مال کے غلام

مال کے غلام
 مال کے غلام

  



مالک وہ ہوتا ہے جو اپنا مال بانٹ دیتا ہے اور غلام وہ ہے جو اسے سنبھال کے رکھتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ہمیں سمجھ نہیں آتا، لیکن اس بات پر غور کرنے سے پہلے ایک واقعہ۔

مدینہ منورہ اس روز گہری اور پُر سکون خاموشی میں ڈوباہوا تھا۔اچانک لوگوں کوشور سنائی دیا۔یہ ایک لمبے چوڑے قافلے کی خبرتھی۔ لوگوں نے پوچھاآج مدینہ میں کیا ہوگیا ہے؟ جواب ملا یہ عبدالرحمن بن عوفؓ کا قافلہ ہے جو شام سے مال تجارت لے کر آیا ہے۔کیاقافلہ اتنا بڑا ہے؟ لوگوں نے پوچھا: ہاں! یہ قافلہ سات سو اونٹوں پر مشتمل ہے اور یہ سارا سامان مدینہ کے غربا میں تقسیم ہو گا! حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اپنے عہد میں جزیرہ نمائے عرب کے سب سے مالدار تاجر۔۔۔ آپؓ کہا کرتے تھے کہ ’’ مَیں اگر پتھر اٹھاتا ہوں تو اس کے نیچے سونا اور چاندی پاتا ہوں‘‘۔

حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے اپنی زندگی کا آغاز غربت سے کیا۔ جب مسلمان مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے اور مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے جناب عبدالرحمن بن عوفؓ کو حضرت سعد بن ربیع ؓ کا بھائی بنایا۔ ’’سعد نے عبدالرحمن سے کہا: بھائی ! مَیں مدینہ میں سب سے زیادہ مالدار ہوں، میرا آدھا مال لے لو، اور میری دو بیویاں ہیں جو تمہیں پسند آئے مَیں اسے طلاق دے دیتا ہوں تم اس سے شادی کرلو‘‘۔

عبدالرحمن بن عوفؓ نے ان سے کہا:’’اللہ تعالیٰ تمہارے اہل و عیال اور مال میں برکت فرمائے ! مجھے تم صرف بازار کی راہ دکھا دو‘‘۔ پھر آپؓ بازار گئے، کچھ مال خرید کر فروخت کیا اور نفع کما لیا۔آپؓ نے ایک روز اپنے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ’’ اے ابن عوف! تم دولت مند ہو ،تم سست روی سے جنت میں داخل ہو گے۔ لہٰذا اللہ کو قرض دو ،تمہارے قدم کھول دیئے جائیں گے‘‘۔۔۔ جس روز سے آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے یہ نصیحت بھرے کلمات سنے ، آپؓ اپنے رب کو قرض حسنہ دینے لگے اور اللہ بھی اس کو کئی گنا بڑھاتا رہا۔ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا ۔حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ صدقہ و انفاق کرنے والے اس اولین گروہ میں شامل تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے عطیہ کی وصولی کے بعد جناب عبدالرحمنؓ سے پوچھا: عبدالرحمنؓ ! کیا اہل خانہ کے لئے بھی کچھ چھوڑا ہے؟ جناب عبدالرحمنؓ نے جواب دیا:یا رسول اللہ ﷺ ۔۔۔ مَیں نے ان کے پاس وہ اجر چھوڑا ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ نے وعدہ فرمایا ہے۔

اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آپؓ نے پچاس ہزار دینار فی سبیل اللہ تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ اسلام میں سب سے بلند مرتبہ لوگ وہ سمجھے جاتے ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔ انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے زندہ اصحاب میں سے ہر ایک کو چار ہزار دینار دینے کی بھی وصیت کی۔ اپنے ورثاء کے لیے کئی ہزار اونٹ، گھوڑے اور بکریاں ترکہ میں چھوڑ گئے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ آپؓ ہمیشہ اس دولت سے خائف رہے ۔ ایک روز آپؓ کے سامنے افطاری کا کھانا رکھا گیا ، کھانے پر آپؓ کی نظر پڑی تو آپؓ رو پڑے اور کہا: ’’مصعب بن عمیر شہید ہوئے ۔ انہیں ایک چادر میں کفنایا گیا ، اگر ان کا سرڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہوجاتے اور اگر پاؤں ڈھانپا جاتا تو سرننگا ہو جاتا۔حمزہؓ شہید ہوئے۔ ان کے کفن کے لئے ایک چادر کے سوا کچھ نہ ملا۔ پھر دنیا ہمارے سامنے خوب پھیلا دی گئی اور ہمیں اس سے بہت کچھ عطا ہوا۔ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں ہماری نیکی کا بدلہ ہمیں یہاں ہی نہ دیدیا جائے‘‘۔ جناب عمر فاروقؓ کے بعد نئے خلیفہ کا انتخاب ہونے لگا توکچھ جید صحابہؓ جناب ابن عوفؓ کی طرف اشارے کرنے لگے ۔ اس موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا:’’اللہ کی قسم! اگر چھری لے کر میرے حلق پر رکھ دی جائے اور پھر اسے ایک طرف سے دوسری طرف پھیر دیا جائے تو یہ چیز مجھے خلافت سے زیادہ پسند ہے‘‘۔کیا کسی اہلِ اقتدار نے اس بات پہ غور کیا۔

یہ ہے اسلام کے ایک مالدار اور دولت مند شخص کی کہانی۔ کوئی ہے جو عبدالرحمن بن عوف کی اس روایت پہ چل سکے۔ کوئی بادشاہ، سلطان، شیخ، کوئی وزیرِ اعظم ، کوئی صدر ، کوئی گورنر، کوئی مشیر۔حضرت ابن عوفؓ اپنے مال کے غلام نہیں مالک تھے یہی وہ نکتہ ہے جو ہمیں سمجھ نہیں آتا۔ مالک وہ ہوتا ہے جو اپنا مال بانٹ دیتا ہے اور غلام وہ ہے جو اسے سنبھال کے رکھتا ہے۔

مزید : کالم


loading...