وفاقی کابینہ کے فیصلے

وفاقی کابینہ کے فیصلے

                        وفاقی کابینہ نے اپنے اجلاس میں بہت سے اہم فیصلے کئے ہیں جن کے مطابق وفاقی ملازمتوں میں صوبائی کوٹہ سسٹم میں بیس سال کی توسیع ، کاشغر سے گوادر تک تجارتی راہداری اور قطر سے ایل این جی درآمد کرنے کے معاہدوں کی توثیق ، کراچی میں گیس سٹوریج ٹرمینل قائم کرنے کی منطوری اور افغان مہاجرین کو2015ءتک پاکستان میں قیام کی اجازت شامل ہیں۔بینوویلنٹ ایکٹ میں ترمیم کی بھی منظوری دی گئی ہے۔یہ فیصلے وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے۔ اس موقع پر وزیرا عظم نے کہا کہ بڑے منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کی ترقی اورخوشحالی کا خواب سچا ثابت ہوگا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں جناب سرتاج عزیر کی بریفنگ اور ان منصوبوں کی منظوری کے بعد وزیر اعظم کی تقریر ہی کو اہمیت حاصل رہی ہے ۔ ارکان کو پوری طرح ان معاملات پر اظہار خیال اور بحث کاموقع نہیں دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق جب کابینہ کے کچھ ارکان نے وفاقی ملازمتوں میںصوبائی کوٹہ کے موجودہ سسٹم میں بیس سال کی توسیع پر اعتراض کیا تو انہیں یہ کہہ دیا گیا کہ یہ معاملہ چونکہ منظوری کے لئے پارلیمنٹ میں پیش ہوگااس لئے اس پر بحث پارلیمنٹ میں ہوسکتی ہے۔ہمارے ہاں یہ عام رواج ہے کہ جب بعض سطح پر کمیٹیوں یا مختلف اداروں میں فیصلے ہوتے ہیں تو بیوروکریٹس کی طر ف سے تیار کردہ منصوبوں پر کسی کو زیادہ غورو خوض کرنے اور ان کی کمزوریوں کی نشاندہی کا موقع نہیں ملتا ، اکثر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اس سطح پر منظوری محض رسمی کارروائی ہے۔ اس طرح ارکان کا محض انگوٹھا لگوانا ایسی میٹنگ کا مقصد ہوتا ہے۔ اس طرح ایسے فیصلوں میں اجتماعی شعور کے استعمال اور سب ارکان کی حقیقی منظوری کو اس میں کچھ دخل حاصل نہیں ہوتا۔ جن منصوبوں اور قوانین کی منظوری کابینہ کے بعد پارلیمنٹ سے بھی لی جانی ضروری ہو، ان کے سلسلے میں بھی کابینہ کی سطح پر ایجنڈا اور اس کی ضروری تفصیلات اراکین کو بھجوائے جانے کے بعدسب کو اپنی رائے دینے اوراختلاف رائے ظاہر کرنے کا حق ملنا چاہئیے۔ کابینہ کی سطح پر اتفاق رائے پیداکرنے کے بعد ہی معاملات پارلیمنٹ میں جائیں تو حقیقی معنوں میں حکومت کی طرف سے بھیجے گئے معاملات کہلوائے جائیں گے ، ورنہ ان کے سلسلے میں فرد واحد یا چند ایک بیوروکریٹس ہی کی خواہشات کی تکمیل کا شبہ رہے گا۔ ایم کیو ایم کی طرف سے بھی وفاقی ملازمتوں میںصوبوں کے کوٹہ پر اعتراض کیا جارہا ہے۔ کوٹہ سسٹم کسی وقت بہت زیادہ کشیدگی کا باعث رہا ہے۔ اس معاملے میں اگر کابینہ کے اجلاس میں بھی پورا غوروخوض کرلیا جاتا تو مناسب تھا۔ اسی طرح قطر سے خریدی جانے والی ا یل این جی کے نرخوں کے سلسلے میں بعض اطراف سے ٹھوس بنیادوں پر اعتراضات کئے گئے تھے ، لیکن حکام کی طرف سے یہ کہا گیا کہ یہ اعتراضات بے بنیاد ہیں کیونکہ ابھی نرخ طے نہیں ہوئے اور معاہدے کی تفصیلات طے نہیں ہوئیں۔ لیکن دوسری طرف معاہدے کی وفاقی کابینہ سے منظوری بھی حاصل کرلی گئی ہے۔

اس طرح کے جتنے بھی معاہدے کرنا مقصود ہوں ، ان کی تفصیلات کم از کم کافی عرصہ قبل میڈیا میں آنی چاہئیں تاکہ ماہرین اور واقفان حال ان پر اپنی آراءاور تجاویز دے کر حکومت کا کام آسان کرسکیں اور سارا معاملہ شفاف طریقے سے آگے بڑھ سکے۔ جس طرح ماضی میں میگا کرپشن ہوتی رہی ہے ، لوٹ لئے جانے والے کھربوں روپے کرپشن مافیا سے واپس نکلوانا دنیا کا مشکل ترین کام بن کر رہ گیا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ قوم کے خزانے سے اس قدر بڑی بڑی رقمیں مختلف منصوبوں پر خرچ کرنے سے پہلے ان کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ قوم کو انرجی کرائسس یا تعمیر و ترقی کے کاموں کے سلسلے میں اتنی بھی جلدی نہیں ہے کہ اربوں کھربوں روپے کے منصوبوں کی منظوری کا کام اتنے محدود پیمانے پر چند ایک ہاتھوں سے طے ہوتا رہے اور بعد میں قوم اپنے لٹ جانے کا بین کرتی رہے اور کوئی پرسان حال نہ ہو۔ شفافیت کا تقاضا یہ ہے کہ دستخط کرنے اور منظوریاں دینے سے پہلے میڈیا کے ذریعے ان منصوبوں کی تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں ۔ کابینہ اور اسمبلیوں میں جو لوگ قومی مفادات کے تحفظ کے لئے محنت اور کوشش کرکے منصوبوں کے کمزور پہلوﺅں کی نشاندہی کریں اور انہیں مزید شفاف اور قومی مفاد میں بنانے کی تجاویز سامنے لائیں ان کی بات سنی جانی چاہئیے۔ بیورکریٹس اور کرپشن مافیا کی طرف سے لائے جانے والے بظاہر پرکشش لیکن اندرون خانہ لوٹ مار والے منصوبوں کی یک طرفہ تحسین اور ،از خود تعریف و توصیف کرنے کے رویے ترک کرکے ان منصوبوں کو فائنل کرنے سے پہلے ماہرین،عوامی نمائندوں اور میڈیا کوان کے منفی پہلوﺅں پر روشنی ڈالنے کی دعوت دی جانی چاہئیے۔ اس مقصد کے لئے ضروری تفصیلات سامنے لانی چاہئیں۔    

گوادراور کاشغر راہداری کی اہمیت اور ضرورت تو ہر کسی پر واضح ہے لیکن اس سلسلے میںچینی حکومت یاکمپنیوں سے ہونے والے سمجھوتہ کی شرائط اور مالی ذمہ داریوں کی ضروری تفصیلات ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آ سکیں۔ بجلی بحران سے لے کر دہشت گردی اور معیشت کی بربادی تک ہر معاملے کے پیچھے میگا کرپشن کے شوقین حکمرانوں کا ہاتھ رہا ہے۔ اب افراد قوم بے حد دکھی دل سے ہر کسی کو ایک ہی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر موجودہ حکمران یہ خواہش رکھتے ہیں کہ انہیں بھی سابقہ میگا کرپشن والے حکمرانوں ہی کا بھائی بند نہ سمجھاجائے تو پھر انہیں اپنے ہر معاملے میں شفافیت اور میرٹ کو ملحوظ رکھنا ہو گا۔ اب تک متعدد ایسے معاملات سامنے آچکے ہیں جنہوں نے قوم کے کان کھڑے کر دئیے ہیں۔ عدلیہ بھی بہت سی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کررہی ہے۔ جس کے بعد عوام معاملات میں کوئی واضح تبدیلی دیکھنے سے ابھی تک محروم ہیں ۔ اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ بڑے بڑے منصوبوں کے شاندار اور قوم کا مقدر بدل دینے والے منصوبوں کا ڈھونڈورا پیٹنے کے بجائے ان میں شفافیت لائی جائے اور ان کے مالی معاملات سے متعلق قوم کو اعتماد میںلیا جائے۔

