امریکی خفیہ ادارہ سعودی عرب کو ساتھ ملا کر جاسوسی کرتا رہا

امریکی خفیہ ادارہ سعودی عرب کو ساتھ ملا کر جاسوسی کرتا رہا
امریکی خفیہ ادارہ سعودی عرب کو ساتھ ملا کر جاسوسی کرتا رہا

  


ماسکو (نیوز ڈیسک) امریکی سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے لاتعداد راز افشاں کرنے والے سابق امریکی ایجنٹ ایڈورڈ سنوڈن نے حالیہ انکشافات میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان شہریوں کی جاسوسی کے حوالے سے تعاون سے پردہ اٹھایا ہے۔ صحافی گلن گلین والڈ کو مہیا کی جانے والی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب 2013ءکے بعد سے قریباً ہر طرح کی انٹیلی جنس کا تبادلہ کرتے ہیں اور مشتبہ افراد کی مل کر نگرانی بھی کرتے ہیں۔ سنوڈن کے مطابق 1991ءکی ”گلف وار“ کے بعد دونوں ممالک میں محدود سطح پر نٹیلی جنس تعاون تھا لیکن حلیہ وقتوں میں اس میں بے حد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی سیکیورٹی ادارہ سعودی محکمہ داخلہ اور محکمہ دفاع کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مشتبہ افراد یا ممکنہ دہشت گردوں کے بارے میں معلومات کا تبدلہ کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے احتجاج بھی کیا جاتا رہا ہے کہ جاسوسی کے لئے استعمال کئے جانے والے حربے اور سعودی عرب میں قیدیوں سے کئے جانے والا سلوک انسانی حقوق کے منافی ہے۔

مزید : تفریح