غالب کے طرفدار!

غالب کے طرفدار!
غالب کے طرفدار!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

                     خوب جی بھر کے دعوتیں اُڑائیں، جب کھانے پینے سے تھک جائیں تو تھوڑی دیر سستا کر پھر کھانا پینا شروع کر دیں۔ جب ہم پُر ہجوم گلیوں میں سے گزرتے ہیں ، پہلے تو عقل حیران رہ جاتی ہے کہ یہ سیلاب ِ بلاآیا کہاںسے ہے، جو بھر پور چکنائی والے کھانے کھاتے ہیں اور اس میں کسی کسر ِ نفسی سے کام نہیں لیتے۔چاہے عوامی مقامات ہوں یا گھر کا دسترخوان ہو، پرہیزگار اہل ِ ایمان کو کھاتے ہوئے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ اس کرہِ ارض سے خوراک ختم ہونے والی ہے۔ اس خوش خوراکی ، جو طعامانہ بے راہ روی کی حدوں کو چھوتی ہے، کی تحقیق کے لئے پی ایچ ڈی کامقالہ لکھے جانے کی ضرورت ہے کہ آخریہ بھوک کب ختم ہوگی۔

اس ”خوراکستان “ میں ، مَیں بڑے انہماک سے ولیم دلرمپل(William Dalrymple) کی کتاب ”آخری بادشاہ“ پڑھ رہا ہوں ۔ اس کتاب میں مصنف نے اُن لرزہ خیز واقعات پر روشنی ڈالی ہے جب چند صدیاں پہلے دہلی خون میں نہا گیا تھا۔ 1857ءکی جنگ ِ آزادی، یا غدر(آپ جو مرضی سمجھ لیں)کے بعد دہلی کے شہریوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجی طاقت نے قہر ڈھایا۔ اُس ظلم و تشددکی بہت سی وجوہات تھیں ، تاہم وہ اتنی مفصّل ہیں کہ انہیںایک کالم میں احاطہ ¿ تحریر میں نہیں لایا جاسکتا ، تاہم دلرمپل نے بہت محققانہ ایمانداری سے ان واقعات، جن میں کچھ پردہ داری اور کچھ مبالغہ آرائی بھی پائی جاتی تھی، کو بے نقاب کیا ہے۔

جب دہلی کا طبقہ ِ اشرافیہ زوال پذیرہوا اور تاریخ ِ ہند میں مغل بادشاہت، جس کی بنیاد 1526ءمیں ظہیر الدین بابر نے رکھی، کا باب تمام ہواتو آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کو جلاوطنی کی زندگی کے باقی دن رنگون میں پورے کرنا پڑے، جبکہ ادھر دہلی میں قتل ِ عام جاری تھا اور ہزاروں افراد، جن میں محلات میں رہنے والے شہزادے بھی تھے اور شہزادیاںبھی، دانش ور بھی اور ماہرین ِ فن بھی، کی خون میں نہائی ہوئی لاشیں گلیوںبازاروںمیں بکھری ہوتی تھیں، تاہم ہلاک ہونے والوں میں صرف ہمارے آباﺅ اجداد ہی نہیں تھے، انگریزوںنے بھی اس جنگ کی بھاری قیمت چکائی تھی۔ اگر دیکھا جائے تو اس جنگ کا کوئی بھی فاتح نہ تھا۔

اُس المناک دور کو دلرمپل اس انداز میں بیان کرتا ہے کہ پڑھنے والا مبہوت رہ جاتا ہے۔ اس کا اسلوب ِ نگارش آپ کو تاریخ کے اُس موڑ پر لے جاتا ہے، جہاں آپ نہ چاہتے ہوئے بھی اس انسانی المیے کی تفصیل پڑھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جانی نقصانات کے علاوہ عظیم شاعر مرزا غالب کی شاعری کے دو مسودات بھی اُن ہنگاموں کی نذر ہوگئے۔یہ احساسِ زیاں دل میں نیزے کی نوک کی طرح پیوست ہوجاتا ہے کہ نوائے سروش نے ان کے قلم سے قرطاس پر صوت و آہنگ لئے ہوئے الفاظ کی کیا جادو گری رقم کی ہوگی، لیکن اردو ادب کی پیشانی کے جھومر کا ایک بڑا حصہ اُن شعلوں میں خاکستر ہو گیا ۔ جنگ میں یقینا جانیں ضائع ہوتی ہیں، لیکن جب تاریخ کے صفحات پلٹے جاتے ہیں تو یہ کہہ کر دل کو تسلی دے لی جاتی ہے کہ انسان فانی ہے، لیکن فن کا شاہ پارہ زمان ومکان کی حد بندیوں سے ماورا ہو کر لافانیت کی حدود کو چھولیتا ہے ، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تاب و تواں بڑھتی رہتی ہے، چنانچہ یہ نقصان سب سے سوا معلوم ہوتا ہے۔

