وفاقی کابینہ، براڈ شیٹ پر جسٹس (ر) عظمت سعید کی سربراہی میں انکوائری کمیشن تشکیل، کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں  بدعنوان عناصر کو بے نقاب کیا جائیگا: وزیراعظم 

      وفاقی کابینہ، براڈ شیٹ پر جسٹس (ر) عظمت سعید کی سربراہی میں انکوائری ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں) وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دیدی۔ انکوائری کمیشن کی سربراہی جسٹس عظمت سعید شیخ ہی کریں گے،یک رکنی انکوائری کمیشن براڈ شیٹ کے معاملے کی جامع تحقیقات کرے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ براڈ شیٹ کے معاملے پر کسی کو نہیں چھوڑوں گا،کرپشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا، کرپشن کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے گا،براڈ شیٹ کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔ منگل کے روز وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی، معاشی اور اقتصادی صورتحال سمیت براڈ شیٹ کیس میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ انکوائری کمیشن ان اہم لوگوں کے وہ کیس بھی کھولے گا، جو کسی بھی مصلحت کے تحت بند کیے گئے، اس سلسلے میں راؤسکندر اقبال، آفتاب احمد شیر پاؤ جیسے بڑے ناموں کے کیس ایک بار پھر کھولے جائیں گے۔ وفاقی کابینہ نے بھی براڈ شیٹ تحقیقات کے لیئے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دیدی جس کے سربراہ جسٹس (ر) عظمت سعید ہونگے۔ایک رکنی براڈشیٹ کمیشن صرف جسٹس (ر) عظمت سعید پر مشتمل ہوگا اور کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت تشکیل دیا جائیگا۔ کمیشن نہ صرف براڈ شیٹ کے معاملے کی جامع تحقیقات کریگا بلکہ حدیبیہ پیپر ملز اور سرے محل کی بھی انکوائری کریگا۔کابینہ اجلاس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورت حال پر غور کیا گیا اور ایف نائن پارک اسلام آباد کے عوض سکوک بانڈز اجراء کیلئے وزارت خزانہ کی سمری پر بھی بحث ہوئی، تاہم کابینہ نے ایف 9 پارک کی زمین کے بدلے سکوک بانڈز اجرا کی سمری مسترد کردی۔وفاقی کابینہ نے قرض لینے کیلئے بطور ضمانت ایف نائن پارک کی بجائے اسلام آباد کلب کو گروی رکھنے کی منظوری دیدی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں ایک رکن نے طنزا تجویز دی کہ ایوان صدر میں کیا ہوتا ہے؟ اسے گروی رکھ دیں،جس پر تمام اراکین قہقے لگاتے رہے، اجلاس میں ایف نائن پارک کے عوض سکوک بانڈز کے اجراء کی سمری پر بھی بحث ہوئی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا، سکوک بانڈ ز کی سمری وزارت خزانہ کی جانب سے بھجوائی گئی تھی، کابینہ اراکین نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ میں معاملہ آنے سے پہلے غلط معلومات پھیلائی گئیں،کابینہ میں سری پر بات نہیں ہوئی اور میڈیا پر فیصلہ کرا دیا گیا۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کردی،کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کورونا کے باوجود ملکی ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا، شرح نمو بہتری کی طرف جارہی ہے،کورونا ویکسین کی خریداری میں پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کرنے کی منظوری ے دی ہے،کابینہ نے ویکسین خریدنے کے طریقہ کار کی بھی منظوری دے دی،اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ ویکسین کی قیمت خطے میں دیگر ممالک سے ذیادہ نہیں ہونی چاہیے، پرائیوٹ سیکٹر بھی کورونا ویکسین کی خریداری کرسکے گا،ڈونرز کو کورونا ویکسین ڈونیٹ کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی۔وفاقی وزیر اطلاعات کا وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ این آر او کی وجہ سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا، فارن فنڈنگ کا الزام لگانے والے خود پھنس گئے، وزیراعظم نے تو فارن فنڈنگ کی اوپن سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک ختم ہو گئی، اس کا مقصد صرف صرف این آر او تھا۔ شاہد خاقان عباسی کس منہ سے کہتے ہیں کہ نیب کو بند کر دیں، جس نے چوری نہیں کی اسے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں کو نہیں بڑھائیں گے تو سرکلر ڈیٹ بڑھ جائے گا۔ سابق حکومت کے غلط معاہدوں کی وجہ سے بہت نقصان ہوا۔انہوں نے مزیدکہاکہ لاہور میں قبضہ گروپ کے سرپرست اپوزیشن والے ہیں۔

