پراپرٹی کی قیمت کے تعین کے معاملات مشاورت سے طے کیے جائیں

پراپرٹی کی قیمت کے تعین کے معاملات مشاورت سے طے کیے جائیں

  

لاہور (کامرس ڈیسک) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ محمد ارشد نے مطالبہ کیا ہے کہ پراپرٹی کی قیمت کے تعین کے معاملات سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مرحلہ وار طے کرے اور حکومت اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان طے پانے والے فارمولا کے تحت زمین کے کلکٹر/ڈی سی ریٹ اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق کا پچاس فیصد موجودہ کلکٹر ریٹ میں شامل کرنے کے بجائے پچیس فیصد شامل کیا جائے تاکہ حکومت کی جانب سے پراپرٹی سیکٹر کے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال بتدریج بہتر بنائی اور سٹیک ہولڈرز کے خدشات دور کیے جاسکیں۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ حال ہی میں ہونے حکومتی نمائندوں اور پراپرٹی سٹیک ہولڈرز کے درمیان ہونے والے ایک اجلاس میں فارمولا طے کیا گیا ہے کہ کلکٹر/ڈی ریٹ اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق کا پچاس فیصد موجودہ کلکٹر ریٹ میں شامل کرکے اسے پراپرٹی کی اگلے دو سے چار سالوں کے لیے فیئر ویلیو تصور کیا اور اْسی تناسب سے ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر یہ ہوگا کہ کلکٹر/ڈی سی ریٹ اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق کا پچاس فیصد موجودہ کلکٹر ریٹ میں شامل کرنے کے بجائے پچاس فیصد شامل کرکے پراپرٹی کی فیئر مارکیٹ ویلیو تصور کیا جائے تاکہ سٹیک ہولڈرز پر ٹیکسوں کا زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے کہا کہ کاروباری برادری کو پہلے ہی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اور یہ مشکل حالات کے باوجود کاروبار کرکے اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے کردار ادا کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ تاجر برادری کو ریلیف دیا جائے اور ایسے اقدامات نہ اٹھائیں جن سے کاروباری برادری پر مزید بوجھ پڑے۔ شیخ محمد ارشد نے کہا ایسے اقدامات اٹھانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کو یہ اچھا پیغام ملے کہ پاکستان کاروبار کرنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت فیصلے پر نظر ثانی کرے گی اور زمین کے کلکٹر/ڈی سی ریٹ اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق کا پچاس فیصد موجودہ کلکٹر ریٹ میں شامل کرنے کے بجائے ابتدائی طور پر پچیس فیصد طے کرے گی ۔

مزید :

کامرس -