کھوکھر برادران کے خلاف کارروائی، زمین واگذار، مسلم لیگ(ن) کا احتجاج

کھوکھر برادران کے خلاف کارروائی، زمین واگذار، مسلم لیگ(ن) کا احتجاج
 کھوکھر برادران کے خلاف کارروائی، زمین واگذار، مسلم لیگ(ن) کا احتجاج

  

موسم کی شدت میں قدرے کمی آئی، پیر کو نکلنے والی دھوپ نے سردی کی لہر کو ذرا کم کیا ہے، تاہم یہاں سیاست کی سرگرمیوں میں بھی قدرے نرمی آنے کے باوجود حدت کم نہیں ہو پا رہی۔ پی ڈی ایم کی حکمت عملی تبدیل ہو رہی ہے،اگرچہ متعلقہ حضرات اسے تسلیم نہیں کرتے، پیپلزپارٹی کے چیئرمین کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک والی تجویز نے ابہام کی صورت پیدا کر دی ہے۔اگرچہ بلاول نے اسے پی ڈی ایم کی منظوری سے مشروط کیا کہ ساتھی جماعتوں سے بات کی جائے گی تاہم اس کی تجویز اور گفتگو نے یہ تاثر پیدا کر دیا کہ وہ لانگ مارچ اور استعفوں کے مراحل سے گریز کر رہے ہیں اور شاید یہ اِس لئے کہ سندھ کی حکومت کا سوال ہے اور یوں بھی وہ عمر کوٹ کا  انتخاب جیتنے کے بعد باقی ضمنی انتخاب بھی جیتنا اور سینیٹ کے انتخابات میں اپنا حصہ کم نہیں کرنا چاہتے،ان کی یہ تجویز مان لی گئی کہ خود مسلم لیگ(ن) نے بھی بہتر جانا کہ ضمنی اور بعدازاں سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا جائے، مسلم لیگ(ن) کے پاس پنجاب میں اتنی نشستیں ہیں کہ وہ  یہاں سے چار یا پانچ امیدوار جتوا سکتی ہے اور اس مقصد کے لئے وہ محمد زبیر جیسے پکے حضرات کو بھیجنا چاہتی  ہے، جبکہ پرویز رشید کا باہر رہ جانا بھی قبول نہیں، تاہم اس پس منظر میں بلاول بھٹو کی تجویز نے کئی سوال کھڑے کر دیئے اور حکومت اور ان کے اتحادی کے حوالے سے محمد نواز شریف کے بیانیہ کو نقصان پہنچا ہے،حالانکہ بلاول نے پہلے روز ہی سے اس کی تائید نہیں کی تھی،بہرحال یہ پی ڈی ایم کا مسئلہ ہے،اسے ہی حل کرنا ہے۔ شاید اسی مقصد کے لئے پیپلزپارٹی پنجاب(سنٹرل) کے جنرل سیکرٹری  چودھری منظوری احمد نے آصف علی زرداری سے فون پر بات کر کے ان کا عندیہ لیا تو انہوں (زرداری) نے ایک خوبصورت ڈپلومیٹک بیان داغ دیا جس کا مقطع یہ ہے کہ پی ڈی ایم متحد ہے اور موجودہ حکومت جانے والی ہے۔ عدم اعتماد  کا ذکر کئے بغیر کہا ”ہم سب طریقے اختیار کریں گے“۔

دوسری طرف لاہور میں مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر اور ان کے صاحبزادے کے خلاف نیب کے ریفرنسوں کی سماعت تیز کر دی گئی ہے اور محمد شہباز شریف اپنے صاحبزادے کے ساتھ ہفتے میں دو بار دو مختلف عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔ اب شاید عدالت کی ہدایت پر خود ان حضرات نے کارکنوں کو کم تعداد میں آنے کے لئے کہا ہے جو اتنی تعداد میں ضرور آتے ہیں کہ انتظامیہ کو بھاری تعداد میں پولیس ملازم بھیج کر حفاظتی انتظامات کرنا پڑتے ہیں۔احتساب عدالت میں خواجہ صفدر کو بھی پیش کیا گیا تھا اور نیب نے حسب  ِ روایت جسمانی ریمانڈ مانگا، عدالت نے یہ استدعا رد کر دی اور اب خواجہ صفدر جیل میں سرکاری مہمان ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز، اور خواجہ سعد رفیق نے کھوکھر برادران کی مارکیٹ اور متعدد گھر گرانے اور زمین واگذار کرانے پر سخت احتجاج کیا اور روایتی وارننگ بھی دی ”خواجہ سعد رفیق نے کہا، عمران خان آپ اتنا کرو، جتنا برداشت کر سکو، تم نے بھی سدا یہاں نہیں رہنا، اپوزیشن میں آنا ہی ہے“ ان بیانات کا تعلق اتوارکو تجاوزات کے خلاف آپریشن سے ہے۔ایل ڈی اے اور انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ کھوکھر برادران کے قبضہ سے سوا ارب روپے مالیت کی38 کنال زمین واگذار کرائی گئی ہے۔ یہ آپریشن رکن صوبائی اسمبلی سیف الملوک کھوکھر کی اراضی پر کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے  کہ  عدالتی حکم کے باوجود یہ کارروائی کی گئی اور ہم عدالت ہی سے رجوع کریں گے۔یہ آپریشن بڑی زبردست منصوبہ بندی سے کیا گیا، اتوار کو صبح ہی کھوکھر پیلس کو جانے والے راستے کنٹینر لگا کر بند کر دیئے گئے، پولیس کی بھاری جمعیت کے ساتھ ایل ڈی اے کا عملہ بھاری مشینری کے ساتھ پہنچ گیا اور کارروائی شروع کی جو رات گئے تک جاری رہے۔ دلچسپ خبر یہ ہے کہ ایم پی اے سیف الملوک کے دوسرے بھائی جو ایم این اے ہیں نے خصوصی طور پر پولیس اور ملازمین کو کھانا(بریانی) کھلایا اور کہا یہ سرکاری ملازم ہیں ان کا کیا قصور، بات تو اوپر والوں کی ہے۔

صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال بہت محنتی مشہور ہیں،ان کو وزیراعلیٰ کی طرف سے شہر کی صفائی کا ہدف دیا گیا، وہ اپنی تمام تر محنت اور کوشش کے باوجود لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے کارکنوں سے شہر کو صاف نہیں کرا پائے، ایسا احساس ہوتا ہے کہ ایل ڈبلیو ایم سی کے پاس اتنا کوڑا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کی استعداد نہیں ہے جتنا جمع ہو گیا، اور اب روزانہ پھینکا جاتا ہے، میاں اسلم اقبال کو خود اپنے حلقے کی حالت دیکھنا چاہئے،ان کے کارکن ہی پریشان ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -