کسٹم اینٹی سمگلنگ یونٹ کھلے بازاروں سے خریدی گئی اشیاءکو ضبط کر نے لگا

کسٹم اینٹی سمگلنگ یونٹ کھلے بازاروں سے خریدی گئی اشیاءکو ضبط کر نے لگا

                                    لاہور(شہباز اکمل جندران،انویسٹی گیشن سیل)کسٹمز حکام اوپن مارکیٹ سے خریدی گئی اشیا کو سمگلنگ قرار دیکر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے لگے ہیں۔ اورکسٹم اینٹی سمگلنگ یونٹ نے کھلے بازاروں سے خریدی گئی اشیاءکو سمگلنگ کے الزامات کے تحت ضبط کرنا شروع کردیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے قائمقام چیئرمین شاہد حسین اسد کا کہناہے کہ کسٹمز اینٹی سمگلنگ یونٹ ایسے خریداروںکے خلاف کارروائی کرتی ہے جو سمگلروں سے ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر ملک میں لایا جانے والا مال خریدتے ہیں۔معلوم ہواہے کہ کسٹمز کو ملک کی سرحدوںکاتجارتی محافظ قرار دیا جاتا ہے۔تاکہ لگثرری اشیاءکو ملک میں کھلے عام نقل وحرکت اور دستیابی کوروکتے ہوئے مقامی اشیا کی مارکیٹ کو مضبوط کیا جاسکے۔جعلی اور مصنوعی اشیا ءکی ملک میں آمد کو روکا جاسکے۔ غیر ملکی درآمدی اشیا کو ملکی قوانین اور سماجی ضروریات کے تحت مناسب ڈیوٹی کی وصولی کے بعد ملک میں لائے جانے کی اجازت دی جائے ۔ اور ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر ملک میں غیر ملکی جائز اور ناجائز اشیا کی آمد کو روکا جاسکے۔اس سلسلے میں کسٹم میں قائم اینٹی سمگلنگ یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ لیکن ذرائع سے معلوم ہواہے کہ کسٹم اینٹی سمگلنگ کا یہ یونٹ معمول میںاپنے اختیارات سے نہ صرف تجاوز کرتا ہے ۔ بلکہ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے احکامات کو بھی نظر انداز کررہا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں SC 440 PLD 1962اور 1995 کے SC MR 387میں قرار دیا گیا ہے کہ سمگلنگ کا اطلاق صرف ملکی سرحدوں پر ہی ہوسکتا ہے ۔اور ممنوع اشیا مثلاً منشیات و ناجائز اسلحہ وغیر ہ کے علاوہ ملک کے اندر کھلے بازاروںسے کوئی بھی ایسی چیز جس کی خریداری پر متعلقہ دکاندار سے رسید حاصل کی گئی ہو، خواہ تعداد یا مقدار کتنی بھی زیادہ ہوتو اس کی نقل وحرکت کو سمگلنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔اور نہ ہی ایسی اشیا یا مال کو سمگلنگ کے زمرے میں ضبط کیا جاسکتا ہے۔تاہم سپریم کورٹ کے ان احکامات کے باوجود کسٹم حکام اپنی روش تبدیل کرنے کو تیارنہیں ہیں۔اورکسٹمز اینٹی سمگلنگ کا سٹاف کالا شاہ کاکو، مینار پاکستان، ٹھوکر نیا زبیگ اور بابو صابو کے علاوہ شہر کے دیگر خارجی اور داخلی راستوں پر ناکے لگا کر جائز طریقے سے خرید ی گئی اشیا اور سامان کو سمگلنگ کے الزامات میں ضبط کرتے ہیں۔جبکہ ان کا خاص نشانہ ایسے مسافر ہوتے ہیں۔ جو پشاور اور دیگر باڑہ مارکیٹوں سے کپڑا ، کاسمیٹکس اور ایسا دیگر مال لیکر آتے ہیں۔ خواہ ان کے پاس دکاندار کی باقاعدہ رسید بھی موجود ہو۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے قائمقام چیئرمین شاہد حسین اسد کا کہنا تھا کہ کسٹمز اینٹی سمگلنگ یونٹ کسی قانونی جواز کے بغیر ملک کے اندر خریداری کرنے والو ں کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی۔ یہ ایسی صورت میں ہوتا ہے۔ جب عام خریدار کسی سمگلر سے مال خریدتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ وہ بہر صورت ممبر کسٹمز سے کہیں گے کہ مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ حقیقی خریداروں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید : صفحہ آخر