موسم کوئی فصل نہیں — یہ فطرت کا فیصلہ ہے
تحریر: ملک محمد اسحاق
گزشتہ ہفتے مجھے العین جانے کا موقع ملا۔
وہاں بسنت کو صرف دیکھا نہیں، محسوس کیا۔
ہوا میں ایک خاموش سا پیغام تھا۔
یوں لگتا تھا جیسے متحدہ عرب امارات میں سردی اپنا بوجھ اتار چکی ہے اور بہار آہستہ آہستہ زمین کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
پتوں کے بدلتے رنگوں نے جیسے دل میں سوال جگا دیا۔
موسم گویا بول رہا ہو۔
فطرت جیسے کہہ رہی ہو کہ ہر اختتام انجام نہیں ہوتا،
کبھی کبھی وہ محض ایک نئے سفر کی ابتدا ہوتا ہے۔
اسی لمحے موسم پر غور شروع ہوا،
اور یہی غور اس تحریر کی بنیاد بنا۔
ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ موسم ایک کیلنڈر ہے:
گرمی، سردی، خزاں، بہار — چار خانے، چار حد بندیاں۔
مگر فطرت نے کبھی نصابی جدولوں میں رہنا قبول نہیں کیا۔
موسم محض درجۂ حرارت کا نام نہیں۔
یہ ایک ہدایت ہے۔
جب خزاں سائبیریا، اسکینڈینیویا، شمالی یورپ، کینیڈا یا الاسکا میں اترتی ہے تو یہ اداسی نہیں لاتی بلکہ شعور جگاتی ہے۔
یہ ایک اشارہ ہوتی ہے،
ایک تنبیہ،
کبھی اجازت،
اور کبھی صاف حکم۔
درخت پتے نہیں کھوتے،
وہ انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔
پرندے سردی سے نہیں بھاگتے،
وہ ایک ایسے نقشے کی پیروی کرتے ہیں جو سرحدوں، شہروں اور زبانوں سے بہت پہلے وجود میں آ چکا تھا۔
یوں موسم دراصل زمین پر قدرت کی تحریر بن جاتا ہے۔
بہار اس تحریر کا دوسرا رخ ہے۔
بہار کسی میں فرق نہیں کرتی۔
نہ درخت کی عمر پوچھتی ہے،
نہ شاخ کا زخم۔
نئے پتے،
تازہ پھول،
اور ایسی خوشبو جو طب سے پہلے شفا تھی —
یہ سب بہار کی عطا ہیں۔
لیکن بہار ٹھہرتی نہیں۔
اس لیے نہیں کہ وہ ناکام ہو جاتی ہے،
بلکہ اس لیے کہ مسلسل عطا، اللہ رب العزت کے سوا، عطا کرنے والے کو تھکا دیتی ہے۔
یوں خزاں آتی ہے —
ظلم بن کر نہیں،
قربانی بن کر۔
خزاں اور سرما میں درخت ننگے کھڑے ہو جاتے ہیں،
پرندے گھونسلے چھوڑ دیتے ہیں،
جنگل خاموش ہو جاتے ہیں،
اور انسان لکڑی کاٹ کر آگ جلاتا ہے۔
درخت احتجاج نہیں کرتے۔
یہ فطرت کا اعلان ہے کہ
“میں تکلیف سہوں گی تاکہ زندگی باقی رہے۔”
تصوف اسے فنا کہتا ہے،
دین اسے قربانی،
اور فلسفہ اسے خود کو خالی کرنا قرار دیتا ہے۔
یہ وہ سبق ہے جو انسان اکثر وعظ میں بھول جاتا ہے۔
جب شمالی خطوں میں سردی شدید ہو جاتی ہے تو پرندے گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔
وہ ہجرت کرتے ہیں۔
بار ٹیلڈ گاڈوِٹ، آرکٹک ٹرن، امور فالکن اور ریڈ ناٹ جیسے پرندے ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہیں،
بلا پاسپورٹ،
بلا نقشہ،
بلا موسم ایپ۔
فطرت انہیں ہوا کے راستے دیتی ہے،
مقناطیسی سمتیں سکھاتی ہے،
اور ستاروں کو رہنما بناتی ہے۔
کچھ طوفانوں میں کھو جاتے ہیں،
کچھ شکاریوں کا شکار بنتے ہیں،
مگر ہجرت نہیں رکتی۔
کیونکہ یقین ختم ہو جائے تو بھی سفر باقی رہتا ہے۔
سمندر بھی موسم سنتا ہے۔
وہیلیں، کچھوے اور سالمَن مچھلیاں درجۂ حرارت، خوراک اور نسل کی حفاظت کے لیے ہزاروں میل کا سفر کرتی ہیں۔
یہ رومان نہیں،
یہ حیاتیاتی ذمہ داری ہے۔
خشکی پر بھی یہی قانون نافذ ہے۔
جب بارش رکتی ہے اور گھاس سوکھ جاتی ہے تو ہرن، زیبرا، وائلڈبیسٹ اور ہاتھی چل پڑتے ہیں۔
راستے میں درندے بھی ہیں،
قحط بھی،
اور انسان بھی۔
کچھ گرتے ہیں،
مگر قافلہ نہیں رکتا۔
کیونکہ رک جانا فنا ہے۔
پرندے ہوں یا جانور،
سمندر کی مخلوق ہو یا خشکی کی —
سب ایک ہی اصول کے تابع ہیں:
آنے والی نسل کی حفاظت۔
یہاں انسان کا سوال جنم لیتا ہے۔
اگر پرندے براعظم پار کر سکتے ہیں،
اگر وہیل سمندر عبور کر سکتی ہیں،
اگر جانور زمین چھوڑ سکتے ہیں —
تو انسان ہجرت سے کیوں گھبراتا ہے؟
اگر زمین سرسبز ہو، امن ہو، روزگار ہو تو ٹھہرنا فطری ہے۔
لیکن اگر قحط ہو، خطرہ ہو اور عزت داؤ پر لگ جائے تو چل پڑنا دانش ہے۔
اسلام نے بھی یہی سکھایا۔
رسولِ اکرم ﷺ نے کامل وقار، حکمت اور الٰہی رہنمائی کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی ہجرت فرمائی۔
یہ کمزوری نہیں تھی،
یہ بقا اور مستقبل کی بنیاد تھی۔
آخر میں بس یہی حقیقت سامنے آتی ہے:
کچھ منزل تک پہنچ جاتے ہیں،
کچھ راستے میں رہ جاتے ہیں،
مگر زندگی رکتی نہیں۔
کیونکہ زندگی خوف پر نہیں،
حرکت پر یقین رکھتی ہے۔
موسم ظلم نہیں۔
ہجرت کمزوری نہیں۔
اور سفر فرار نہیں۔
سفر زندگی کی اطاعت ہے،
اور جو حکمت، وقت اور حوصلے کے ساتھ چل پڑتا ہے —
وہی آنے والے کل کا وارث بنتا ہے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
