امن کے فروغ ے لئے نوازشریف کی کوششیں اور بھارت سے تجارت

امن کے فروغ ے لئے نوازشریف کی کوششیں اور بھارت سے تجارت

                                        میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم بنتے ہی بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا عندیہ دیا جو کوئی انہونی بات نہیں، کیونکہ کوئی بھی دوراندیش لیڈر اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ بہتر تعلقات ہی چاہے گا ،تاکہ امن کی فضا قائم رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف خلوص نیت کے ساتھ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ انہیں اُتنے ہی خلوص کے ساتھ جواب ملے، لیکن بھارت کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات کا فقدان نظر آرہا ہے۔ بھارت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ میاں محمد نواز شریف کی جانب سے امن کے فروغ کی کوششوں کو ہماری کمزوری نہ سمجھے ،بلکہ خود جنوبی ایشیاکے وسیع تر مفاد میں ہماری کوششوں کا مخلصانہ اور مثبت جواب دے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کھلی تجارت کا مسئلہ طویل عرصے سے زیر بحث ہے اور اس کے حق اور مخالفت میں مختلف حلقے دلائل پیش کرتے ہیں۔

 اگر ہم عالمی رجحان پر ایک نظر دوڑائیں تو معاشی استحکام میں علاقائی تجارت کا کردار بہت اہم دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ بہت سے ایسے ممالک بھی آپس میں تجارت کررہے ہیں، جن کی عام حالات میں آپس میں بالکل نہیں بنتی، اس لئے میرے خیال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت ضرور ہونی چاہیے، لیکن برابری کی بنیاد پر ۔ یہ نہیں کہ پاکستان کو بھارتی مصنوعات کے لئے کھپت کی جگہ بنا دیا جائے اور پاکستان کی بھارت کو برآمدات نہ ہونے کے برابر ہوں.... صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں، بلکہ خطے کے تمام ممالک کو آپس میں تجارت کرنی چاہیے ،جس سے سب کو فائدہ ہوا۔ ڈبلیو ٹی او کے قواعد کے مطابق جن چیزوں کی پیداوار حاصل کرنے کے لئے کوئی ملک سبسڈی دیتا ہے تو امپورٹ کرنے والے ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک کے اندر اسی چیز پر سبسڈی نہیں دے سکتا تو پھر اس کی درآمد پر اتنی ہی امپورٹ ڈیوٹی لگادے، تاکہ اس کی ملک کی صنعت و زراعت اس لئے تباہ نہ ہوجائے کہ دوسرا ملک سبسڈی کی وجہ سے کم قیمت پر وہاں برآمد کررہا ہے۔ بھارت سے تجارت کرتے ہوئے ہمیں اپنا مفاد ضرور مد نظر رکھنا چاہیے۔ بھارت اپنے مفاد میں تجارت کرنے کے لئے ساری دنیا کے ذریعے ہم پر دباﺅ ڈلوا رہا ہے، جسے ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے۔

 بھارت کا پہلا مفاد تو یہ ہے کہ وہ افغانستان میں قدم جمانے کے لئے پاکستان سے راستہ لینا چاہتا ہے اور وہ اپنا پورا زور لگا رہا ہے ۔ اس کے لئے ہمارے وہ دوست یا دوست نما دشمن بھی اس کی پوری حمایت کررہے ہیں ،جن کے لئے ہم نے اپنا سب کچھ تباہ کردیا۔ ساٹھ ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھایا، پینتالیس ہزار سے زائد قیمتی انسانی جانیں ضائع کیں۔ ہوتا تو یہ ہے کہ جب ایک دوست کسی دوسرے دوست کے لئے چھوٹی سی بھی قربانی دیتا ہے تو وہ قربانی دوسرے دوست کو ساری عمر شرمندہ اور زیربار رکھتی ہے، لیکن یہ ہمارے کیسے دوست ہیں جو تقاضے تو ہم سے کرتے ہیں، تباہ و برباد ہمیں کرتے ہیں اور حمایت بھارت کی کرکے اسے ہمارے سر پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں کم از کم یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے جو برابر کی بنیاد پر تو بھارت سے اچھے تعلقات استوار کرسکتا ہے، اسے خود پر مسلط ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا، لہٰذا وہ دونوں ممالک کے درمیان برابری کی سطح پیدا کرنے کے لئے کوششیں کریں تو اچھا ہے۔

پاکستان سے تجارت میں بھارت کا دوسرا مفاد یہ ہے کہ وہ اپنے اصل چہرے پر پردہ ڈال کر خود کو ہمارا دوست ظاہر کرکے نیشنل سیکیورٹی کی مستقل رکنیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بھارت ہندو قوم کی نمائندگی کرتا ہے جن کی کُل تعداد دنیا کی کُل آبادی کا 13%ہے۔ دوسری طرف پاکستان ہے جو اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور مسلمانوں کی تعداد دنیا کی کُل آبادی کا تقریباً 25%ہے ،جس کی وجہ سے نیشنل سیکیورٹی کی مستقل رکنیت صرف پاکستان کا حق ہے، لہٰذا پاکستان کو چاہیے کہ اس مقصد کے حصول کے لئے ہنگامی بنیادوں پر لابنگ کرنا شروع کرے ،کیونکہ یہ ہمارا حق ہے اور ہمیں یہ ملنا ہی چاہیے۔ ہمیں اپنے اُن دوستوں کو کچھ شرم دلانی چاہیے کہ خدارا اپنے بڑے بڑے ناموں کی لاج رکھو اور حق دار کو اس کا حق دلانے کے لئے تگ و دو کرو۔ انسانیت تو یہ ہوتی ہے کہ اگر مشکل وقت میں کوئی ملازم اپنے مالک کے لئے قربانی دیتا ہے تو وہ مالک ساری عمر اس ملازم کا خیال رکھتا ہے، لیکن یہ ہمارے کیسے دوست ہیں کہ دوستی کے نام پر ہمیں صرف برباد ہی کئے جارہے ہیں۔

 ایک طرف تو ہمیں مجبور کررہے ہیں کہ اپنے ریجن میں ٹریڈ کرو اور دوسری طرف صرف بھارت کو ہی ریجن کا لیڈر سمجھتے ہیں ۔ ایسا بالکل نہیں چلے گا، ہمارے بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے ضرور ہونے چاہئیں ،لیکن تجارت صرف بھارت نہیں ،بلکہ دونوں ممالک کے مفاد کو سامنے رکھ کر ہونی چاہیے، تب ہی یہ دیرپا ہوگی ،وگرنہ ایک پٹاخہ بھی چلا تو ہندو بنیا دوڑ جائے گا اور ساری تجارت کی ایسی کی تیسی ہو جائے گی۔ ایک اور اہم بات یہ کہ تجارت سے پہلے بھارت کو کشمیر اور پانی سمیت تمام تنازعات حل کرنا ہوںگے۔ بھارت نے ایک سازش کے تحت ہمارے تین دریا ہم سے لے لئے اور بقیہ تین دریاﺅں پر بھی قبضہ کرکے ڈیم بنا رہا ہے ،جبکہ پاکستانی حکومتیں خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہیں۔ ڈھٹائی کی انتہا دیکھئے کہ وہ ہمارے پانی سے 1.22روپے فی یونٹ بجلی پیدا کرکے ہمیں 16روپے فی یونٹ کے حساب سے بیچنے کے لئے مرا جارہا ہے، حالانکہ خود اُس کے اپنے اکثر شہروں میں نو دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ معمول ہے، لیکن ہمارے بھولے بادشاہوں کو اس کی سمجھ ہی نہیں آتی۔

اس وقت عالم یہ ہے کہ ہمیں نقصان پہنچانے کے لئے بھارت خود اپنی ٹانگ بھی توڑ لیتا ہے، جس کا واضح ثبوت ایک سابق بھارتی افسر کی جانب سے ممبئی حملوں کا ذمہ دار خود بھارت کو قرار دینا ہے۔ ہمیں بھارت سے کسی قسم کا ناتہ جوڑتے ہوئے اپنا مفاد ضرور مدّنظر رکھنا چاہیے، اگر بھارت سے تجارت کرنی ہے تو پھر یہ طے کیا جائے گا کہ جتنی مالیت کی اشیاءہم بھارت سے منگوائیں گے، اُتنی ہی مالیت کی چیزیں وہ بھی ہم سے منگوائے گا،تاکہ تجارت میں توازن رہے۔ بھارت سے ہمیں صرف خام مال کی درآمد پر توجہ دینی چاہیے ،تاکہ مقامی سطح پر صنعت سازی کو فروغ ملے اور لوگوں کے لئے روزگار پیدا ہو۔ سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی درآمد ہمارے مفاد میں نہیں ،کیونکہ ایک تو ان کا فائدہ صرف تاجروں کو ہے ، صنعتی شعبے یا غریب عوام کو بالکل نہیں، کیونکہ بھارت سے درآمد شدہ بدذائقہ پھل اور سبزیاں 80سے 200روپے کلو تک فروخت ہورہے ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ اشیاءہمارا ہی پانی چوری کرکے پیدا کی جارہی ہیں، لہٰذا یہ چیزیں بھارت سے درآمد کرنے کے بجائے اُسے پانی چوری سے روکاجائے اور یہ پانی اپنے زرعی شعبے کو مہیا کیا جائے ،تاکہ ہم معیاری پھل اور سبزیاں خود پیدا کرسکیں جو 20سے 50روپے کلو تک میں دستیاب ہوں گی۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جب نقصان پر پھل سبزیاں بیچنے ہوں تو ہمارا زمیندار بیچے اور جب فائدے کی باری ہو تو وہ سارے کا سارا بھارت کا زمیندار لے جائے۔ انتظامیہ پر بھی آفرین ہے جو اس سارے معاملے پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ مقامی زمیندار کا نقصان حکومت کے لئے پریشانی کا باعث ہونا چاہیے، وگرنہ زمیندار کاشتکاری چھوڑ دے گا اور تمام انحصار درآمدات پر ہی ہوجائے گا۔ علاقائی تجارت پر توجہ دینا بہت اچھی بات ہے، لیکن اس سے پہلے حکومت کو تمام پہلوﺅں پر توجہ دینا ہوگی۔  ٭

مزید : کالم