سمندرکے ذریعے لاکھوں روپے کا سامان ملک میں سمگل ہو رہا ہے،ناصر حمید

سمندرکے ذریعے لاکھوں روپے کا سامان ملک میں سمگل ہو رہا ہے،ناصر حمید

 لاہور(وقائع نگار)ممبر لاہور چیمبرز آف کامر س اینڈ انڈسٹری و پاکستان آٹو موبائل سپیئرپارٹس امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن(پاسپیڈا) کی سینٹر ل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر ناصر حمیدخاں چیئرمین اینٹی سمگلنگ کمیٹی لاہور چیمبر نے کہا ہے کہ ملک میں 39سمندری راستوں سے لانچوں کے ذریعے اربوں روپے مالیت کا سامان غیر قانونی طور پر ملک میں سمگل ہورہا ہے ان راستوں میں صرف سات کی نگرانی کی جاتی ہے جبکہ 32راستوں پر نگرانی کا کوئی انتظام نہ ہونے کے باعث سمگلنگ کا ناسور تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے باعث مقامی انڈسٹری تباہی کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ غیر قانونی اشیاءکی سمگلنگ زیادہ تر افغانستان اور ایران سے ہورہی ہے اس کی وجہ ایک ہزار کلومیٹر سمندری پٹی ہے جہاں سے چیزیں لائی اور لے جائی جاتی ہیںناصر حمید نے کہا کہ سمگلنگ کا ناسور کرپشن کے جن کو بوتل میں بند کرکے ختم کیا جاسکتا ہے سمگلنگ سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے

ضرورت اس امر کی ہے کہ سمگلنگ کی روک تھام کرکے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچایا جائے اور مقامی انڈسٹریز کو تباہی سے بچایا جائے کپڑا، الیکٹرانک ،کاسمیٹک، کیمیکل سمیت دیگر چیزین سمگل ہوکر پاکستان آتی ہیں جبکہ پچھلے سالوں میں 52ہزار گاڑیاں بھی سمگل ہوکر پاکستان آئیں ۔ انہوں نے کہا کہ قانونی طریقوں کے مقابلے میں غیر قانونی تجارت کے حجم میں اضافہ ہورہا ہے اس کی بڑی وجہ ڈیوٹیوں کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہے ڈیوٹی کی شرح میں کمی سے سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کی جاسکتی ہے تاکہ ملک کے ریونیو میں اضافہ ہو اور حکومت معاشی بحران سے باہر نکل سکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1