بھارتی کسانوں نے لال قلعہ ”فتح“ کر لیا، یوم جمہوریہ کے موقع پر زرعی قوانین کیخلاف احتجا ج کرنیوالے کاشتکاروں کی دہلی کی سڑکوں پر ٹریکٹر پریڈ، ترنگا ہٹا کر ”مذہبی جھنڈا“ لہرا دیا 

      بھارتی کسانوں نے لال قلعہ ”فتح“ کر لیا، یوم جمہوریہ کے موقع پر زرعی ...

  

 نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ پر احتجاجی کسان رکاوٹیں توڑ کر دارالحکومت میں داخل ہو گئے اور بھارتی فوج کے مقابل ٹریکٹر پریڈ کرتے ہوئے لال قلعہ پر دھاوا بول دیا، مظاہرین نے پولیس سے دوبدو لڑائی کرتے ہوئے لال قلعے کا کنٹرول حاصل کر کے خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا پولیس کی فائرنگ سے ایک کسان ہلاک ہو گیا،احتجاج میں پولیس اہلکاروں سمیت متعد دکسانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کی سرحد پر کئی ماہ سے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسان بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت نئی دہلی داخل ہونے کیلئے تمام رکاوٹوں کو توڑ ڈالا۔ پولیس نے کسانوں کو دہلی میں داخل ہونے سے روکنے کی بہت کوششیں کیں تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں، دارالحکومت میں داخلے کے موقع پر غازی پور بارڈر پر پولیس نے کسانوں پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے بھی داغے تاہم پولیس کسانوں کی ہمت توڑنے میں ناکام رہی۔ پولیس کا موقف ہے کہ احتجاج کرنے والے کسان طے کردہ راستوں کے بجائے دوسرے راستہ سے دہلی میں داخل ہوئے اور لال قلعہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو ئے، کسانوں نے اپنے ہاتھوں میں اپنی تنظیم کے جھنڈے تھامے ہوئے تھے، ان میں سے ایک کسان نے آگے بڑھتے ہوئے لال قلعہ پر لگے کھمبے پر اپنا جھنڈا لہرا دیا۔ہریانہ،راجستھان،پنجاب، اترپردیش سمیت کئی ریاستوں سے قافلوں کی دارالحکومت دہلی آمد جاری ہے، اس کے علاوہ ممبئی اور بنگلور میں بھی کسانوں کے چھوٹے چھوٹے مظاہرے ہوئے۔حکومت نے دہلی میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں لیکن کاشتکار کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لا رہے، مظاہرین نے مودی سرکار کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ کسان زرعی قوانین واپس لینے کا مطالبہ پر قائم ہیں۔ دوسری جانب دہلی کے جوائنٹ کمشنر آلوک کمار نے تنبیہ کی ہے کہ پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔پولیس کمشنر نے مظاہرہ کرنے والے کسانوں کو تشدد میں ملوث نہ ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ امن قائم رکھیں اور مقررہ راستے سے واپس چلے جائیں۔ ایس این شریواستو نے کہا ہے کہ ’ٹریکٹر ریلی کیلئے وقت اور راستہ کئی اجلاسوں کے بعد طے کیا گیا تھا لیکن کسان ٹریکٹر ریلی کو مقررہ روٹ کے بجائے کسی اور جگہ سے لے آئے اور وہ بھی مقررہ وقت سے پہلے‘۔دہلی میں داخل ہوتے وقت بھارتی کسانوں نے حب الوطنی سے سرشار نغمے گائے اور فلک شگاف نعرے بھی لگائے۔

دہلی فتح 

نئی دہلی،امرتسر(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) انڈیا میں نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں کسان منگل کو مختلف رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے دارالحکومت نئی دہلی میں اپنے ٹریکٹروں سمیت داخل ہوئے ہیں جس کے بعد پولیس سے جھڑپوں میں ایک کسان کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دلی سے واپس لوٹ آئیں۔کسان یونینز نے بھی پرتشدد احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔کسانوں کی تنظیم متحدہ کسان مورچہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماری تمام کوششوں کے باوجود کچھ دیگر تنظیمیں اور کچھ غیر سماجی عناصر، اب تک پر امن رہنے والی تحریک میں شامل ہو گئے، انہوں نے ہمارے راستے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کر کے قامبل مذمت اقدامات کیے ہیں۔ ہمارا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے کہ امن ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایسی حرکتوں سے تحریک کو نقصان پہنچتا ہے۔'کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ’کسانوں کی سنیں اور ملک کے مفاد میں زراعت کے خلاف قانون کو واپس لے لیں۔‘ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’دہلی میں مناظر حیران کن ہیں۔ بعض عناصر کی جانب سے کیے گئے پرتشدد اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ اس سے پرامن کسانوں کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ کسان لیڈروں نے اس سے لاتعلقی ظاہر کی ہے اور ٹریکٹر ریلی معطل کر دی ہے۔ میں تمام حقیقی کسانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ دہلی سے نکل آئیں‘۔عام آدمی پارٹی نے بھی دہلی میں کسان پریڈ کے دوران ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ یہ افسوس ناک بات ہے کہ وفاقی حکومت نے حالات کو اس حد تک متاثر ہونے دیا۔عام آدمی پارٹی نے بیان جاری کیا کہ 'تحریک گزشتہ دو ماہ سے پر امن طریقے سے جاری تھی۔ کسان راہنماؤں نے کہا ہے کہ جو لوگ آج تشدد کے لیے ذمہ دار تھے وہ تحریک کا حصہ نہیں تھے بلکہ باہر سے آنے والے عناصر تھے۔ وہ جو بھی تھے، تشدد نے یقینی طور پر تحریک کو کمزور کیا ہے، جو اب تک اتنے امن اور ڈسپلن کے ساتھ چل رہی تھی۔

بھارت سرکار

مزید :

صفحہ اول -