افغان مہاجرین ہمارے مسلمان بھائی ہیں ، جن کے اپنے ملک میں بگڑے ہوئے حالات کے پیش نظر ہم نے انہیںاپنے ہاں قیام کی اجازت دی اور ان کی ضرورتوں کاخیال رکھا۔لیکن ان کی آڑ میں بعض تخریب کار بھی اپناکام کرنے میں آسانیاںتلاش کرتے رہے ہیں۔ یہ لوگ 2015ءتک پاکستان میں رہیں یا اس کے بعد تک ۔ لیکن ان سب کے لئے شناختی کارڈبنانے اور انہیں پوری طرح ملکی نظم و نسق اور قانون کے دائرے میں لانے کے کام سے بھی کوتاہی نہیںبرتی جانی چاہئیے۔ اس چیز پر بھی نظر رکھنی چاہئیے کہ اس وقت ہمارے ہاں دہشت گردی کی وارداتوں میں مصروف زیادہ تر لوگ بیرون ملک سے ہی آرہے ہیں ۔ ان کے لئے آسان رابطے اور معاونت اپنے وطن سے آئے ہوئے لوگوں میں ڈھونڈنا دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے۔ افغانستان سے آنے والے مہاجرین میں بہت سے سرمایہ دار اورمثبت طور پر پاکستانی معیشت کوآگے بڑھانے والے بھی ہیں جن کی ہمیں ہر لحاظ سے قدر کرنی چاہئیے۔ سرمایہ داروں کے علاوہ ان کا ہر محنت کش اور رزق حلال کے لئے کوشش کرنے والافرد پاکستانی حکومت اور عوام کی توجہ اور تعاون کا مستحق ہے۔

کابینہ کے اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی رابطوں کے دوسرے مرحلے میں اقتصادی راہداری کے بعد اس سے ملحقہ علاقوں میں اقتصادی زون بھی قائم کئے جائیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اقتصادی راہداری سے خطے کے تین ارب افراد کو فائدہ پہنچے گااورپاکستان سے غربت و افلاس کاخاتمہ ہوجائے گا۔ ظاہر ہے کہ شفاف اور درست طریقے سے ہونے والے تمام ترقیاتی کاموں سے قوم و ملک کوفائدہ پہنچتا ہے۔حکومتوں اوران کے اداروں سے توقع ہی یہ کی جاتی ہے کہ وہ ہر آن قوم کو آگے ہی آگے لے جانے کے لئے سرگرم رہیں۔ ملکی وسائل اورغیر ملکی تعاون سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں اور دنیابھرمیں مواقع تلاش کریں۔ ہر کام بروقت اورمناسب طریقے سے کریں ، قوم کو اعتماد میں لے کر کریںاورموجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق سابقہ حکمرانوں کی ڈسی ہوئی قوم کی نظروں تلے ہر کام شفاف طریقے سے کیا جائے۔سوجھ بوجھ رکھنے والے تمام لوگ جانتے ہیں کہ ترقی سڑکوں کے ساتھ سفر کرتی ہے۔ جہاں جہاں سٹرکیں اور اچھے ذرائع رسل و رسائل پہنچ جاتے ہیں وہاں ہونے والی ترقی کا اندازہ ان علاقوں کی زمینوں کی قیمت میں ہونے والے فوری اضافے سے کیا جاسکتا ہے۔ کاشغر سے گوادر تک تعمیر ہونے والی ریلوے لائن یا سٹرکیں پاکستان کے انتہائی جنوب سے انتہائی شمال تک پہنچ کر چین کے انداراس کے ایک بڑے صنعتی اور تجارتی مرکز کاشغر تک جائیں گی۔ اس طرح پاکستان جنوب سے شمال تک ذرائع آمد ورفت کی جدید سہولتیں حاصل کرسکے گا۔جس سے ہماری جدید ترین گہرے پانیوں والی بندرگاہ میں آنے جانے والاتجارتی سامان پاکستان میں ہر کہیں باآسانی پہنچنے کے علاوہ چین اور پھر وسط ایشیا تک بھی پہنچے گا۔ اس طرح یہ راہداری ہمارے دو ملکوں ہی کے درمیان تجارت کے لئے نہیں پورے خطے کی تجارت کے لئے بے حد مفید ثابت ہوگی۔ اس کے فوائد یقینا غیر معمولی ہوں گے۔ یہ بات لائق ستائش ہے کہ حکومت کے منصوبوں میں ان سٹرکوں اور ریلوے لائن کے ساتھ تجارتی اورصنعتی مراکز قائم کرنے کے پہلوﺅں کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اس سے واضح ہو رہا ہے کہ پاکستان کو صرف خطے میں تجارتی کاریڈور بنانے ہی پر اکتفاءنہیں کیا جائے گا بلکہ ملک کو صنعت اور تجارت میں ترقی دے کر خطے میں ایک بڑی معاشی قوت بنانے کی طرف لے جایا جائے گا۔ ان تمام منصوبوں کے متعلق تفصیلات جتنی جلدی اور جس قدر زیادہ تفصیل سے عوام کے سامنے لائی جاسکیں قوم کے اعتماد میں اتنا ہی اضافہ ہوگا ، اور حکومت کو بھی اپنے کام کی صحیح تحسین حاصل ہوسکے گی۔ ٭

مزید : اداریہ