سانحہ ماڈل ٹاﺅن، اندراج مقدمہ کی درخواست دوسرے جج اکمل خان کو ارسال ،نوٹس جاری

سانحہ ماڈل ٹاﺅن، اندراج مقدمہ کی درخواست دوسرے جج اکمل خان کو ارسال ،نوٹس ...

لاہور (نامہ نگار )ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج طارق افتخار نے میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، حمزہ شہبازشریف، سابق وزیر اقانون رانا ثناءاللہ، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، پرویز رشید، عابد شیر علی اور چودھری نثار علی خان وغیرہ کے خلاف سانحہ ماڈل کا مقدمہ درج کرانے کے لئے دائر درخواست مزید سماعت کے لئے ایڈیشنل سیشن جج اکمل خان کو بجھوا دی ہے ۔فاضل جج نے فریقین کو 5اگست کے لئے نوٹس جاری کردیئے ہیں ، قبل ازیں مذکورہ درخواست کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج صفدر علی بھٹی کر رہے تھا تاہم گزشتہ روز انہوں نے اس موقف کے ساتھ درخواست سیشن جج کو بجھوا دی کہ وہ عید اور موسم گرما کی چھٹیوں پر جا رہے ہیں لہذا معاملے کی سنگینی کے پیش نظر درخواست کو کسی دوسری عدالت میں بجھوا دیا جائے تاکہ ا س کی سماعت میں خلل نہ آ سکے ۔فاضل سیشن جج نے اس استدعا کو منظو رکرتے ہوئے درخواست مزید سماعت کے لئے ایڈیشنل سیشن جج اکمل خان کو بجھوا دی۔ دریں اثناءسانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ ٹیم کے ممبر نے اپنی مکمل رپورٹ فاضل عدالت میں پیش کر دی ۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لئے مذکورہ درخواست منہاج القرآن سیکریٹیریٹ کے ڈائریکٹر ایڈ منسٹریشن جواد حامد نے دائر کر کھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 16اور17جون کی درمیانی شب منہاج القرآن سیکریٹیریٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری ڈی آئی جی (آپریشنز)رانا عبدالجبار کی قیادت میں سیکریٹیریٹ کے باہر لگی رکاوٹیں ہٹانے میں مصروف تھی ۔ اس موقع پرایس پی ہیڈ کوارٹر، ایس پی سکیورٹی، ایس ایچ او کاہنہ اور ایس ایچ او نشتر ٹاﺅن وغیرہ بھی موجود تھے ۔سائل نے جب پولیس قیادت کو بتایا کہ مذکورہ رکاوٹیں چار سال قبل عدلیہ اور اور پولیس کی ہدایت پر کھڑی کی گئی تھیں تو اسے جواب دیا گیا کہ رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ طاہرا لقادری کے خاندان کا نام و نشان مٹا دیا جائے چاہے ا س کے لئے خون ہی کیوں نہ بہانا پڑے ۔ درخواست میں مزید کیا گیا ہے کہ توڑ پھوڑ کا شور سن پر وہاں لوگ اکٹھاہونا شروع ہوئے تو پولیس نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کے ساتھ آئے ہوئے بلڈوزروں کا رخ سیکریٹیریٹ کے رہائشی حصے کی جانب ہوا تو بہت سی خواتین ڈھال بن کر آ گے آ گئیں ۔ اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز نے پولیس کو حکم دیا کہ میں تین تک گنتا ہوں اگر خواتین سامنے سے نہ ہٹیں تو ان پر گولیاں چلا دی جائیں یہ کہہ کر ڈی آئی جی آپریشنز نے گنتی گننا شروع کر دی اس کے تین تک پہنچتے ہی پولیس نے سیدھی فائرنگ شروع کر دی اس دوران ایک گولی تنزیلہ احمد کے چہرے پر لگی جبکہ وہاں موجود پولیس افسر طارق عزیز کے ہمراہی ایک اہلکار نے شازیہ مرتضی کی گردن پر گولی مار دی بعد ازاں دونوں خواتین جان کی بازی ہار گئیں۔اس دوران صفدر حسین، عمر ، اقبال ، عاصم حسین، غلام رسول بھی گولیوں کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔آپریشن کے دوران پولیس نے سیکرٹریٹ کے استقبالیہ پر بیٹھے عبدالمنان وارثی کو بھی زدو کوب کیا اور کارکنوں سے لائسنسی اسلحہ چھین لیا گیا۔پولیس نے نہ صرف گوشہ درود کی حرمت پامال کرتے ہوئے اس پر گولیں برسائیں بلکہ وہاں سے قیمتی سامان بھی لوٹ لیا ۔اس سارے عمل کے دوران پولیس اور حکمرانوں کا چہیتا گلو بٹ سیکرٹریٹ کے سٹاف اور مہمانوں کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرتا رہا ۔لہذا عدالت سے استدعا ہے کہ مذکورہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں ۔

درخواست ارسال

مزید : صفحہ آخر