چینی قونصل جنرل کا شہباز شریف کو جیل میں خط، پنجاب سپیڈ کی تعریف، قوم کو بتانا چاہتا ہوں دو سال سے الزامات کی بوچھاڑ کے باوجود دنیا میرے کام کی معترف ہے: صدر مسلم لیگ (ن)

چینی قونصل جنرل کا شہباز شریف کو جیل میں خط، پنجاب سپیڈ کی تعریف، قوم کو ...

  

 لاہور(آئی این پی)مسلم لیگ(ن)کے صدر،قائد حزب اختلاف شہبازشریف کو پاکستان میں چین کے قونصل جنرل لانگ دنگ بن نے الوداعی خط لکھ کر بطور وزیراعلی پنجاب ان کی کارکردگی کی تعریف کی۔ چین کے قونصل جنرل نے شہباز شریف کے لئے صحت وشادمانی اور کامیابی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے سی پیک کے لئے ان کی خدمات کو سراہا، پنجاب سپیڈکا خصوصی ذکر کیا اور پاک چین دوستی کے لئے کاوشوں کی تعریف کی۔ قونصل جنرل چین نے خط میں لکھا کہ 25جنوری کو پاکستان میں اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل پر سبکدوش ہو رہا ہوں اور چین واپس جا رہا ہوں، آپ چین اور اس کے عوام کے دیرینہ دوست ہیں، بطور وزیر اعلی پنجاب سی پیک منصوبے کے لیے آپ کے جوش و جذبے سے میں بے حد متاثر ہوا ہوں۔قونصل جنرل چین نے شہبازشریف سے کہا کہ آپ نے متاثر کن پنجاب اسپیڈ کے ساتھ نہ صرف سی پیک منصوبوں کی تعمیر کو عملی شکل دی، بلکہ پاکستان اور چین دوطرفہ دوستی کو ایک نئی مہمیز دی، پاکستان مسلم لیگ (ن)حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں، وہ ہمیشہ کیمونسٹ پارٹی چین کی دوست رہی ہے۔ لانگ دنگ بن نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے طور پر دونوں جماعتوں، دونوں ممالک اور دونوں اقوام کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے ہمیشہ کی طرح اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

