روس نے ایک ایسا ایٹمی ہتھیار تیا کرلیا کہ امریکہ کو اپنی سلامتی خطرے میں نظر آنے لگی، اس خطرناک ہتھیار کو کسی طرح بھی دیکھنا ہی ناممکن ہے کیونکہ۔۔۔

روس نے ایک ایسا ایٹمی ہتھیار تیا کرلیا کہ امریکہ کو اپنی سلامتی خطرے میں نظر ...
روس نے ایک ایسا ایٹمی ہتھیار تیا کرلیا کہ امریکہ کو اپنی سلامتی خطرے میں نظر آنے لگی، اس خطرناک ہتھیار کو کسی طرح بھی دیکھنا ہی ناممکن ہے کیونکہ۔۔۔

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکہ، برطانیہ اور متعدد یورپی ممالک روس سے جنگ کے خطرے کے پیش نظر مشرقی یورپ کی سرحد پر اپنی فوجیں اور ہتھیار جمع کررہے ہیں لیکن روس نے خاموشی کے ساتھ ان کی پشت پر اپنا ایک ایسا ہتھیار پہنچادیا ہے کہ جس کا انکشاف ہونے پر تمام مغربی ممالک کانپ اٹھے ہیں۔

بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں منعقد ہونے والی انڈرسی وارفیئر ان ناردرن یورپ دفاعی کانفرنس میں تحقیق کار اینڈریو میٹرک نے یہ انکشاف کرکے سب کو لرزا دیا کہ روس نے انتہائی چھوٹے سائز کی ایٹمی آبدوزیں لی ہیں جن کی بڑی تعداد شمالی اوقیانوس کے سمندر میں پہنچ چکی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان آبدوزوں کا ڈیزائن ایسا سمارٹ اور طاقتور ہے کہ یہ ہزاروں میٹر کی گہرائی تک جاسکتی ہیں اور ان کا سراغ لگانا تقریباً ناممکن ہے۔

’یہ ایک کام ہر صورت کر گزرو‘ چین نے مسلمانوں سے اپیل کردی

لوشارک نامی یہ آبدوزیں سائر میں چھوٹی ضرور ہیں لیکن انتہائی تیز رفتار اور طاقتور ہیں اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ایٹمی توانائی اور بیلسٹک میزائلوں سے لیس ہیں۔ اینڈریو میٹرک نے انکشاف کیا کہ ایٹمی توانائی کی صلاحیت کے باعث یہ انتہائی طویل عرصے تک سمندر کی گہرائی میں موجود رہ سکتی ہیں اوران میں موجود بیلسٹک میزائل یورپ اور امریکہ کے کسی بھی حصے کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ اینڈریو میٹرک کے مطابق ان آبدوزوں کو روسی بحریہ کی بجائے وزارت دفاع کی ایک خفیہ برانچ کنٹرول کرتی ہے۔

لوشارک آبدوزوں کے انکشاف نے نیٹو ممالک اور خصوصاً امریکا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی سخت تشویش میں مبتلاءہو چکے ہیں اور اس نئے خطرے سے نمٹنے کے لئے جلد از جلد کوئی حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش میں ہیں ۔

مزید :

بین الاقوامی -