڑی ہو گئی۔ مگر اصل کام تو یہ ہے کہ اس جائیداد اور اثاثوں کو قومی خزانہ لوٹنے کی واردات سے جوڑا جائے۔ پاکستان میں احتساب اسی لئے ایک انتقام کہلایا ہے کہ الزامات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔

جب سے براڈشیٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے، اس نے سارے احتساب کی جڑیں ہلا دی ہیں لینے کی بجائے دینے کی مثال ایسے شرمناک انداز میں قائم کی گئی ہے کہ شاید ہی دنیا میں ایسا کبھی ہوا ہو۔ حکومت اور مسلم لیگ (ن) بلا وجہ اس معاملے میں الجھ رہے ہیں۔ اصل مجرم تو وہ ہیں جنہوں نے براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ کیا اور پھر احتساب روکتے رہے۔ ویسے تو ایسا معاہدہ بھی دنیا میں کہیں نہیں ہوا ہوگا کہ جس میں یہ شق ہی نہیں رکھی گئی کہ اسے کسی بھی وقت ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایسا دائمی معاہدہ کرنے والے مجرموں کو بچانے کی کوشش بھی کرتے رہے، گویا جس کام کے لئے  براڈشیٹ سے معاہدہ کیا گیا تھا کہ غیر قانونی اثاثوں کی نشاندہی کرے گا اور احتساب بیورو کارروائی عمل میں لائے گا، اسے بے اثر بنایا جاتا رہا۔ اثاثے مل جاتے اور ان سے لوٹی دولت واپس آ جاتی تو  براڈشیٹ بھی اپنا حصہ لیتی اور قومی خزانہ بھی بھرتا، مگر یہاں تو چوروں کو مور پڑتے رہے جونہی  براڈشیٹ کے سراغ رساں کسی جائیداد کا کھوج لگاتے اور ملزم کی نشاندہی کرتے، نیب اس سے ڈیل کر کے معاملہ ختم کر دیتا۔

شواہد بتاتے ہیں کہ نیب اس سکینڈل میں پیسے واپس لانے کی بجائے  براڈشیٹ کو دیتا رہا۔ اربوں روپے قومی خزانے سے اس کام میں ضائع کئے گئے۔ آخری ادائیگی جو جرمانے کے مد میں تھی، موجودہ حکومت نے کی، سوال یہ ہے کہ اس معاملے کو سیاسی کیوں بنایا جا رہا ہے۔ حکومت نے ایک انکوائری کمیٹی بنا دی ہے اور جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ کو اس کا سربراہ بنایا ہے۔ غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ ان کے بارے میں نہ صرف اپوزیشن کے تحفظات ہیں بلکہ وہ اس وقت نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل تھے، جب براڈشیٹ سے معاہدہ کیا گیا۔ گویا ایک متنازعہ معاہدہ کرنے والوں میں وہ شامل تھے۔ ایسے میں غیر جانبدارانہ انکوائری کیسے کر سکیں گے۔ عظمت سعید شیخ تو خود سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں، اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس جج یا انکوائری کمیٹی کے سربراہ پر انگلیاں اٹھ جائیں اسے دستبردار ہو جانا چاہئے۔ معاملہ یہ نہیں کہ اپوزیشن درست کہہ رہی ہے یا حکومت صحیح ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ  براڈشیٹ کے معاملے میں تو ماضی و حال کے سبھی کردار ملوث نظر آتے ہیں اور اس میں نقصان صرف قومی خزانے کا ہوا ہے۔

پاکستان میں حکومت بدلتی ہے تو لٹیروں کے کردار اور چہرے بھی بدل جاتے ہیں یہ کام کوئی اور نہیں بلکہ نیب کرتا پیپلزپارٹی اقتدار میں ہو تو مسلم لیگ (ن) کے چہرے سامنے آتے ہیں، مسلم لیگ (ن) حکومت بنائے تو پیپلزپارٹی والوں کو نیب چور ثابت کرنے پر تل جاتی ہے۔ اب یہ معاملہ ایک تیسرے فریق کے ہاتھ آ گیا ہے۔ اس بار تحریک انصاف کے دور میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نیب کے ریڈار پر ہیں کیس پر کیس بن رہے ہیں، ریفرنس پر ریفرنس دائر کئے جا رہے ہیں، مگر ایک پیسے کی ریکوری بھی نہیں کی جا سکی۔

ہر کیس شیطان کی آنت بن جاتا ہے، اگر کسی کیس کا فیصلہ ہو بھی جاتا ہے، جیسا کہ نوازشریف کے خلاف احتساب عدالت نے دیا، تو بھی حکومت یا نیب اربوں روپے کی وصولی کو یقینی نہیں بنا سکتی بلکہ کروڑوں روپے کے مزید اخراجات ہو جاتے ہیں یہ کیسا کورگھ دھندہ ہے، جب کچھ حاصل ہی نہیں ہوا تو پھر یہ سارا ڈرامہ کیوں کیا جاتا ہے، جب قانون میں اس قدر جھول موجو د ہیں اور بوقت ضرورت کوئی بھی ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے تو احتساب کی بڑھکیں کیوں ماری جاتی ہیں اگر اسحاق ڈار ایک خاتون کی چیخ و پکار پر یہ کہتے ہیں کہ جھوٹوں پر خدا کی لعنت، اگر ثبوت ہیں تو عدالتوں میں جاؤ، ہم پاکستان اس لئے نہیں آتے کہ وہاں ایک ظالم انتقامی شخص کی حکومت ہے تو حکومت کو اس کے جواب میں کیا کرنا چاہئے، کیا صرف بیان بازی سے کام چلایا جا سکتا ہے یا عملی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

 براڈشیٹ سکینڈل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کے خلاف مہم میں بھی کرپشن ہو جاتی ہے لوٹ مار کرنے والے اس معاملے میں بھی اپنی راہ نکال لیتے ہیں اور قوم کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگا کر معزز بھی کہلاتے ہیں۔ اس کیس میں ایک شخص فواد ملک کا نام بھی ہے۔ جو خود پلاٹ کیس میں نیب کو مطلوب تھا اور نیب کے دفتر ہی میں رہ رہا تھا، اس شخص کے ذریعے براڈشیٹ کو پندرہ لاکھ ڈالرز کی ادائیگی کی گئی کیا احتساب کے نام پر ایسے فلمی ڈرامے آپ نے کسی اور ملک میں دیکھے ہیں۔؟

مزید :

رائے -کالم -