یاد ماضی عذاب....کل اور آج!

یاد ماضی عذاب....کل اور آج!
یاد ماضی عذاب....کل اور آج!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

                    ان دنوں سینئر قلمکار حضرات یاد ماضی عذاب ہے،یا رب کے دور سے گزر رہے ہیں، عبدالقادر حسن اور حسن نثار تو ایسے حضرات ہیں جو اکثر پرانے ادوار کے حوالے سے طرز زندگی ،تعلقات، دوستی اور رشتوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور تقابل بھی کرتے ہیں، حالیہ دنوں میں کرکٹ کے حوالے سے ہمارے اپنے اخبار کے عسکری کالم نگار کرنل غلام جیلانی نے بھی اعتراف کیا کہ وہ اکثر اس مرض کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ محترم حسن نثار نے تو آج جس سفر کا ذکر کرکے میاں رضا ربانی اور ان کے والد کا ذکر کیا ہے وہ جس قافلے میں گئے اس میں ہم بھی شامل تھے اور یہ سفر فخر زمان کی قیادت میں ورلڈ پنجابی کانگریس کے پلیٹ فارم سے ہوا، اس میں حسن نثار موقع پا کر قافلے سے الگ بھی ہوئے اور انہوں نے مٹھی بھر مٹی کے لئے اپنے پاکستانی اور بھارتی دوست کے ساتھ سفر کیا۔ہم جیسے لوگ جو آج کل ”بونس لائف“ پر ہیں، سبھی اس مرض میں مبتلا رہتے ہیں اور ہم محترم عبدالقادر حسن اور حسن نثار کی طرح وادی سون اور لائلپور(حال فیصل آباد) سے دور نہیں خود اپنے ہی شہر میں رہتے ہوئے اجنبی ہیں کہ آج یہ لاہور وہ لاہور ہی نہیں، نہ تو بازار اور گلیاں اور نہ ہی وہ شخصیات اور معاشرت ہے جو اس داتا کی نگری کی پہچان تھی، بلکہ ہم اکثر مذاق میں کہا کرتے ہیں کہ ” اس اپنے شہر میں ہم اقلیت ہیں“.... آبادی کے پھیلاﺅ اور روزگار کی تلاش میں آنے والوں کے باعث حقیقتاً لاہوریئے اقلیت میں ہی ہیں اور اب توجو تھوڑا بہت ماضی بچا وہ پرانے شہر کی منڈیوں والی چار دیواری کے اندر قید ہو کر رہ گیا اور ہمارے تجارت پیشہ بھائیوں نے راستے بند اور ماحول کو تبدیل کرکے ہم جیسے لوگوں کو بھی شہر چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا اور اب واپس اپنے آبائی محلے جاتے ہوئے بھی سال گزر گئے اور ہم اپنے شہر میں بھی اجنبی ہیں کہ جس آبادی میں ہماری رہائش ہے، وہاں ہم ہیں یا پھر ایک گلزار بٹ ، جو اندرون لوہاری سے دیس بدر ہو کر مصطفےٰ ٹاﺅن میں رہ رہے ہیں، ورنہ پوری بستی میں لاہوریا ڈھونڈھے سے نہیں ملتا، اس لئے جب ہم دونوں سیر صبح کے بعد اکیلے ہوتے ہیں تو پرانی باتیں یاد کرلیتے ہیں۔

آج تو یاد ماضی کا یہ دورہ ہمیں اپنے صاحبزادے کے محکمہ سے آنے والے ایک ڈرائیور کی گفتگوکے باعث پڑا جو پوچھ رہا تھا کہ یہ مہنگائی کیا کرے گی، کیونکہ اونچے طبقے والوں مل مالکان، فیکٹریوں والوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، موت تو ہم غریبوں کے قریب آتی جارہی ہے جو مقررہ آمدنی والے تنخواہ دار لوگ ہیں، اس شخص کی یہ تو معقول بات تنخواہ والے ہم جیسے لوگوں پر بھی صادق آتی ہے، تبھی تو دو روز قبل ہمارے ساتھی عتیق بٹ، محترم قدرت اللہ چودھری کے جواب میں کہہ رہے تھے کہ اب پاکستان میں دو ہی طبقے نظر آ رہے ہیں ایک وہ جو اپر کلاس ہے اور دوسرا غریب، درمیانی طبقہ تو ختم ہوتا چلاجارہا ہے۔قدرت اللہ چودھری کا استدلال تھا کہ غربت کی بات کی جاتی ہے تو لاہور کے فائیو سٹار ہوٹلوں کے ریستورانوں میں جا کر دیکھیں بیٹھنے کو جگہ نہیں ملتی، ہمارے لئے یہ سبھی محترم اور قابل عزت ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ آج کے دور میں درمیانہ طبقہ، نچلے درمیانے طبقے سے ہوتا ہوا غربت تک آ رہا ہے اور غریب تو بس موت کی دعا مانگنے لگا ہے۔