چین کا شہباز کو خط

  لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے ایڈمن جج جوادالحسن نے منی لانڈرنگ کیس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے پنجاب سمبلی میں اپوزیشن لیڈرحمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 2 فروری تک توسیع کر دی،گزشتہ روز ایک گواہ کے بیان پر وکلاء کی جرح مکمل کی گئی،کیس کی سماعت شروع ہوئی تومیاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو کڑی سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا،دوران سماعت میاں شہباز شریف نے ایک بار پھر بات کرنے کی اجازت ہی اور کہا کہ جی میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، فاضل جج نے کہ اکہ اگر کوئی کیس سے متعلقہ بات ہے تو کرئیے گا،میاں شہباز شریف نے کہا کہ میں ایک خط کے متعلق کہنا چاہتا ہوں، میں قید میں ہوں،مجھے چینی قونصل جنرل کا ایک خط موصول ہوا کہ آپ نے سی پیک کے متعلق جو اقدامات کیے وہ قابل تحسین ہیں،خاص طور پر چین کی جانب سے یہ خط موصول ہونا میرے اور قوم کے لیے اعزاز کی بات ہے،یہ خط پرانا نہیں یہ کل موصول ہوا،یہ میری نہیں یہ پاکستان کی عزت ہے،فاضل جج نے کہا کہ آپ یہ خط اپنے پارٹی کے کسی عہدے دار یا مریم اورنگزیب ترجمان سے پڑھا سکتے ہیں،میاں شہبازشریف نے کہا کہ یہ پاکستان اور چائنا کی دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے، میرے اوپر الزامات کی دو سال سے بوچھاڑ ہو رہی ہے۔اس کے باوجود چین کے سفیر میری تعریف کررہے ہیں،فاضل جج نے کہا کہ میاں شہبازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کیا بتاؤ کہ ہمارے الاؤنسز نہیں مل رہے، عدالت اور شہبازشریف کی اس بات پر قہقہ لگا اور میاں شہبازشریف نے کہا کہ یہاں پر تو ویسٹ مینیجمنٹ والوں کی تنخواہیں نہیں مل رہی، میاں شہباز شریف نے چین کے سفیر کا خط پڑھنے پر پراسکیوشن نے اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ خط کا اس کیس سے کوئی لینا دینا نہیں،عدالتی وقت ضائع نہ کیا جائے جس پرفاضل جن نے ریمارکس دیئے کہ میں نے شہباز شریف کو پہلے ہی کہا کہ کیس کے متعلق بات کریں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں،میرے منصوبوں کو دنیا منا رہی ہے،دوران سماعت عدالت میں ایک گواہ محمد شریف کے بیان پر وکلاء نے جرح مکمل کی جس کے بعدعدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ پیشی تک ملتوی کردی،دوسری جانب میاں شہباز شریف کے وکلا نے موبائل جیمرز ہٹانے سے متعلق عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ موبائل جیمرز صحت پر برے اثرات ڈالتے ہیں، کمرہ عدالت میں کینسر سے لڑنے والے مریض بھی موجود ہیں، کمرہ عدالت کے اندر جیمرز انسانی صحت کیلیے انتہائی خطرناک ہے، عدالت سے استدعاہے کہ جیمبرز فوری ہٹائیں جائیں،فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ جو فون کمرہ عدالت میں استعمال کئے جاتے ہیں اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟اگر آپ مجھے یقین دہانی کروائیں کہ کمرہ عدالت مین کچھ نہیں ہوگا تو ہٹا دیتے ہیں، آپ عدالت میں موبائل فون استعمال کرتے ہیں، درخواست گزار وکلاء نے کہا کہ جیمرا کمرہ عدالت سے باہر لگا دیے جائیں،فاضل جج نے کہا کہ ایس پی سکیورٹی اس معاملے میں عدالت کی معاونت کریں،احتساب عدالت میں میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر ان سے اظہار یکجہتی کے لئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا تارڑ،عظمیٰ بخاری،مزرا جاوید خواجہ عمران نذیر،سمیت دیگر رہنماوں نے دونوں سے ملاقات کی،عدالتی سماعت کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے کہ کہا کہ چین کے قونصل جنرل لانگ ونگ پر اللہ تعالی کا شکرگزار ہوں یہ پاکستان کی عزت ہے،ہمیشہ نیک نیتی سے عوام کی خدمت کی جس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے،علاو ازیں احتساب عدالت میں ایک ہی روز میں تین ریفرنسز میں لمبی پیشی سے شہبازشریف اور حمزہ شہباز تھکاوٹ کا شکار ہوگئے کمرہ عدالت میں ہی شہباز شریف نے نجی کیفے سے سینڈوچ اور کافی منگوا لی اور دوران سماعت شہبازشریف،حمزہ شہباز اور احد خان چیمہ کمرہ عدالت میں سینڈوچ اور کافی نوش کرتے رہے۔دوسری جانب احتساب عدالت کے جج امجد نذیرچودھری نے میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس پر سماعت کرتے ہوئے دو گواہوں پر وکلاء نے جرح مکمل کرتے ہوئے نیب کے دیگر گواہوں کو بیانات قلمبند کروانے کے لئے 9 فروری کوطلب کرلیاہے،ریفرنس پر سماعت شروع ہوئی تومیاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے پیش ہوکر حاضری مکمل کروائی،میاں شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے پراسکیوشن کے گواہ ڈسٹرکٹ انڈسٹریز آفیسر شہباز علی خان پر جرح مکمل کی،دوران سماعت گواہ نے کہا کہ ریفرنس کی فائل پر کوئی ایسا سرٹیفیکیٹ نہیں جو بتاتا ہو کہ کتنے افسران کے پاس ریکارڈ کی فائل رہی ہے، امجد پرویز نے سوال کیا کہ آپ کس کے کہنے پر مقدمہ میں شامل تفتیش ہوئے؟ گواہ نے جواب دیا کہ ڈی سی چنیوٹ کے کہنے پر ریفرنس میں شامل تفتیش ہوا۔ڈی سی نے تحریری طور پر نیب میں پیش ہونے سے متعلق نہیں کہا تھا، ڈی سی چنیوٹ کو نیب کی جانب لیٹر سے موصول ہوا تھا اسی بنیاد پر میں مقدمہ میں شامل تفتیش ہوا، میاں شہباز شریف کے وکیل نے سوال کیا کہ آپ کے پاس اس لیٹر کی کاپی دستیاب ہے؟ گواہ شہباز نے بتایا کہ میرے پاس اس وقت اس لیٹر کی کاپی موجود نہیں ہے،میں ڈی جی انڈسٹریز کو رپورٹ کرتا ہوں اور سیکرٹری انڈسٹریز ہمارے تبادلے کرتے ہیں، میں براہ راست ڈی سی کے ماتحت نہیں ہوں، ڈی سی بطور ڈسٹرکٹ ہیڈ تمام سول محکموں پر نظر رکھتا ہے، نیب کو ریکارڈ پیش کرنے سے قبل ڈی جی انڈسٹریز سے تحریری اجازت نہیں لی تھی،سیکرٹری انڈسٹریز نے مجھے زبانی طور پر کہا تھا کہ رمضان شوگر ملز سے متعلق جو ریکارڈ موجود ہے وہ نیب کو فراہم کیا جائے۔13 اکتوبر 2018ء اور 14 فروری 2019ء کو تفتیشی افسر کے پاس پیش ہوا،13 اکتوبر 2018ء کو تفتیشی افسر نے میرا بیان قلمبند کیا جبکہ دوسری جانب فاضل جج نے آشیانہ ریفرنس میں عدالت نے میاں شہباز شریف کے وکیل کی استدعا پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر نیب کے گواہوں کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے سماعت 3 فروری تک ملتوی کردی۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -