قحط الرجال............

قحط الرجال............
قحط الرجال............

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قحط الرجال............ کی خرابی کہ اعلیٰ ترین مناصب کے لئے موزوں افراد کی دستیابی نہایت مشکل امر بن چکا ہے، 5جون2013ءکو گزرے(جس دن وزیراعظم نے حلف لیا) کم و بیش ڈیڑھ ماہ گزر چکا ہے اور کئی اہم عہدوں پر گزشتہ دور کے نامزدگان ہی براجمان ہیں۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر کی حیثیت سے براجمان شہر بانو رحمن سمیت کتنے ایسے مناصب ہیں جو اہل افراد کی راہ تک رہے ہیں، لیکن حکومت ہے کہ کسی گہری سوچ میں مستغرق.... پنجاب کے علاوہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں گورنروں کی تبدیلی کا مرحلہ بھی طے کرنا ہے۔ پنجاب کے سابق گورنر مخدوم احمد محمود مستعفی ہو کر لندن جا چکے، جبکہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں عہد گزشتہ کی یادگاریں اپنے مناصب سے چمٹی ہوئی ہیں جیسے انہیں اب بھی یقین ہو کہ وہ اپنے عہدوں پرکام کرتے رہیں گے۔

مسلم لیگ(ن) کے ذرائع کے مطابق پنجاب میں گورنر کے عہدے کے لئے سابق برطانوی پارلیمنٹرین چودھری محمد سرور کا نام فائنل ہو چکا اور ان کی تقرری صدارتی انتخابات کے بعد متوقع ہے، اب جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان صدارتی انتخابات کے لئے ترمیم شدہ شیڈول جاری کر چکا ہے اور یہ انتخاب اب 6اگست2013ءکی بجائے30جولائی2013ءکو ہو گا تو تمام نگاہیں اس جانب مرکوز ہو چکی ہیں اور گورنر پنجاب کی تقرری کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ صدارتی انتخاب کی گہما گہمی سے قبل مسلم لیگ(ن) کے بعض سینئر رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ پارٹی اس حوالے سے سرپرائز دے سکتی ہے اور ممنون حسین کی اس عہدے کے لئے نامزدگی واقعی حیران کن معلوم ہوتی ہے۔

سندھ نیشنل فرنٹ کے سابق سربراہ اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سندھ کے گورنر وزیراعلیٰ رہنے والے سردار ممتاز بھٹو، مسلم لیگ(ن) سندھ کے صدر غوث علی شاہ، مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا اور سینئر رہنما سرتاج عزیز کو نظر انداز کر کے گمنامی کی زندگی بسر کرنے والے ممنون حسین کو ممنون کرنے پر بہت سے لوگ ششدر ہیں۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی اعلیٰ قیادت کی سوچ 90ءکی دہائی سے آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ اسے ممتاز بھٹو، غوث علی شاہ اور اقبال ظفر جھگڑا جیسی اثرو رسوخ رکھنے والی شخصیات سے ایسی اطاعت و فرمانبرداری کی توقع نہیں ہو گی جیسی ممنون حسین جیسی مرنجاں مرنج شخصیت انہیں عطا کر سکتی ہے۔ باوجود اس کے کہ صدارتی اختیارات میں سے(B)582 کا خاتمہ ہونے کے بعد صدر کا عہدہ نمائشی حیثیت کا حامل ہو چکا ہے، لیکن صدر آصف علی زرداری کے متبادل کے طور پر ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو سیاسی طور پر بھی اپنا اثرو رسوخ رکھتی ہو۔ سندھ نیشنل فرنٹ کو مسلم لیگ(ن) میں ضم کرنے والے سردار ممتاز بھٹو کا نام ابتدا میں اس عہدے کے لئے لیا جاتا رہا، لیکن پھر نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر انہیں ابتدائی فہرست سے ہی ڈراپ کر دیا گیا، جس کے بعد سرتاج عزیز اس عہدے کے لئے فیورٹ امیدوار قرار دیئے جانے لگے، لیکن پھر انہیں بھی ڈراپ کر کے قرعہ فال کراچی سے تعلق رکھنے والے73سالہ ممنون حسین (جو12اکتوبر 1999ءکو سندھ کے گورنر کے عہدے پر فائز تھے) کے نام نکلا اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیسے اس منصب کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی نے میاں رضا ربانی اور تحریک انصاف نے جسٹس(ر)وجیہہ الدین احمد کو اس عہدے کے لئے نامزد کیا جو ظاہر ہے کسی صورت منتخب نہیں ہو سکتے، اسی لئے کہ پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کر دیا ہے اور تحریک انصاف مطلوبہ عددی قوت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ اقتدار اور حزب اختلاف میں پارٹی کی ترجیحات الگ الگ ہیں، انہیں (اعتزاز احسن کو )اور رضا ربانی کو ٹماٹر اور انڈے کھانے کے لئے سامنے لایا جاتا ہے جبکہ دور اقتدار میں انہیں سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے۔ جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد نے2008ءمیں صدر آصف علی زرداری کے خلاف بھی انتخاب میں حصہ لیا تھا اور دو ووٹ حاصل کئے تھے اس بار شاید وہ کچھ زیادہ ووٹ حا صل کر پائیں۔ ممتاز ایٹمی سائنس دان اور تحریک تحفظ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے صدارتی امیدواران پر سخت تنقید کی ہے، محسوس یوں ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان برسوں سے دل میں موجود غبارکو نکالنے کے خواہش مند ہیں اسی لئے وہ سیاسی قیادت بالخصوص مسلم لیگ (ن) پر شدید تنقید کرر ہے ہیں۔28مئی1998ءکو ایٹمی دھماکوں کے بعد قوم نے ڈاکٹر صاحب کو محسن پاکستان کا خطاب دیا اور ان کی ملک و قوم کے لئے خدمات اس قدر ہیں کہ صدر کا منصب بھی ان کے شایان شان نہیں، لیکن مسلم لیگ(ن) نے انہیں اس قابل بھی نہ سمجھا کہ اس عہدے کے لئے انہیں زیر غور ہی لایا جاتا ۔ اب چونکہ اس بات کا فیصلہ ہو چکا ہے لہٰذا بحث و تحمص سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، لیکن مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ 30جولائی 2013ءکو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد بھی بہت سے عہدوں پر اسے تقرریاں کرنا ہیں، جس کے لئے میرٹ کا خیال کرنا ہو گا وگرنہ پارٹی کے دیرینہ ہمدردوں میں انتشار و اضطراب کی کیفیت مزید گہری ہو جائے گی۔ چودھری محمد سرور کے حوالے سے مسلم لیگ(ن) کے دیرینہ ہمدم جناب عطاءالحق قاسمی نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ان کے مطابق ایسے کسی اقدام سے یہ تاثر گہرا ہو گا کہ پنجاب کی 10کروڑ آبادی میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو اس منصب کا اہل ہو؟ اگر مسلم لیگ(ن) کی اعلیٰ قیادت عطاءالحق قاسمی کی رائے کو بھی نظر انداز کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے تو اس کی ترجیحات کے بارے میں اندازہ لگانا دشوار نہیں۔ ٭

مزید : کالم