لیماکی ایک نمائش
لیما ایک شہر ہی نہیں ایک منفرد طرز زندگی کا نام ہے۔ گرچہ سبزہ اس شہر میں نایاب ہے مگر فضا انتہائی خوشگوار ہے، جوایک مخصوص ذہنی کیفیت پیداکر دیتی ہے۔ موسموں میں یہاں شدت نظر نہیں آتی، گرمی، سردی، دونوں ہی یہاں مہربان ہیں۔ شہر کے اردگرد پہاڑ ہیں جن پر سبزہ کم کم اور خشکی زیادہ ہے۔ صحرا کا گمان گزرتا ہے کہیں کہیں یہاں۔ لوگ ہنس مکھ اوردوستانہ مزاج رکھتے ہیں۔ ادب، آداب کا گفتگو میں بہت زیادہ خیال کرتے ہیں۔ مجھے عموماً میٹروپولیٹن شہر زیادہ پسند نہیں آتے، اس کی وجہ ایک تومادہ پرستی کا رواج، بھیڑبھاڑ اور لالچ کا چلن ہے تو دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ان بڑے شہروں کے باسی اس مضافاتی گرم جوشی سے محروم نظرآتے ہیں جوکہ بڑے شہروں سے دور دراز رہنے والے لوگوں کا خاصہ ہے۔ لیمانے مجھے اپنے نظریات سے رجوع اور نظرثانی پر مجبور کر دیا کیونکہ اس شہر کی آبادی ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہے، جوکہ نہ صرف اسے پیروکا سب سے بڑا شہر بناتی ہے بلکہ لاطینی امریکہ کے بڑے شہروں کی فہرست میں نمایاں مقام دلاتی ہے۔ملک کی آبادی کاایک تہائی اس شہر میں آباد ہے، یعنی ہر تین میں سے ایک ”پیروانو“ لیمامیں رہتا ہے۔ اس کے باوجود شہر میں کوئی رش نظر نہیں آتا، وہ بے ہنگم بھیڑ اور ہاہاکار مچی بھی کہیں نظر نہیں آتی جو ہمارے بڑے شہروں کا خاصاہے۔
شہرکے ساتھ سمندراوراس کے ساحل کا بڑا چرچا سنا تھا لیکن وقت کی کمی کے باعث بحرالکاہل کایہ کنارہ دیکھنے سے محروم رہا،اس کی وجہ یہ تھی کہ محدود وقت میں یا تو شہر کی ہسپانوی طرزتعمیرکا شاہکار مرکزی لائبریری میں جاری نمائش دیکھ سکتا تھا،یا پھر ساگر کی لہریں۔ گرچہ جنوری کا مہینہ ہواؤں کے راج کاعروج مانا جاتا ہے اور ساحل کی سیرکے لئے آئیڈیل سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ سردی کی انتہا کا مہینہ یہاں اگست ہے یعنی نہ صرف اس ملک کاوقت ہم سے الٹاہے،یعنی دن رات کی تفاوت ہے،بلکہ موسم بھی ہم سے متضادہیں۔نمائش کے انتخاب کی وجہ این فرینک کی شخصیت تھی اوراس کی ڈائری کی عالمی شہرت۔ میں اسے اتفاق ہی کہوں گاکہ میری منزل لیماسے سینکڑوں کلومیٹردوربولیویااورچلی کے سرحدسے ملحقہ چھوٹاساشہرتکناتھا،اس شہرکے لئے مگرکوئی پروازشام سے پہلے دستیاب ہی نہیں تھی۔ابھی تودن کا آغاز ہوا تھا جب میری پروازصبح سویرے اس شہرکے ائیرپورٹ پر پہنچی۔یہاں یہ اعتراف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ میں بنیادی طورپریہاں سیاحت کے مقصدکے تحت نہیں پہنچا تھا، بلکہ جس دورافتادہ شہر کا تذکرہ کیا ہے، وہاں جاپانی ری کنڈیشن گاڑیاں بیچنا میرا مقصود تھا۔ میرے بڑے بھائی وہاں مقیم تھے اور ہمارا اس ٹیکس فری زون میں گاڑیوں کا شو روم تھا۔ ہمارے علاوہ سوسے زائد پاکستانی بھی اس شہر میں آباد تھے جو اسی پیشے سے منسلک تھے۔ ذکر این فرینک کی اس مشہور زمانہ ڈائری کا جس کو اس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلرکے زیرتسلط ہالینڈ میں اپنی نوعمری کے دوران روپوشی کے دنوں میں تحریر کیا تھا۔
ایک نو عمر یہودی لڑکی جس نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی فوج سے جان بچانے کے لئے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ چھپتے ہوئے،روپوشی کے ماہ وسال کے دوران یہ یادداشتیں تحریرکیں،این فرینک ہٹلرکی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوئی اور پھر بیگارکیمپ میں سولہ سال کی عمرمیں زندگی کی بازی ہارگئی،مگراس کی ڈائری نے اسے جنگ کے دوران یہودیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی علامت بنا دیا۔
