شفٹوں میں کام کرنے والوں میں ’شوگر ‘ کے مرض کے خطرات زیادہ

شفٹوں میں کام کرنے والوں میں ’شوگر ‘ کے مرض کے خطرات زیادہ
شفٹوں میں کام کرنے والوں میں ’شوگر ‘ کے مرض کے خطرات زیادہ

  


لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک بین الاقوامی سائنسی مطالعے سے انکشاف ہواہے کہ جو لوگ شفٹوں میں کام کرتے ہیں اُنہیں ذیابیطس(شوگر) دوم لاحق ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

 جریدے آکوپیشنل اینڈ انوائرمینٹل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مرد جو بار بار تبدیل ہونے والی شفٹوں میں کام کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں، شفٹوں میں کام کرنے کی وجہ سے جسم کا وقت کا حساب رکھنے والا اندرونی نظام منتشر ہو جاتا ہے جس سے وزن بڑھتا ہے، ہارمونز کی مقدار میں خلل پڑتا ہے اور نیند متاثر ہوتی ہے۔یہ تمام اسباب مل کر ذیابیطس (شوگر) لاحق ہونے کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

سوا دو لاکھ افراد پر کی جانے والی یہ تحقیق کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کو دن کے وقت سلانے کے بعد چند ہفتوں کے اندر اندر ذیابیطس دوم کی ابتدائی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔

برطانوی تنظیم ڈایابیٹس یوکے نے کہا کہ شفٹوں میں کام کرنے والے افراد کو زیادہ صحت مندانہ اور متوازن خوراک کھانی چاہیے،ذیابیطس سے خون کی نالیوں اور اعصاب کو نقصان پہنچنے کے علاوہ نابینا پن، دل کی بیماریوں، گردوں کی بیماریوں اور فالج جیسے سنگین امراض میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ مردوں کو لاحق اضافی خطرے کا باعث ممکنہ طور پر مردانہ ہارمون ہو سکتے ہیں۔

چین کی ہواژونگ یونیورسٹی میں کی جانے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ شفٹوں میں کام کرنے والوں میں ذیابیطس دوم کا خطرہ نو فیصد بڑھ جاتا ہے تاہم مردوں میں یہ شرح 35 فیصد ہے، وہ لوگ جو کبھی رات اور کبھی دن کی شفٹوں تبدیل کرتے ہیں، ان میں یہ شرح بڑھ کر 42 فیصد ہو جاتی ہے۔ظاہر ہوتا ہے کہ شفٹوں میں کام کرنے والے مردوں کو ذیابیطس سے بچنے کے لیے عام لوگوں کی نسبت کہیں زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ان افراد کو ذیابیطس لاحق ہونے کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ رات کو کام کرنے والے رات کو کھانا کھاتے ہیں جس کے باعث جسم دن کے مقابلے پر زیادہ چربی ذخیرہ کرتا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت