بلوچستان میں کشمیر یوں کے حق میں ریلیاں

بلوچستان میں کشمیر یوں کے حق میں ریلیاں
 بلوچستان میں کشمیر یوں کے حق میں ریلیاں

  

کشمیر میں بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم اور نہتے مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف بلوچستان کے مختلف اضلاع میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جن میں مختلف سیاسی جماعتوں ، قبائلی معتبرین ، سول سوسائٹی ، طلبا ، ہندوبرادری ،اور عوام نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور مسلمانوں پر مظالم کے خلاف ہرنائی ،ڈیرہ مراد جمالی،قلات ،چمن، پشین، خضدار ،تربت ،دکی ،لورالائی،ژوب،سبی ،قلعہ سیف اللہ،اوستہ محمد ،گنداخہ ،ڈیرہ بگٹی ،صحبت پور ،قلعہ عبداللہ،جعفرآباد ،زیارت و دیگر اضلاع میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ بھارتی مظالم اور کشمیر کے نہتے مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف ریلیوں کے شرکا نے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرنے کے لیے کشمیر ی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اوربھارت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔

جماعت اسلامی کے زیر اہتمام بلوچستان بھر میں یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہوئے سیمینار ،ریلیاں ،مظاہرے اور جلسے منعقد ہوئے۔ یکجہتی کشمیر کی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے مرحوم قائد قاضی حسین احمد نے مظلوم کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آج سے پندرہ سال پہلے یوم یکجہتی کشمیر مناناشروع کر دیا تھا آج سرکاری سطح پر یہ دن منایاجا تا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیریوں کوہندوں کے مظالم سے آزاد کراتے ہوئے ان کی خواہشات اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان میں شامل کیا جائے۔کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے پاکستان کی شہ رگ ہے ۔

کشمیری پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ 65 سال سے بھارت نے ہماری شہ رگ دبوچ رکھی ہے جسے ہندوؤں کے خونی پنجہ سے آزاد کرانے کے لیے لاکھوں کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں لیکن ایسے مذاکرات کو ہر گز قبول نہیں کریں گے جو اصل مسئلے کو پس پشت ڈال کر آلو پیاز کی تجارت کرنے کے لیے کیے جائیں۔ پاکستان کی فوجی و سیاسی حکومتوں نے بار بار مذاکرات کیے 62 ء میں 6 ماہ تک پنڈی، کلکتہ ، کراچی میں میراتھن مذاکرات ہوتے رہے مگر بھارت نے ’’میں نہ مانوں ‘‘اور ’’کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے ‘‘ کی رٹ نے کوئی نتیجہ نہ نکلنے دیا۔ بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کی آڑ میں دھوکا دیا۔ 65ء سال بعد تو اب حکمرانوں کو عقل آ جانی چاہیے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اور گھی نکالنا ہوتو انگلیاں ٹیڑھی کرناہی پڑتی ہیں۔

بھارت کی موجودہ بی جے پی حکومت کشمیر کو مستقل طور پر ہڑپ کرنے سے متعلق اپنے ایجنڈا کی تکمیل کی جلدی میں نظر آتی ہے اس لئے 1931ء سے اب تک آزادی کی تڑپ رکھنے والے کشمیریوں پر ریاستی ظلم و جبر کے جتنے بھی ہتھکنڈے آزمائے گئے۔ بی جے پی سرکار کے حالیہ ہتھکنڈے ان سب سے اچھوتے نظر آتے ہیں کشمیری عوام پر لاٹھی چارج‘ آنسو گیس کی شیلنگ اور ربرفائر کے علاوہ ان پر حقیقی گولیوں کے سیدھے فائر کرنے سے بھی گریز نہیں کررہیں۔ نتیجتاً اب تک ریاستی جبر کا نشانہ بننے والے 40 سے زیادہ کشمیری باشندوں کی شہادتیں ہوچکی ہیں جبکہ زخمی ہونیوالوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ بی جے پی سرکار تو یہ ہتھکنڈے کشمیری عوام کا گزشتہ 68 سال سے جاری آزادی کا سفر روکنے اور انکی آواز دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے جبکہ بھارتی فورسز کے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے اس ظلم وتشدد کے باعث جہاں دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہورہا ہے وہیں اپنے حق رائے دہی کیلئے کشمیریوں کی آواز بھی دانگ عالم میں پھیل رہی ہے جس سے بھارتی تسلط سے انکی آزادی کی منزل اور بھی آسان ہو رہی ہے۔ اس وقت پاکستان کے عوام‘ حکومت اور سیاسی و عسکری قیادتوں کی جانب سے جس دوٹوک انداز میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دیرینہ مسئلہ کشمیر کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے۔ وہ جدوجہد آزادی میں تسلسل کے ساتھ قربانیاں دینے والے کشمیری عوام اور قائدین کیلئے بھی حوصلہ مندی کا باعث بن رہی ہے۔

بھارتی مظالم میں شدت کے باعث اس وقت مسئلہ کشمیر جتنا واضح طور پر دنیا کے سامنے اجاگر ہوا ہے اسکے پیش نظر پاکستانی قوم اور کشمیری عوام پرامید ہیں کہ اب عالمی برادری کشمیری عوام کو حق خودارادیت دلانے میں ضرور معاون بنے گی۔ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی میں شدت پیدا ہونے کے باعث ہی یواین سیکرٹری جنرل بانکی مون نے بھی انگڑائی لی ہے اور بیان جاری کیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں ثالثی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ تاہم امریکہ کی جانب سے کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم کو بھانپ کر بھی جس منافقانہ طرز عمل اور شانِ بے نیازی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے وہ اسکی بھارت نوازی ہی کا عکاس ہے۔ اگرچہ امریکی صدر اوبامہ بھی پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں مگر امریکہ کی جانب سے ہمیشہ پاکستان پر ہی زور دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے بھارت میں دراندازی کا سلسلہ روکے۔ اب پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حق رائے دہی کیلئے آواز اٹھانے والے کشمیری عوام پر بھارتی سکیورٹی فورسز ہی مظالم ڈھا رہی ہیں جس پر عالمی برادری کا ردعمل بھی سامنے آرہا ہے جبکہ اس بار حوصلہ افزاء یہ صورتحال سامنے آئی ہے کہ کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کیخلاف پوری پاکستانی قوم اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ متحد ہو کر عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنے کا تقاضا کررہے ہیں۔

مزید :

کالم -