قائم علی شاہ سے رشتہ نہیں ٹوٹا ،2018کے انتخابات کی تیاری کے لیے جوش والا رہنما چاہیے تھا :مولا بخش چانڈیو

قائم علی شاہ سے رشتہ نہیں ٹوٹا ،2018کے انتخابات کی تیاری کے لیے جوش والا رہنما ...
قائم علی شاہ سے رشتہ نہیں ٹوٹا ،2018کے انتخابات کی تیاری کے لیے جوش والا رہنما چاہیے تھا :مولا بخش چانڈیو

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے نئے وزیر اعلیٰ کا اعلان کردیا ہے لیکن قائم علی شاہ سے تعلقات نہیں ٹوٹے ،2018کے انتخابات کی تیاری کے لیے جوش والا رہنما چاہیے تھا،نامزد وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ قائم علی شاہ کا ہی بازو تھے ۔

پیپلز پارٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں بار بار پیپلز پارٹی کی فتح میں قائم علی شاہ کا کردار اہم ہے ،قائم علی شاہ سے تعلق ہمیشہ قائم رہے گا اور پیپلز پارٹی ان سے رہنمائی لیتی رہے گی۔مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کوتبدیل کرنے کا فیصلہ پارٹی نے کیا ہے اس سے قائم علی شاہ کی عزت میں کوئی کمی نہیں آئی ،وہ آج بھی پارٹی کے لیے بیش قیمتی خزانہ ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ قائم علی شاہ کے ہاتھوں کئی بڑے کام ہوئے ،ان کی خدمات پر پارٹی قیادت کو کوئی شک نہیں ہے ۔مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ اب حالات کا تقاضا تھا اور قائم علی شاہ کو بہت مدت گز ر چکی تھی ،2018میں انتخابات کے لیے بھی پارٹی نے تیاری شروع کردی ہے اس لیے ایسے موقع پر ہمت اور جوش والے رہنما کی ضرورت محسوس کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ قائم علی شاہ نے اچھے اور برے وقت میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا اور اپنے عہدے پر بہترین کام کیا ،اس دوران مراد علی شاہ بھی قائم علی شاہ کے بازو بنے رہے ۔ان کا کہنا تھا کہ مراد علی شاہ کی ٹیم بھی ایک دو دن میں سامنے آ جائے گی جن کو قیادت کا اعتماد حاصل ہو گا ،مراد علی شاہ پارٹی اور چیئر مین کی پالیسی پر چلیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ میں ایسا فیصلہ پہلے کبھی نہیں لیا ،بلا ول بھٹو نے صوبائی قیادت کوتبدیل کر کے جرت مند فیصلہ لیا ہے ،بلاول بھٹو نے سب کو ہدایت کی ہے کہ پارٹی کی کامیابی کے لیے بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیں ۔

مزید :

کراچی -اہم خبریں -