وفاقی کابینہ

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے ایف نائن پارک کو گروی رکھنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے  وفاقی سیکرٹری خزانہ سے وضاحت طلب کر لی، تفصیلات کے مطابق منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس سکوک بانڈز کے اجراء کیلئے ضمانت کے طور پر اسلام آباد ایف نائن پارک کو رہن رکھنے کے معاملے پر کابینہ بحث کی اندرونی کہانی  سامنے آ گئی، کابینہ اجلاس کے آغاز میں ہی وزیراعظم عمران خان نے وفاقی سیکرٹری فنانس سے سکوک بانڈز کے اجراء اور ایف نائن پارک کو رہن رکنے کے معاملہ پر وضاحت طلب کرتے ہوئے، سیکرٹری خزانہ سے کہا کہ ایف نائن پارک گروی رکھنے کی تجویز کیوں دی گئی،  اس پر سیکرٹری خزانہ نے  وزیراعظم کو  بتایا کہ ماضی کی غلطیاں درست کرنے کیلئے سکوک بانڈز کے اجراء کا سوچا گیا اور گروی رکھناصرف علامتی ہے، عملی طور پر کرنے سے فرق نہیں پڑتا ہے اس موقع پر ایک وفاقی وزیر نے سیکرٹری خزانہ سے کہا کہ اگر ایف نائن پارک کو گروی رکھنا علامتی تھا تو پھر صدر ہاؤس گروی رکھوا دیتے، اسی اثناء وزیراعظم نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ سکوک بانڈ کیا ہوتا ہے لیکن عوامی عمارت اور پارکس کو کسی صورت بھی علامتی طور پر گروی نہیں  رکھوانا چاہیے،وزیراعظم  نے وفاقی سیکرٹری خزانہ  پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بیان کے مطابق گروی رکھنا علامتی ہے اور اگر عملی طور پر گروی رکھنا نہیں ہوتا ہے تو کیا آپ وزیراعظم ہاؤس کو بھی گروی رکھ دیتے اس پر سیکرٹری فنانس کی جانب سے کہا گیا کہ سکوک بانڈز کیلئے زمین کی قدر اور قیمت دیکھی جاتی ہے اس کے بعد ہی فیصلہ لیا جاتا ہے،  وزیراعظم عمران خان نے اجلاس میں وفاقی سیکرٹری فنانس کی بریفنگ اور تجویز کو مسترد کرتے ہوئے سختی سے ہدایات جاری کیں کہ عوام کیلئے بنائے گئے پارکس کو کسی صورت گروی نہ رکھا جائے،وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کابینہ اجلاس میں وزارت قانون کے حکام سے سوال کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر مقدمات کیوں ہار رہا ہے، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سوال کیا کہ کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن پاکستان ایک کیس نہیں جیتا۔ وزیراعظم نے وزراء کے سوالات پر وزارت قانون کے حکام سے عالمی عدالتوں میں زیر سماعت کیسز کی تفصیلات طلب کرلیں۔ وزیراعظم نے پوچھا کہ بیرون ممالک عدالتو میں کتنے کیسز زیر التواء اور وکلاء کون سے ہیں، کیسز دور میں ہوئے اور وکلاء کو کتنی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ کابینہ اجلاس میں بانی متحدہ قومی موومنٹ کیسز پر اخراجات کا بتایا گیا کہ اس کیس میں اب تک 13کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں، پاکستان 5 سے 7سال میں دیگر کیسز میں 300ملین ڈالر ادا کر چکا ہے۔ کابینہ اجلاس میں کورونا ویکسین کی قیمت کے تعین کا اختیار وزارت صحت کو دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے وفاقی کابینہ کو بتایا کہ وزارت کو عالمی فنڈز کی 500ملین ڈالر کی رقم میں بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے، آڈٹ میں پتا چلا کہ 40افراد کی مراعات پوری وزارت کے اخراجات کے برابرتھیں۔کابینہ نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرانے کی ہدایت کی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا فنڈ وزارت پلاننگ کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔

وزیراعظم 

مزید :

صفحہ اول -