بات یاد ماضی سے چلی کہاں پہنچ گئی۔ہم سے دریافت تو یہی کیا گیا تھا کہ کیا ماضی ایسا ہی تھا تو ہمیں اپنا تعلیمی دور یاد آ گیا، اگرچہ ابتدا تو طرز معاشرت کے باعث مسجد سے ہوئی، تاہم پہلے پرائمری اور پھر ہائی سکول جانے کا دور بھی آ گیا، ہم وطن اسلامیہ ہائی سکول برانڈرتھ روڈ کے بعد اسلامیہ ہائی سکول شیرانوالہ گیٹ میں بھی پڑھے اور وہاں 1949ءسے 1952ءتک زیر تعلیم رہے۔ اس دور میں لوگوں کے ذرائع آمدنی آج کل کی طرح لاکھوں میں تو نہیں تھے لیکن لوگ کھاتے پیتے تھے اور کسی طرف دہائی نہیں تھی۔بکرے کا گوشت ایک روپے سیر تھا۔گھر والے ہمیں چار آنے دے کر پاﺅ گوشت لینے بھیجتے، ہم چاچے قصاب کو سلام کرتے، پھر چار آنے پیش کرکے کہتے دادی نے گول بوٹی کا گوشت لانے کو کہا ہے۔چاچا پیار سے سلام کا جواب دیتے،دادی، تایا اور والد صاحب کا احوال پوچھتے پھر گوشت کا ٹکڑا لے کر اسے صاف کرکے پاﺅ بھر تولنے کے بعد بوٹیاں بنا کر گوبھی کے پتے میں لپیٹ کر ہمارے حوالے کرتے، اسی طرح ایک بڑا تلوں والا کلچہ ایک آنے کا ملتا ،جس پر چاچا دودھ فروش ملائی والی دہی مفت میں ڈال دیتا اور یوں ایک آنے میں ناشتہ بھی ہو جاتا تھا۔سینئرحضرات کو یہ بھی یاد ہوگا کہ آج کے دور کی طرح ہر سکول میں ایک چنے والا ضرور ہوتا جو خلیفہ کہلاتا تھا، کسی کو اس کا نام یاد نہیں ہوتا تھا، ہمارے شیرانوالہ والے سکول میں خلیفہ تھا جو سر پر جناح کیپ نما ٹوپی پہنتے رہتا، ہم گھر سے لاڈ پیار کے عوض چار آنے لے کر سکول آتے تو ہمارے دوستوں کی ٹولی موج اڑاتی تھی۔خلیفہ سے ان چار آنوں کے عوض ہم چھ سات دوست تو مستفید ہو ہی جاتے تھے،یہی حال دیسی گھی اور دوسری اشیاءکا تھا، سبزیاں آنوں اور پیسوں کے عوض آتی تھیں۔آج جب اس دور سے موازنہ کریں تو یہ ایک خواب محسوس ہوتا ہے اور الف لیلیٰ کی داستان لگتی ہے۔

