جنوبی کوریا کی آبادی میں تشویشناک کمی 

جنوبی کوریا کی آبادی میں تشویشناک کمی 
جنوبی کوریا کی آبادی میں تشویشناک کمی 

  

کوریا (رضا شاہ)جنوبی کوریا میں پیدائش کی تعداد میں کمی ہونا شروع ہو گئی۔اعدادوشمار کے مطابق نومبر میں صرف دو ہزار 85بچے پیدا ہوئے جو سالانہ اوسط سے 15.3 فیصد کم ہیں۔ اسی طرح نومبر میں اموات کی تعداد 25ہزار 600 رہی جو کے سالانہ اوسط کے حساب سے ایک فیصد زیادہ تھی۔

 جنوبی کوریا میں پیدائشوں میں لگاتار 60 مہینوں سے کمی آرہی ہے اور اموات کی تعداد میں لگاتار 13 ماہ سے پیدائش کے مقابلے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں 4.8 فیصد کم بچے پیدا ہوئے۔کوریا شماریات کے ادارے کا کہنا ہے کہ کورونا کے اثرات سے بچوں کی پیدائش میں کمی کا بہت کم تعلق ہے۔ 1970 کے بعد سے پیدائشوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ شادیوں کی تعداد پچھلے 8 سال سے کم ہورہی ہے اور شادی دیر سے کرنے کے نتیجے میں دوسرے اور تیسرے بچے کم پیدا ہو رہے ہیں۔ نومبر میں شادیوں کی تعداد بھی سالانہ 11.3 فیصد کم ہوکر 18ہزار200 تھی جو 1981کے بعد سب سے کم ہے۔

 آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے جنوبی کوریا کی حکومت اگلے ماہ تیسری پین گورنمنٹ ٹاسک فورس شروع کرے گی۔ ٹاسک فورس رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں تفصیلی پالیسیاں لے کر آئے گی جس کا مقصد علاقائی آبادی میں کمی اور ایک عمر رسیدہ معاشرے کا قبل از وقت حل نکالنا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -