فوجداری قوانین میں کونسی ترامیم کی جارہی ہیں؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

فوجداری قوانین میں کونسی ترامیم کی جارہی ہیں؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
فوجداری قوانین میں کونسی ترامیم کی جارہی ہیں؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی حکومت کی جانب سے ضابطہ فوجداری میں ترامیم کے مسودے کو حتمی شکل دیدی گئی ہے،جس کی کچھ تفصیلات سامنے آئیں ہیں۔

مسودے کے مطابق خواتین کی جاسوسی، کوئلے پر چلنا اور کسی کو پانی میں پھینکنا بھی جرم ہوگا۔ آڈیو، ویڈیو اورای میلز بھی شواہد تصور ہوں گے۔ غیر قانونی پولیس حراست پر سات سال تک سزا ہوگی اور ایس ایچ او کیلیے گریجویٹ ہونا لازمی ہوگا۔ ملزمان کے معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ میں ماہر نفسیات شامل ہوں گے۔جہاں مقدمات کا بوجھ زیادہ ہوگا وہاں ایس ایچ او اے ایس پی رینک کا تعینات کیا جائےگا۔

ترامیم کے مطابق مفرور ملزمان کے شناختی کارڈ اور بنک اکاؤنٹس بلاک کر دیے جائیں گے، جلسے جلوسوں میں اسلحہ لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دفعہ 161 کے تحت ہونے والے بیانات کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جائے گی، پراسیکیوٹر تفتیش سے مطمئن نہ ہو تو مزید یا ازسرنو تحقیقات کا کہہ سکے گا۔

 ترامیم میں کہا گیا ہے کہ فوج داری مقدمات کا ٹرائل 9 ماہ میں ہوگا، ہر ماہ ہائی کورٹ کو پیش رفت رپورٹ جمع کرانی ہوگی، غیر سنجیدہ مقدمہ بازی پر سیشن کورٹ 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرسکے گی۔نو ماہ میں ٹرائل مکمل نہ ہونے پر ٹرائل کورٹ ہائی کورٹ کو وضاحت دینے کی پابندی ہوگی، ٹرائل کورٹ کی وضاحت قابل قبول ہوئی تو مزید وقت دیا جائے گا،  ٹرائل کورٹ میں گواہان کے بیانات کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی، گواہ بیان کے ٹرانسکرپٹ سے اختلاف کرے تو ریکارڈنگ سے استفادہ کیا جائے گا۔گواہ عدالت نہ آ پائے تو بیان ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کروا سکیں گے، بیرون ملک مقیم گواہان بھی مجاز افسر کی موجودگی میں بیان ریکارڈ کروا سکے گا، فوج داری مقدمات میں تین دن سے زیادہ کا التواء نہیں دیا جا سکے گا، تین دن سے زیادہ التواء دینے پر ٹرائل کورٹ کو وجوہات بتانا ہوں گی۔

ریفارمز، منشیات کے مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ سزائے موت کی جگہ مجرم کو باقی تمام زندگی جیل میں گزارنے کی سزا ہوگی۔ریلوے ایکٹ میں بھی سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دے دی گئی۔ 

مزید :

قومی -