یہ تو زیادہ دور کی بات نہیں،تقسیم ہند کے وقت کا ذکر ہے، جب پرانے شہر کے گرد سرکلر باغات تھے، ان میں جامن اور شہتوت کے درخت تھے تو پھولوں کے کنج بھی تھے۔ باغ کے درمیان سے نہر گزرتی تھی جو ڈویژنل ریلوے ہیڈکوارٹر کے راستے ہوتی ہوئی آتی تھی اور اس کا ماخذ لاہور کینال تھی، ہم لڑکپن میں انہی باغات میں کھیلے اور اسی نہر میں نہایا بھی کرتے تھے۔پھر پہلا وار باغ پر ہوا، باغ کا ایک حصہ سڑک کی صورت اختیار کر گیا۔آج جو سڑک باغ اور مسجد کے درمیان ہے یہ سرکلر باغات کا حصہ تھی اور جہاں آج تین منزلہ پلاسٹک اور چنے وغیرہ کی دکانیں اور اس سے پیچھے کارخانے، گودام اور کیمیکلز کی دکانیں ہیں وہاں تو وہ نہربہتی تھی، اسے بند کرکے ہی تو یہ تجاوز کیا گیا۔یوں آج سرکلر باغات کی شکل اور شہر کی ہیئت تبدیل ہو کر رہ گئی ہے ، اگر اپنے ماضی کو تلاش کرنے کے لئے شہر جانے کا ارادہ بھی کیا جائے تو ہمت نہیں ہوتی کہ اکبری دروازہ تو ہے نہیں۔اکبری منڈی ہے۔یہاں سے پیدل گزر کر باغیچی صمدو جانا ممکن نہیں ہوتا اور اب تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارے اس محلے میں جہاں ہم پیدا ہوئے اب کون کون باقی ہے۔حضرت علامہ ابوالحسنات ان کے صاحبزادے امین الحسنات سید خلیل احمد قادری تو بہرحال اس دنیا میں نہیں ہیں، جائیں تو کس سے ملیں۔

بات طویل ہوتی جا رہی ہے۔رواداری اور استاد شاگرد کے رشتے کی ایک مثال بتا کر بات ختم کرتے ہیں کہ اب تو لکھتے لکھتے خیالات بھی بھٹکنے لگے ہیں اور سینے میں ہوک سی اٹھ رہی ہے۔ہم نے اسلامیہ ہائی سکول شیرانوالہ میں ٹیسٹ دے کر داخلہ لیا اور ساتویں جماعت میں داخل ہوئے تھے، ہمارے محترم ٹیچر ماسٹر یٰسین کی محنت اور توجہ کے باعث ہم تقریباً تمام مضامین میں بہتر تھے، تاہم انگریزی زیادہ اچھی تھی، یہاں محترم استاد یٰسین صاحب کے بارے میں بتاتے چلیں کہ وہ یو پی والے تھے اور ہجرت کرکے شاہ عالمی میں رہائش پذیر تھے۔ہمارے والد صاحب سے ان کے تعلقات کے باعث ان سے ٹیوشن پڑھنے کا موقع ملا وہ خود آر ایم ایس میں ملازمت کرتے اور فاضل وقت میں ہم ایک دو لڑکوں کو پڑھا دیا کرتے تھے۔ان کی توجہ نے ہمیں اچھا طالب علم بنا دیا تھا۔ساتویں جماعت میں انگریزی کے استاد محترم رزاق صاحب تھے۔جب باقاعدہ کلاسیں شروع ہوئیں تو ہم جلد ہی محترم رزاق صاحب کی نظر میں آ گئے ، وہ بھی ہم پر توجہ دینے لگے۔ساتویں پاس کرکے آٹھویں میں گئے تو اساتذہ تبدیل ہو چکے تھے، اس عرصہ میں سکول میں ہمارا ایک گروپ بن گیا جو کھیلوں پر قابض ہوگیا، چنانچہ ہاکی اور کرکٹ وغیرہ کی وجہ سے سبق پر سے توجہ ہٹی،آٹھویں جماعت دسمبر ٹیسٹ کے بعد محترم یٰسین صاحب کی توجہ کے باعث پاس کرلی۔نویں میں انگریزی کے استاد پھر سے رزاق صاحب تھے، وہ بہت خوش ہوئے اور سب لڑکوں سے پہلے ہم سے سوال کرتے، ہم ساتویں جماعت والی چستی نہ دکھا سکے تو ایک روز محترم رزاق صاحب نے ہمیں بلا کر ہدایت کی اور کہا کہ ”ہم پانچ بجے شام ان کی رہائش گاہ (حویلی میاں خان) آ جایا کریں اور ٹیوشن پڑھا کریں، ضائع نہ ہوں تو حضرات یہ اس دور کا چلن تھا۔ہمارے ان استاد محترم نے اس ٹیوشن کے بدلے نہ ہم سے اور نہ ہی کسی اور طالب علم سے کبھی فیس لی، البتہ یہ توجہ وہ صرف انہی طلباءکی طرف دیتے جو ان کے نزدیک اچھے طالب علم تھے اور تعلیم سے توجہ ہٹا کر نکمے ہورہے تھے۔ ٭

مزید : کالم