صوفی بزرگ مولانا محمد حسین پسروری ؒ

صوفی بزرگ مولانا محمد حسین پسروری ؒ

  

سیالکوٹ کے ممتاز صوفی بزرگ مولانا محمد حسین پسروریؒ کا 66واں سالانہ عرس آج 10 شوال المکرم بمطابق 27 جولائی بروز پیر جامع مسجد محلہ اعواناں رنگ پورہ شریف سیالکوٹ میں صاحبزادہ عبدالحمید آفندی سجادہ نشین درگاہ نقشبندی مجددیہ کی سرپرستی میں منعقد ہو رہا ہے۔مولانا محمد حسین پسروریؒ نے 1370ہجری 1951)ء( میں وفات پائی، تب سے اب تک باقاعدگی سے ہر سال یہاں عرس کا اہتمام ہوتا ہے۔ 1896ء سے 1951ء تک سبھی فرقوں کے مسلمانوں میں حسن سلوک، رواداری اور صلح جوئی کے جذبات پیدا کرنے والے عظیم روحانی پیشوا مولانا محمد حسین پسروریؒ نے ضلع سیالکوٹ میں اشاعت اسلام میں اہم کردار کے علاوہ تحریک پاکستان کے حوالے سے مسلم لیگ اور قائداعظم ؒ کا پیغام عام کرنے کی عملی کوششیں کیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پسرور اور سیالکوٹ میں کانگریس کے حاشیہ برداروں اور یونینسٹوں کا زور تھا اور علاقے کے کم پڑھے لکھے افراد قائداعظم ؒ کی شخصیت کے حوالے سے مثبت یا منفی رائے رکھنے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے۔ مولانا نے امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہؒ کے ساتھ مل کر ہر طرح سے مسلم لیگ کے ہاتھ مضبوط کئے اور لوگوں کو سمجھایا کہ صرف محمد علی جناح ؒ ہی ایسے سچے مسلمان ہیں جو مسلمانان برصغیر کو الگ خطہ زمین دلوا سکتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ مسلم لیگ کے لئے جدوجہد کے دوران میں کانگریس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے آپ کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نواں پنڈ تحصیل پسرور میں یونینسٹ زمینداروں کے مقابلے میں آپ نے خیمے لگا کر مسلم لیگ کی جیت کی راہ ہموار کرنے کے لئے بے تحاشا کام کیا۔ اپریل 1944ء میں قائداعظم ؒ سیالکوٹ تشریف لائے تو مسلم لیگ کے کارکنوں نے آپ کو بھی تقریر کی دعوت دی، مگر آپؒ نے فرمایا: ’’آج محمد علی جناحؒ کا دن ہے، میں صرف ان کے ارشادات سنوں گا‘‘۔ مولانا محمد حسین پسروری ؒ کو جہاں قائداعظم ؒ کی قیادت پر مکمل اعتماد تھا، وہاں آپ ؒ ملک دشمن عناصر کے منفی پراپیگنڈوں کے باوجود پاکستان کے مستقبل سے ہرگز مایوس نہیں تھے۔ آپؒ فرمایا کرتے تھے: ’’پاکستان (پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ) ہی نہیں، بلکہ باقستان (باقی رہنے والی جگہ) بھی ہے۔ آپ پاکستان کو اسلام کا مرکز قرار دیتے اور اس کی خوشحالی اور سربلندی کے آرزومند ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل کو اسلام اور اہل اسلام سے وابستہ قرار دیتے۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے فوراً بعد لٹے پٹے مہاجرین کی دل کھول کر امداد کی اور احباب کو بھی ترغیب دلائی ۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ضلع سیالکوٹ فقر و تصوف میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اور یہاں کے بزرگان دین و اولیائے کرام نے برصغیر میں اسلام کی روشنی گھر گھر پہنچانے میں قابل تحسین خدمات انجام دیں۔ مولانا محمد حسین پسروری ؒ بھی ضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے علم و فضل سے مالا مال خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ 1861ء میں سیالکوٹ کے نواحی علاقے ’’گڈگور‘‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان میں حکیم فتح الدین (وہ مغل بادشاہ شاہجہاں کے وزیر اور درباری موضع بانگے علی پور سیداں پسرور میں نولکھی جاگیر کے مالک تھے) حضرت خواجہ امین شاہ (معروف ولی اللہ) حکیم عمر بخش حکمت پناہ (شاہی حکیم) دل محمد دلشاد پسروری (فارسی شاعر) بڑے بھائی حضرت مولانا نور احمد امرتسری (معتبر عالم دین اور کئی مشہور اسلامی کتب کے مصنف و مترجم) جیسے عالم فاضل افراد موجود تھے۔ مولانا محمد حسین پسروریؒ نے اپنابچپن کوچہ حکیماں محلہ سیداں پسرور میں بسر کیا اور یہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پھر پنجاب اورینٹل کالج لاہور سے منشی عربی فاضل کیا اور گورنمنٹ ہائی سکول پسرور میں مدرس اعلیٰ عربی زبان مقرر ہوئے۔

1925ء میں ’’انجمن تبلیغ اسلام پسرور‘‘ قائم کی جس کے صدر مقرر ہوئے۔ اس انجمن نے ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں اور مرزائیوں میں زبردست تبلیغی کام کیا۔ معروف روحانی بزرگ حافظ فتح الدینؒ کے ہاتھ پر بیعت کرکے سلسلہ نقشبندیہ میں شمولیت کے بعد پسرور سے رنگ پورہ سیالکوٹ منتقل ہوئے اور جامع مسجد محلہ اعواناں میں دینی خدمات کا آغاز کیا۔ ’’تاریخ سیالکوٹ‘‘ کے مطابق یہ مسجد تقریباً اڑھائی سو سال سے روحانی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے۔ یہیں پر آپ کے مرشد حافظ فتح الدینؒ نے تقریباً ایک صدی تک جذب و کیف میں ڈوب کر سلوک و معرفت کے دریا بہا دئیے۔ اسی جامع مسجد اور ملحقہ دربار شریف پر ممتاز عالم دین اور عارف کامل حضرت ہادی نامدارؒ کے ہاتھوں پر حضرت پیر چنن شاہ آلو مہار شریف نے بیعت کی۔ یہیں پر حضرت نور محمد چوراہیؒ اور حضرت بابا فقیر محمد چوراہیؒ نے علم و عرفان کے چراغ روشن کئے۔ مولانا محمد حسین پسروریؒ نے بھی اسی مقام پر مرشد کی ظاہری حیات کے چند سال ان کے ساتھ گزارے اور دین کی اشاعت کا بے پناہ کام کیا۔ مولانا محمد حسین پسروریؒ ہزاروں افراد میں دینی خدمات اور روحانی فیض کا عظیم کارنامہ انجام دے کر 10 شوال 1370 ہجری بمطابق 15 جولائی 1951ء میں دارفنا سے دار بقا کی جانب رخصت ہوگئے۔ آپؒ کا جنازہ نہایت تزک و احتشام سے جناح پارک سیالکوٹ لایا گیا۔ یہ ضلع سیالکوٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا، جس میں تقریباً 40 ہزار افراد نے شرکت کی۔ جنازہ آپؒ کی وصیت کے مطابق حضرت مولانا امام الدین رائے پوری ؒ نے پڑھایا۔

مزید :

کالم -