نوٹس پر خوشی، افتخار چوہدری کو پتہ ہونا چاہئے تربیت مقابلے کی ہے: عمران خان

نوٹس پر خوشی، افتخار چوہدری کو پتہ ہونا چاہئے تربیت مقابلے کی ہے: عمران خان
نوٹس پر خوشی، افتخار چوہدری کو پتہ ہونا چاہئے تربیت مقابلے کی ہے: عمران خان

  


لاہور (ویب ڈیسک) عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت ہوگی تو بجلی، ریل ہو گی، دھاندلی سے جمہوری حکومت نہیں بن سکتی، دھاندلی کے خلاف پہلی مرتبہ عوام سڑکوں پر نکلے۔ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ تک گئے، جسٹس (ر) افتخار محمد چودھری کی جانب سے نوٹس ملنے پر خوش ہوں، اب سب کچھ سامنے لاﺅنگا، عوام کو بتائیں گے دھاندلی کس نے اور کس طرح کی،’ جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری کو پتہ ہونا چاہئے کہ میری تربیت مقابلہ کرنے کی ہے، انصاف نہ ملنے پر احتجاج کرنا میرا حق ہے‘۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ انصاف نہ ملے تو سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، دھاندلی سے جیتنے والے تبدیلی نہیں آنے دینگے، سستی روٹی سکیم سب سے پہلے تحریک انصاف نے شروع کی تھی لیکن شہباز شریف نے سستی روٹی سکیم سے تین ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔اُنہوں نے کہاکہ 30 اپریل کو خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات کیلئے تیار تھے،صوبے میں سو فیصد لوگ تحریک انصاف کو ووٹ دینگے، بجلی کا نظام خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیا جائیگا۔اُنہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں کرپشن عروج پر تھی،ن لیگ کو مقابلہ کرنا نہیں آتا، آزاد عدلیہ کے بغیر انتخابات شفاف نہیں ہو سکتے، انتخابات میں آر اوز الیکشن کمیشن کے نیچے نہیں تھے اور پھر افتخار محمد چوہدری کس طرح آر اوز کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے؟ نوٹس ملنے پر خوش ہوں، اب سب کچھ سامنے لاﺅنگا، عوام کو بتائیں گے دھاندلی کس نے اور کس طرح کی۔

عمران خان کاکہناتھاکہ آرٹیکل 245 نافذ کرنا غیرجمہوری ہے، شریف فیملی اور بادشاہت میں کوئی فرق نہیں، باریاں لینے کیلئے بچے شہزادے اور شہزادی بن گئیں، آصف علی زرداری دلیر آدمی ہیںلیکن موجودہ حکمران سودے بازی شروع کردیتے ہیں۔پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہاکہ کارکن 14 اگست کو پوری تیاری سے نکلیں، مطالبات کی منظوری تک واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، مڈٹرم انتخابات آئین کا حصہ ہیں۔

ایک سوال پر کہا کہ طاہر القادری سے اختلاف نظام کی درستگی کیلئے طریقہ کار پر ہے، طاہر القادری انقلاب کے ذریعے نظام تبدیل کرنا چاہتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی انتخابی اصلاحات سے نظام تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ایک سوال کے جواب پر عمران خان کاکہناتھاکہ پنجاب پولیس فیصلہ کرے کیا وہ حکومت کی نوکر ہے، پرامن احتجاج روکنا خونی انقلاب کو دعوت دینا ہے۔

مزید : لاہور /اہم خبریں