میری نسل کے لوگوں نے پی ڈی مہاجن کی کتابیں پڑھی تھیں۔ اُس وقت ان کتب کو سچائی کا استعارہ سمجھا جاتا تھا، لیکن آج احساس ہوتا ہے کہ ان کتابوںمیں سچائی کومسخ کر دیا گیا تھا۔ اگر دلرمپل کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اُنھوںنے سچائی کو بے نقاب کرنے میں کس قدر جانفشانی اور ایمانداری سے کام لیا ہے۔ آج کتابیں تو دستیاب ہیں، لیکن مَیں سوچتا ہوں کہ کیا ہماری نوجوان نسل کو اپنی تاریخ سے کچھ دلچسپی بھی ہے ؟اس کا جواب نفی میں ہی آتا ہے ،کیونکہ وہ تاریخ کو بے کیف اوربے کار سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی بھی ایسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتے، جسے وہ ٹیکسٹ میسج کی صورت میں دوسروں کو نہ بھیج سکیں۔ ان کی اکثریت نے دلرمپل کا نام بھی نہیں سنا ہوگا۔ کسی نے کہا تھا”ماضی کے بغیر کسی قوم کا کوئی مستقبل نہیںہوتا“ تاہم ہماری نوجوان نسل کو جو ذوق ِتن آسانی لگ گیا ہے، اس کے ہوتے ہوئے کسی قوم کا نہ کوئی حال ہوسکتا ہے، نہ مستقبل چند ایک کو چھوڑ کر، زیادہ ترنوجوان کتابوںسے پرہیز کرتے ہیں، چنانچہ لکھنا اُن کی قسمت میں نہیں لکھا ہوا۔ ہاں، ان کے پاس آئی پیڈ ز او ر دیگر ڈیوائسز ہوں گی، لیکن کسی کو کسی بھی زبان ،جو اُسے آتی ہے، میں ایک پیراگراف لکھنے کا کہیں تو صاحبزادے کی پیشانی پر نمودار ہونے والے پسینے کے قطرے الفاظ سے معقول حد تک تجاوز کر جائیںگے۔ چلیں تاریخ کی کتب تو بھاری بھرکم اور ادق ہوتی ہیں، ہم حالیہ واقعات سے بھی لاعلم رہتے ہیں۔ ہم میں سے کتنوںنے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھی ہے؟ کتنے افراد نے آئین ِ پاکستان کو پڑھا ہے؟ کیا آپ کو شکار پور یا ہنزہ وادی کا علم ہے؟

جہاں تک نام نہاد علمی ادبی طبقے کا تعلق ہے تو وہ محض فیشن کے طور پر کتابوں کی تقریب ِ رونمائی میں شرکت کرتے ہیں۔ وہاں وہ دیکھا دیکھی مصنف کے دستخط والی کتاب خریدتے بھی ہیں، تاہم اس کے بعد وہ شیلف پر رکھی رہ جاتی ہے، اسے کوئی نہیں پڑھتا ۔مجھے یاد ہے بہت سے فیشن ایبل مردو خواتین نوم چومسکی کا لیکچر اٹینڈ کرنے کے بعد اپنے قریب بیٹھے ہوئے شخص سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ صاحب کون تھے؟ اتنی ہی تکلیف دہ یہ بات بھی ہے کہ جب کوئی بڑے فخر سے کہے کہ ایک سرکاری عمارت کا ایک حصہ مسٹر جناح کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے، تاہم جب آپ وہاں جائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ جس مقام کو ان کی لائبریری ، جہاں اُن کے زیر ِ مطالعہ قانونی کتب رکھی گئی تھیں، قرار دیا جارہاہے، وہ محض ایک وال پیپر ہے،چنانچہ مجھے کوئی شک نہیںکہ دلرمپل کو ہمارے ہاں نہیں پڑھا جائے گا۔ ناخواندہ افراد سے کیا گلہ ، تعلیم یافتہ افراد نے بھی اپنے بچوں میں کتب بینی کا ذوق پیدا کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا ہے۔

لاہور میں ولیم دلرمپل کی مذکورہ کتاب کی تلاش سعی ِ لاحاصل تھی۔ شہر میں کتابوںکی سب سے بڑی دکان سے رابطہ کیا، لیکن بے سود۔ بہرحال جی چاہتا ہے کہ کبھی وہ اعلیٰ پائے کا مصنف ، جس کا تعلق سکاٹ لینڈ سے ہے، لیکن وہ بھارت میں مقیم ہے، ہمارے ہاں بھی تشریف لائے اور اس کے ساتھ بیٹھ کرپُرلطف باتیں کرتے ہوئے اعلیٰ مشروبات کا لطف لیا جائے۔ بہرحال جب تک یہ خواہش پوری نہیںہوتی، ”The Return of the King“ سے دل بہلایا جائے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔  ٭

 

مزید : کالم