یہ این فرینک کی ڈائری اور اس کے حالات زندگی کو اجاگرکرنے کے لئے گشتی نمائش تھی جواب پیرو کے دارالحکومت پہنچی تھی۔تیرہ،چودہ سال کی معصوم سی بچی بنیادی طورپرجوصرف زندہ رہنے کی خواہش رکھتی ہے۔ کیسے بھوکی،پیاسی اپنے گھر میں چھپ کر ماہ وسال گزارتی ہے۔سوات کی ملالہ یوسفزئی کے لئے اہلِ یورپ کی ہمدردی اور محبت کی وجہ میری نظرمیں تواین فرینک ہے۔دونوں کے حالاتِ زندگی بہت زیادہ ملتے ہیں۔ دونوں کی وجہ شہرت ان کی ڈائری کے علاوہ یہ بھی ہے کہ دونوں ہم عمرہیں۔فرینک اورملالہ اپنے ہی دیس میں اجنبی ٹھہرتی ہیں کیونکہ شہر پر ظالموں کاقبضہ ہو چکا ہے۔
ایمسٹرڈیم جانا ہوا تو میں خصوصی طورپراین فرینک کے گھر کو دیکھنے کے لئے بھی گیا،جوکہ اب میوزیم میں تبدیل کردیاگیا ہے۔چارمنزلہ عمارت میں ہر چیز ویسی کی ویسی ہی ہے جیسے این فرینک چھوڑ کر گئی تھی۔اس میوزیم اور وہاں تصاویرکودیکھنے کے بعدانسانیت سے محبت رکھنے والے ہر اہلِ دل کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔وہ تو سمجھی تھی کہ اس کا باپ نازی فوج کے ہاتھوں ماراجاچکا ہے مگروہ معجزانہ طورپربچ نکلا،یہ مکان اس نے 1940میں خریدا تھااوربیوی بچوں کی موت کے بعداس نے اس مکان کومیوزیم میں تبدیل کردیا۔
این فرینک کی ڈائری بھی اس کے والدنے اس کی موت کے کئی سال بعد شائع کروائی۔ ہالینڈکے دارالحکومت میں پیتل سے بنائے گئے این فرینک کے مجسمے کے پاس کھڑامیں سوچتا رہاکہ اس معصوم لڑکی کومارنے کی کیاوضاحت ہوسکتی ہے؟اب سوچتا ہوں ہٹلرکے فوجی بھی اس سے ملتی جلتی کوئی توجیح پیش کردیتے جیسے ملالہ کو نشانہ بنانے والے طالبان دلائل پیش کرتے ہیں۔
نیلسن منڈیلاکہتے تھے کہ جیل میں اسیری کے دوران این فرینک کی ڈائری نے انہیں ہر بار نیاحوصلہ بخشا۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اسرائیل کی ریاست اوریہودیت ایک چیز نہیں ہیں۔ اسرائیل فلسطین کی زمین پرغاصبانہ قبضے کے نتیجے میں گزشتہ صدی کے دوران معرضِ وجود میں آیا جبکہ یہودیت پانچ ہزار سال پرانا مذہب ہے۔ ویسے بھی یہودیوں کا سب سے بڑا مسکن اسرئیل نہیں بلکہ امریکہ ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ اہل ِ یورپ نے یہودیوں پربڑے مظالم ڈھائے ہیں اور اپنے اجتماعی ضمیرکابوجھ اتارنے کے لئے اسرائیلی ریاست تشکیل دی تھی۔یہودیوں کے لئے الگ وطن کا تصورقابلِ فہم ہے اوران پر ہونے والے مظالم سے بھی کوئی صاحب مطالعہ انکار نہیں کرسکتا،مگراس ظلم کی سزاغریب فلسطینیوں کونہیں ملنی چاہیئے۔فلسطینی اپنے گھروں میں ویسے ہی بے وطن ہو گئے جیسے این فرینک ہوئی تھی۔
یہاں یہ ذکر کرتا چلوں کہ دوسری جنگِ عظیم میں ہٹلرکے یہودیوں پرڈھائے گئے مظالم کاایک منفردپہلودکھانے والی این فرینک کی یہ کتاب دنیامیں امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہے، اس کے بعدجاپان میں یہ سب سے زیادہ مقبول ہے۔ مزید یہ کہ ایمسٹرڈیم میں اس کے گھرہرسال تیس ہزارجاپانی سیاح حاضری دینے جاتے ہیں۔نمائش سے باہرنکل رہاتھاتوایک مقامی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔اس نے بڑادلچسپ سوال پوچھاکہ سناہے یہودیوں کی طرح تم مسلمان لوگ بھی زمین خریدنابہت پسندکرتے ہو؟اب اپنے ملک پاکستان کی بات کروں تو واقعی یہ تاثردرست ہے لیکن باقی دنیاکے مسلمانوں کے متعلق میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔البتہ یہودیوں کی زمین سے رغبت اوراس کی خریداری کاسبب شاید صدیوں پر محیط بے گھری اوردربدری ہے۔ لاطینی امریکہ میں زمین پاکستان کی نسبت کافی سستے داموں خریدی جاسکتی ہے۔
